کیا نواز شریف ملکی سیاست سے مکمل آؤٹ ہونے والے ہیں؟

2018 میں ’ووٹ کو عزت دو‘ کے بیانیے پر الیکشن لڑنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی الیکشن 2024 کی انتخابی مہم کا نعرہ ’پاکستان کو نواز دو‘ تھا۔ تاہم لیگی قیادت نے مسلم لیگ ن کی سربراہی میں بننے والی ممکنہ مخلوط حکومت میں وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے لیے شہباز شریف کو نامزد کر دیا ہے۔ تاہم نواز شریف کی جانب سے بھائی کو وزارت عظمیٰ کیلئے نامزد کرنے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ افواہیں زیر گردش ہیں کہ نواز شریف ملکی سیاست سے کنارہ کش ہو چکے ہیں اور جلد وہ گوشہ نشینی اختیار کر لیں گے تاہم لیگی قیادت کا اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ نواز شریف مسلم لیگ نون میں کنگ میکر ہیں اور وہ پس منظر میں رہ کر نہ صرف پارٹی کو مضبوط بنائیں گے بلکہ دونوں حکومتیں اصل میں وہ ہی چلائیں گے۔
اس فیصلے سے ن لیگ میں اور ملکی سیاسی منظر نامے پر بحث ومباحثے اورسیاسی و صحافتی حلقوں میں چہ میگوئیوں کا سلسلہ جاری ہےکہ وہ کون سے عوامل تھے جن کے باعث یہ فیصلہ لیا گیا اور کیا یہ نواز شریف کو مستقبل میں سیاست سے دور کرنے کی ’سازش‘ تو نہیں؟ کیونکہ انتخابات سے قبل عوامی جلسوں اور ذرائع ابلاغ کو دیے گئے اپنے انٹرویوز میں لیگی رہنماؤں نے لگی لپٹی رکھے بغیر نواز شریف کو ہی وزارت عظمیٰ کا امیدوار قرار دیا تھا۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ن لیگ کے سینیئر رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی اول روز سے خواہش تھی کہ نواز شریف کو ہی چوتھی بار وزیر اعظم بنایا جائے مگر چونکہ الیکشن کے نتیجے میں ن لیگ سادہ اکثریت حاصل نہیں کر پائی اسی لیے پارٹی نے شہباز شریف کو آگے لانے کا فیصلہ کیا۔
دوسری جانب ن لیگ کی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کی رائے میں وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نہ بن کر نواز شریف نے اچھا فیصلہ کیا۔سینیئر صحافی نصرت جاوید کے لیے نواز شریف کا وزیراعظم نہ بننے کا فیصلہ بالکل حیران کُن نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ نواز شریف پہلے ہی بغیر اکثریت کے وزیرِ اعظم نہیں بننا چاہتے تھے اور اس کا عندیہ انھوں نے الیکشن کے روز ہی دے دیا تھا۔‘
دوسری جانب سینئر صحافی عرفان صدیقی کہتے ہیں شاید چند لوگوں کو ایسا محسوس ہو رہا ہو کہ نواز شریف وزارت عظمیٰ کے امیدوار نہ بن کر سیاست سے دور ہو رہے ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ ’وہ بھرپور سیاست کر رہے ہیں اور شہباز شریف اور مریم نواز سے متعلق اہم فیصلے انھوں نے ہی سینیئر لیڈرشپ کی مشاورت سے لیے ہیں۔‘’مستقبل کی سیاست میں نواز شریف کا انتہائی اہم کردار ہو گا۔ اگرچہ وہ وزیراعظم نہیں ہوں گے مگر وہ اپنی جماعت سے متعلق اہم فیصلے کرنے اور وفاق اور پنجاب میں حکومتوں کی رہنمائی میں مصروف رہیں گے۔‘
تجزیہ کار حسن عسکری کے مطابق ’انتخابی مہم کے دوران ن لیگ کے وزارت عظمٰی کے امیدوار نواز شریف ہی تھے۔ لیکن جب عوام نے انہیں اتنی نشستیں نہیں دیں کہ وہ سادہ اکثریت سے حکومت بنا سکیں تو وہ خود پیچھے ہٹ گئے۔ لیکن انہوں نے پھر بھی اپنے بھائی کو وزیر اعظم جب کہ بیٹی کو وزیر اعلی پنجاب نامزد کر دیا۔’ان دونوں کے ہوتے ہوئے پارٹی بھی اقتدار میں رہے گی اور نواز شریف بھی اپنی نگرانی سے انہیں کامیاب کرانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ جس طرح الطاف حسین اقتدار سے باہر رہ کر پارٹی چلاتے رہے ہیں اسی طرح نواز شریف بھی چلاتے رہیں گے۔‘حسن عسکری کے بقول، ’پی ڈی ایم میں رہ کر شہباز شریف کو بطور وزیر اعظم اس لیے نامزد کیا گیا کہ وہ سیاسی طور پر بھی بہتر رویہ رکھتے ہیں اور اسٹیبشلمنٹ کے لیے بھی پسندیدہ ہیں۔ اس لیے ایسی صورت حال میں ان کا انتخاب کیا گیا۔ وہ پہلے بھی دوسری سیاسی جماعتوں اور اداروں کے ساتھ مل کر حکومت چلا چکے ہیں۔
’سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق ’ملک جس طرح سے معاشی و سماجی مسائل سے دو چار ہے ایسے میں نواز شریف کو وزیر اعظم بننا چاہیے تھا۔ سادہ اکثریت نہ بھی ہو لیکن ان کی جماعت اس پوزیشن میں ہے کہ وہ وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ لیڈر کو چیلنجز کا سامنا کرنا چاہیے اور بحرانوں پر قابو پاکر ماضی کی طرح خود کو ثابت کرنا چاہیے تھا مگر انہوں نے عملی اقتدار سے علیحدگی اختیار کر لی۔‘سہیل وڑائچ کے بقول، ’اگرچہ شہباز شریف اور مریم نواز بھی نواز شریف کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اور مشاورت سے حکومت چلائیں گے لیکن نواز شریف کو وزیر اعظم بننے کے لیے ووٹ ملا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہو گا کہ شہباز شریف اور مریم نواز ان کے ووٹرز کو کس طرح مطمعن کر پائیں گے۔‘انہوں نے کہا کہ ’مریم نواز پہلی بار وزیر اعلی پنجاب بن رہی ہیں اس سے پہلے ان کا حکومت چلانے کا تجربہ نہیں لہذا صوبے کا نظام بہتر انداز میں چلانا اور مسائل حل کرنا ان کے لیے چیلنج ضرور ہو گا۔ اسی طرح شہباز شریف کو بھی اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ نواز شریف کے ووٹ بینک کو ان کی کمی محسوس نہ ہونے دیں۔‘
حسن عسکری کے بقول، ’نواز شریف کو جو مینڈیٹ ملا اس کے مطابق انہوں نے وزیر اعظم اپنے بھائی کو وزیر اعلی پنجاب اپنی بیٹی کو نامزد کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے مستقبل میں پارٹی کو اقتدار میں رکھنے کا فارمولہ بنالیا ہے۔‘’نواز شریف کے وزیر اعظم نہ بننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ موجودہ مینڈیٹ میں بھی وفاق اور پنجاب کی حکومت انہیں کے پاس ہے اور دونوں نامزد عہدیدار بھی ان کے گھر کے ہی ہیں۔‘
