کیا نواز شریف اور الطاف حسین کا موازنہ کرنا بنتا ہے؟

ایم کیو ایم پاکستان کی لیڈر شپ نے اپنے جلاوطن قائد الطاف حسین کو برطانیہ کی عدالت سے ریلیف ملنے کے بعد ان کا موازنہ تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف سے کرنا شروع کردیا ہے جسے ناقدین کی جانب سے نامناسب قرار دیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما فاروق ستار نے حال ہی میں اسٹیبلشمنٹ سے گلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک میں نواز شریف اور الطاف حسین سے ہمیشہ دوہرا سلوک روا رکھا گیا ہے، ایم کیو ایم کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا، ہماری سیاسی تقاریر پر رینجرز ہمیں گھسیٹ کر ساتھ لے جایا کرتی تھی جبکہ ملک میں کبھی کسی اورسیاسی جماعت کے ساتھ ایسا رویہ روا نہیں رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ الطاف حسین اور نواز شریف کا موازنہ کسی صورت مناسب نہیں۔ الطاف حسین ایک لسانی جماعت کے قائد ہیں اور ان کی جماعت پر کراچی میں ہزاروں لوگ کے قتل اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے الزامات ہیں جبکہ نواز شریف ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ الطاف حسین کئی عشرے قبل درجنوں مقدمات میں نامزد ہونے کے بعد لندن جا بسے اور برطانوی شہریت بھی لے رکھی ہے تاہم دوسری جانب نواز شریف علاج کی غرض سے لندن گئے ہیں اور اب بھی قومی سطح کی سیاست کر رہے ہیں لہذا ایم کیو ایم کی قیادت کی جانب سے نواز شریف اور الطاف حسین کااس بنیاد پر موازنہ کرنا کہ اسٹیبلشمنٹ دونوں کے ساتھ مختلف سلوک کرتی ہے، لایعنی بات ہے۔
یاد رہے کہ ایک ٹی وی شو میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے یہ بھی بتایا کہ ماضی میں جب الطاف حسین اپنی تقریر کے دوران کچھ غلط کہہ جاتے تھے تو ان سمیت پارٹی کے تمام لوگ انہیں وہ بات کہنے سے روکتے تھے مگر اس کے باوجود وہ متنازع بات کر جاتے تھے۔ فاروق ستار نے یہ بھی بتایا کہ 16 اگست 2016 میں کراچی پریس کلب پر خطاب کے بعد وہ مصطفیٰ کمال اور دیگر پانچ رہنماؤں کے ہمراہ لندن گئے تھے اور الطاف حسین کو چند ماہ تک بحالی مرکز میں رکھ کر ان کا علاج کروایا تھا، لندن والے شخص کو متعدد طبی مسائل رہتے تھے، جس وجہ سے وہ کبھی کبھار حد سے زیادہ بول لیتے تھے مگر انہیں ایک بہت ہی بری عادت تھی، جس سے متعلق وہ کھل کر نہیں بتا سکتے۔ فاروق ستار نے اس بات کا بھی شکوہ کیا کہ الطاف حسین کی تقریر کے بعد انہیں رینجرز کے افسر گھسیٹ کر ساتھ لے جاتے تھے جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ان کی سطح کے اعلیٰ رہنماؤں کے ساتھ ایسا کبھی نہیں کر سکتے تھے۔
متحدہ رہنما کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف بھی اس وقت لندن میں رہائش پذیر ہیں اور ان کا علاج چل رہا ہے لیکن پاکستان میں ان کی جماعت کو کبھی ایسی انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا گیا ہے، جو سلوک ہمارے ساتھ کیا جاتا رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں فاروق ستار نے بتایا کہ ان پر بالواسطہ دباؤ ڈالا گیا کہ سابق میئر کراچی مصطفیٰ کمال کی پاک سر زمین پارٹی کیساتھ اتحاد کریں مگر انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا، فاروق ستار نے یہ بھی کہا کہ ’مائنس الطاف‘ کے فارمولے کو آگے بڑھانے پر ان کی پارٹی کو ’سپیس‘ ملنی چاہئے تھی مگر ایسا نہ ہوسکا۔ فاروق نے اعتراف کیا کہ ان کی پارٹی اور وہ پرویز مشرف کے مارشل لا کے دور میں مزید بہت کچھ کر سکتے تھے مگر منظم طریقے سے بعض کام نہیں کیے، ان کی خواہش تھی کہ وہ مشرف دور میں ’رورل سندھ‘ کو وفاق سے تھوڑی سی خصوصی مراعات دلا کر سندھ سے کوٹہ سسٹم ختم کروائیں مگر ایسا بھی نہ ہوسکا۔
ایک سوال کے جواب میں فاروق ستار نے کہا کہ ماضی میں ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ سے کی گئی ملاقاتی اتفاقی تھی اور وہ انہیں پہلے سے نہیں جانتے تھے، متحدہ رہنما نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک سماجی تقریب میں گئے تھے، جہاں انہیں بتایا گیا کہ تقریب کی ایک کارکن ان سے ملنا چاہتی ہیں جوکہ ان کی فین ہیں۔ فاروق ستار کے مطابق پہلے سے حریم شاہ کی ٹک ٹاک ویڈیوز نہیں دیکھی تھیں اور وہ انہیں نہیں جانتے تھے اور ان کے اصرار پر ہی حریم شاہ کے ساتھ تصاویر بنوائی تھیں، زمانہ طالب علمی کو یاد کرتے ہوئے فاروق ستار نے بتایا کہ جب وہ سندھ میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہے تھے تب لڑکیاں انہیں تنگ کرتی تھیں اور ان سے ملاقات کا وقت بھی مانگتی رہتی تھیں مگر ان کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا۔
متحدہ رہنما کے مطابق وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب ہاؤس جاب کرنے لگے، تب ہی انہیں لوکل الیکشن میں کھڑا کیا گیا اور وہ کونسلر بنے، بعد ازاں وہ جلد ہی 28 سال کی عمر میں کراچی کے میئر منتخب ہوئے، میئر بننے کے بعد کراچی کے کچھ ہسپتال ان کے ماتحت ہوگئے، جن میں ان کی کلاس فیلو لڑکیاں بھی ملازمت کرتی تھیں اور وہ وہی لڑکیاں تھیں جو انہیں یونیورسٹی میں تنگ کرتی تھیں۔ فاروق ستار نے بتایا کہ یونیورسٹی میں تنگ کرنے والی لڑکیوں سے متعلق بہت کچھ سوچ رکھا تھا لیکن جب تک وہ میئر بنے تب تک وہ لڑکیاں مائیں بن چکی تھیں اور وہ ان کے بچوں کو دیکھ کر خاموش رہ گئے اور ان کے ارمان دل کے دل میں ہی رہے۔
