کیا نواز شریف زیادتیاں کرنے والوں سے حساب لے پائیں گے؟

سابق وزیراعظم نواز شریف نے شہباز حکومت بننے کے بعد پہلی مرتبہ ایک دھواں دھار اور جذباتی پریس کانفرنس میں فوجی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کی جانب سے اپنے ساتھ کی جانے والی زیادتیاں نہ صرف گنوا دیں بلکہ یہ دھمکی بھی دے دی کہ اُنکے ساتھ جو کچھ کیا گیا اُسکا حساب دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ایک جھوٹے کیس میں تاحیات نااہل کرنے والے جج حضرات اب فرماتے ہیں کہ یہ ایک کالا قانون ہے، حالانکہ یہ ایک کالا فیصلہ تھا چونکہ مجھے سزا دی نہیں گئی تھی بلکہ دلوائی گئی تھی، اور سب جانتے ہیں کہ ایسا کس کے ایما پر کیا گیا تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف پاکستان میں اپنی حکومت ہونے کے باوجود ملک واپس نہیں جا پا رہے تو عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ جیسے طاقت ور اداروں سے منسلک لوگوں سے حساب کیسے لے سکتے ہیں۔

اتوار کو لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اُن کے ساتھ پانچ سال سے ناانصافی پر ناانصافی ہوتی رہی مگر کوئی سوموٹو نوٹس نہیں لیا گیا کیونکہ میرا قاتل ہی میرا منصف تھا۔ میرے خلاف قائم کیے گے تمام تر کیسز جعلی اور من گھڑت تھے۔ جو کچھ میرے اور میرے خاندان کے ساتھ کیا گیا، ایسا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جج نے سزا دی نہیں، بلکہ سزا دلوائی گئی، اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ سزا دلوانے والوں نے خود کہا کہ ایسا نہ کیا گیا تو ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی، نواز شریف نے کہا کہ میری تاحیات نااہلی بھی سپریم کورٹ سے ہوئی اور آج کہا جارہا ہے کہ یہ تو کالا قانون ہے، انہوں نے کہا کہ قانون کالا نہیں بلکہ فیصلہ کالا ہے اور اس کا ازالہ کرنا چاہئے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ میری اہلیہ اور مریم کی والدہ بستر مرگ پر تھی جب ہمیں ظلم کا نشانہ بنایا گیا اور جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں انکی اہلیہ کی موت کی اطلاع جیل میں دی گئی۔ لیکن اس سے پہلے میری منتوں کے باوجود میری اہلیہ سے بات نہیں کروائی گئی۔ یہ زندگی کے ایسے واقعات ہیں جو کبھی بھلائے نہیں جا سکتے۔ اسی کیے مریم جب سے میرے پاس آئی ہے، ہم سے اپنی ماں کی ہی باتیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم یہاں سرخرو ہو کر آئی ہے کیونکہ سزا جھوٹی تھی اور اسکے خلاف فیصلہ کروایا گیا تھا۔

نواز شریف نے عدلیہ کا رگڑا نکالتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو سے ثابت ہو گیا تھا کہ ہمیں کیسے سزا سنائی گئی۔ اس سے پہلے جسٹس شوکت صدیقی کے بیان سے بھی سب کچھ واضح ہو چکا تھا۔ نواز شریف نے کہا کہ مجھے احتساب عدالت کے ذریعے جلدی میں سزا سنانے کا مقصد یہی تھا کہ 2018 کے انتخابات سے پہلے ہی نا اہل کر دیا جائے، اور نواز شریف فیصلہ سن کر ڈر کر لندن میں ہی رہ جائے، اور پاکستان نہ آئے، انہوں نے بتایا کہ کلثوم نواز لندن کے ہسپتال میں تھیں اور وہ اور مریم ان کی تیمارداری کر رہے تھے۔ اسی دوران احتساب عدالت نے ایک ہفتے بعد ہمارے کیس کا فیصلہ سنانے کا اعلان کر دیا۔ میں نے عدالت سے درخواست کی کہ کیس کے فیصلے کو دو ہفتوں تک ملتوی کر دیا جائے تاکہ ہم کلثوم کی طبیعت بہتر ہونے پر پاکستان آ کر اپنی موجودگی میں فیصلہ سن سکیں۔ مگر میری استدعا مسترد کر دی گئی۔ جب سزا کا فیصلہ آ گیا اور ہمیں سزا سنا دی گئی تو میں نے مریم سے کہا کہ ہمیں ملک واپس جانا ہو گا تا کہ تاریخ میں سرخرو ہو سکیں، حالانکہ مجھے معلوم تھا کہ ہم سیدھا جیل جائیں گے۔

یاد رہے کہ 6 جون 2018 کو شریف خاندان کے خلاف نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 سال جبکہ کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔نواز شریف نے کہا کہ ہمارے جو پانچ سال ضائع کیے گئے ان کا جواب کون دے گا۔ میں عمران خان کو بتانا چاہتا ہوں کہ تمہارے دور میں وہ ظلم ہوا جو اس سے پہلے کسی کے دور میں نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں جج ارشد ملک کی عدالت میں تھا، وہاں مجھے اطلاع ملی تھی کہ کلثوم نواز کی طبیعت پھر خراب ہوئی ہے اور وہ آئی سی یو میں ہیں اور بے ہوش ہیں، مجھے بڑی فکر ہوئی، کورٹ میں کوئی راستہ نہیں تھا کہ کسی سے کہتا کہ آپ میری بات کروائیں، مجھے واپس جیل لے گئے، جیل پہنچ کر میں گاڑی سے اتر کر سیدھا سپرنٹنڈٹ جیل کے کمرے میں گیا، اور ان سے کہا کہ میری بیوی کی طبیعت بہت خراب ہے۔

مجھے ابھی لندن سے پیغام آیا ہے، آپ میری بات کروا دیں، وہ میری شکل دیکھنا شروع ہوگئے اور کہا کہ میں تو آپ کی بات نہیں کروا سکتا۔ نواز شریف نے کہا کہ میں نے ان کو کہا کہ آپ کی ٹیبل پر دو موبائل فون اور تین لینڈ لائنز پڑی ہوئی ہیں تو آپ ایک سیکنڈ میں میری بات کروا سکتے ہیں، میں نے ان سے منتیں کیں لیکن انہوں نے بات نہیں کروائی، وہاں سے مجھے سیل میں لے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین گھنٹے کے بعد میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ ہمیں بڑا دکھ ہے کہ آپکی اہلیہ فوت ہو گئیں، آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ مجھ پر کیا گزری ہوگی کہ میں جیل میں اپنی اہلیہ کی موت کی خبر سن رہا ہوں۔

نواز شریف نے کہا کہ آج مریم میرے ساتھ بیٹھی ہیں تو مجھے وہ سب مناظر یاد آ رہے ہیں۔ پاکستان جا کر ایئرپورٹ پر اترتے ہی جو ان لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا وہ آپ کے سامنے ہے۔نواز شریف نے مریم کے بارے میں کہا کہ ’جیسے کہ ایک بہادر بیٹی اپنے باپ کا ساتھ دیتی ہے مریم نے اسکا ثبوت دیا ہے مجھے اس پر فخر ہے۔ میرے بھائی شہباز شریف اور پارٹی بھی ان کی معترف ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھ سے انتقام لینا تھا لے لیتے، پاکستان سے انتقام لینے کا آپ کو کس نے کہا؟ مجھ سے انتقام لیتے ہوئے آج آپ نے پاکستان کا بھٹہ بٹھا دیا ہے۔

Back to top button