کیا نصرت فتح علی خان کو شہرت عمران نے دلوائی تھی؟


کیا واقعی معروف گائیکی نصرت فتح علی خان کو بیرونی دنیا میں متعارف کروانے کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے۔ یہ سوال عمران خان کی اس حالیہ گفتگو کے بعد کیا جارہا ہے جس میں انہوں نے نصرت فتح بارے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے۔ اس حوالے سے نصرت فتح علی خان کے قریبی لوگوں کا کہنا یے کی انکے خاندان کی شہرت تو گذشتہ چار سو سال سے ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیشہ خان صاحب نے ہی فنڈ ریزنگ کے لیے عمران خان کو سپورٹ کیا تھا۔
نصرت فتح علی خان کے قریبی رفقاء کا کہنا ہے کہ عمران خان تو کل کی بات ہے، کجا نصرت فتح علی خان اور کجا ایک کرکٹر۔‘ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکیوں میں نصرت فتح خان بہت پہلے سے مقبول تھے اور اس میں عمران خان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ اصل میں تو نصرت فتح علی خان نے عمران خان کو عزت دی اور دنیا بھر میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لیے معاوضے کے بغیر شو کر کے اس کی تعمیر میں مرکزی کردار ادا کیا۔
آج کل پاکستانی سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ آیا نصرت فتح کو بین الاقوامی شہرت دلانے میں عمران خان کا بھی کوئی کردار رہا ہے۔ اس کا آغاز تب ہوا جب عمران اسلام آباد میں ایک فلم فیسٹیول کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے کینسر ہسپتال بنانا تھا تو میں نصرت فتح خان کو اپنے ساتھ انگلینڈ اور امریکہ کے دوروں پر لے جاتا تھا، پاکستانی کمیونٹی سے پیسے اکٹھے کرنے کے لیے۔ کیونکہ میری بڑے بڑے پاپ سٹارز سے واقفیت تھی جیسے مِک جیگر، پیٹر گیبریئل، سٹنگ۔ ان لوگوں کو میں جانتا تھا۔ تو میں نے کئی بار ان کو ڈنرز پر دعوت دی جہاں نصرت پرفارم کرتے تھے۔ یوں سارے ہی لوگ نصرت فتح علی کے فینز بن گئے۔‘
نصرت فتح کے قریبی رفقا نے اس بات کا مطلب یہ لیا کہ شاید عمران یہ کہنا چاہتے تھے کہ انھوں نے نصرت فتح کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ چنانچہ عمران اور نصرت کے ذاتی تعلقات بارے میں مزید جاننے کے لیے بی بی سی نے نصرت کے موسیقی کے سفر میں ان کے ساتھ کئی دہائیاں گزارنے والے ان کے دو ساتھیوں سے بات کی۔ محمد فاروق راﺅ لاہور میں فاروق ریکارڈنگ اسٹوڈیو کے مالک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریکارڈنگ انجنیئر اور میوزک پروڈیوسر بھی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا تعلق نصرت سے تب سے تھا جب انھوں نے 1978 میں ریکارڈنگ شروع کی۔ ’میں اس وقت سے لے کر دنیا فانی سے رخصت ہونے تک نصرت فتح خان کے ساتھ ساتھ رہا۔‘ انھوں نے بتایا کہ نصرت اور عمران کے تعلقات برادرانہ اور دوستانہ تھے۔ فاروق راﺅ کا کہنا تھا کہ نصرت فتح علی خان اور عمران خان کے تعلقات صرف ان دونوں تک محدود نہیں تھے بلکہ ان کا دائرہ ان کے آباﺅ اجداد اور خاندانوں تک پھیلا ہوا ہے اور یہ قیام پاکستان سے پہلے کے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ نصرت فتح علی خان کے والد جبکہ عمران خان کے ننھیال دونوں کا تعلق جالندھر سے تھا اور وہاں ان کے گاﺅں ایک دوسرے کے قریب تھے۔ چونکہ عمران خان کے ننھیال قوالی کے دلدادہ تھے اس لیے ان کا خان صاحب کے گھر آنا جانا ہوتا تھا لیکن جب وہ تقسیم کے بعد پاکستان آئے تو ان کے تعلقات منقطع نہیں ہوئے اور ایک دوسرے کے ہاں آنے اور جانے کا سلسلہ جاری رہا۔
1992 میں آسٹریلیا میں کرکٹ ورلڈ کپ کے انعقاد اور وہاں نصرت فتح خان کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے فاروق راﺅ نے بتایا کہ جب 1992 کے ورلڈ کپ کا اعلان ہوا تو نصرت فتح علی خان بھی وہاں پرفارم کرنے گئے تھے اور وہاں شوکت خانم ہسپتال کے قیام کا بھی کا اعلان ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی خداداد صلاحیتوں اور انتھک محنت کے باعث نصرت فتح علی خان گائیکی کی دنیا پر ہروقت راج کرتے رہے لیکن پہلے ان کے سننے والے زیادہ تر ایشیائی تھے خواہ وہ دنیا کے کسی کونے میں تھے۔ انھوں نے بتایا کہ آسٹریلیا میں ورلڈکپ میں پرفارمنس کے بعد آسٹریلین اور یورپین افراد بھی ان کو سننے لگے۔ تاہم نصرت فتح کے ایک پرانے شاگرد الیاس حسین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ نصرت کی قوال پارٹی میں بطور پرومپٹ خدمات انجام دیتے آئے ہیں۔ دراصل پرومپٹ وہ شخص ہوتا ہے جو کسی شو یا ریکارڈنگ کے دوران مرکزی قوال کے پیچھے بیٹھے کلام یا غزلوں کی کتاب تھامے قوال کو اگلے مصرعے یاد کرواتا یا بتاتا ہے۔ الیاس حسین نے بتایا کہ نہ صرف انھیں نصرت فتح علی خان کے شاگردی کا اعزاز حاصل ہوا بلکہ ان کے بزرگ بھی خان صاحب کے بزرگوں کے شاگرد رہے۔ انھوں نے بڑے فخریہ انداز میں بتایا کہ جب سے وہ استاد چلے آ رہے ہیں ہم ان کے شاگرد اور نوکر چلے آ رہے ہیں۔ ’میں تو ان کا فیملی ممبر ہوں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ان کا فیملی نوکر ہوں۔‘ انھوں نے بتایا کہ جہاں تک نصرت فتح علی خان کے ساتھ تعلق کی بات ہے تو انھیں یہ اعزاز 1977 سے حاصل ہوا لیکن انھوں نے ان کی شاگردی 1983 سے شروع کی۔ الیاس حسین کا بھی ماننا ہے کہ نصرت فتح علی خان اور عمران خان کے بہت قریبی تعلقات تھے۔ ’وہ تو بہت زیادہ قریب تھے۔ ان کے گھروں میں ایک دوسرے لیے دعوتیں ہوتی تھیں۔ جب عمران خان نے ورلڈ کپ جیتا تو نصرت فتح علی خان بھی آسٹریلیا میں تھے۔ عمران خان کے کرکٹ کے میچ تھے اور ہمارے قوالی کے شو تھے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ہم نے کینسر ہسپتال کے لیے اکھٹے دنیا میں دورے کیے اور خان صاحب نے ہسپتال کے لیے شو کیے۔
تاہم الیاس اس سے متفق نہیں کہ عمران کا یورپ یا دنیا میں نصرت فتح علی خان کو متعارف کرنے میں کوئی کردار تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ورلڈ کپ تو بعد میں ہوا، خان صاحب 80 کی دہائی سے یورپ جا رہے تھے اور اس کے بعد انھوں نے پورے دنیا کے دورے کیے۔‘ الیاس حسین نے کہا کہ نصرت فتح علی خان کے خاندان کی شہرت تو گذشتہ چار سو سال سے ہے۔ ’عمران خان کو تو نصرت فتح علی خان نے سپورٹ کیا۔ عمران خان تو کل کی بات ہے، کجا نصرت فتح علی خان اور کجا ایک کرکٹر۔‘ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی لوگوں میں ’نصرت فتح علی خان پہلے سے مقبول تھے اور اس میں عمران خان کا کوئی کردار نہیں تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ نصرت فتح علی خان نے عمران خان کو تو عزت دی اور انھوں نے دنیا بھر میں کینسر ہسپتال کے لیے کسی معاوضے کے بغیر شو منعقد کر کے اس کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔ لہذا اب عمران خان کو نصرت فتح علی خان کے چلے جانے کے بعد اس طرح کے غیر حقیقی دعوے نہیں کرنے چاہئیں۔

Back to top button