کیا نواز شریف نے آرمی چیف جنرل باجوہ پر ہاتھ ہلکا کر لیا؟


پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اپنے سخت بیانیے کی وجہ سے میڈیا پر پابندی کا شکار سابق وزیراعظم نواز شریف نے پچھلے چند مہینوں میں پہلی مرتبہ اپنی تقریر کے دوران فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار پر تو تنقید کی لیکن حسب سابق آرمی چیف جنرل باجوہ اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام نہیں لیا، جسے سیاسی حلقے معنی خیز قرار دے رہے ہیں۔
6 دسمبر کو اپنا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ دہراتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ میں فوج کے چند آئین شکن گندے جرنیلوں کو بے نقاب کر رہا ہوں اور ان اکا دکا کرداروں کا نام لے رہا ہوں جو ہمیشہ پردے کے پیچھے بیٹھ کر گندا کھیل کھیلتے ہیں اور سامنے نہیں آتے۔ نواز شریف نے ماضی کی طرح کسی جرنیل کا نام لیے بغیر پوچھا کہ ‘کیا ان آئین شکنوں کو بے نقاب کرنا غداری، بغاوت، اور جرم ہے، کیا ریاست کے اوپر ریاست بنا کر چلانے والے کرداروں کو بے نقاب کرنا بغاوت ہے، عوام کا پیسہ چوری کرکے امریکا میں سلطنت بنانے والوں کا نام لینا کیا بغاوت ہے’۔ تاہم یہ سب کہتے وقت انہوں نے ماضی کی طرح آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام لینے سے احتراز برتا اور صرف عاصم سلیم باجوہ کا رگڑا نکالنے ہر اکتفا کیا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ‘عاصم سلیم باجوہ نے پاکستان کا پیسہ لوٹ کر امریکا میں سلطنت قائم کی اور کوئی اسے پوچھنے والا نہیں۔ کیا ان جیسوں کا نام لینا بغاوت ہے’۔
لاہور میں منعقد ہونے والے مسلم لیگ نون سوشل میڈیا کنونشن سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ طالع آزما جرنیلوں کی جانب سے پاکستان میں کسی بھی منتخب وزیراعظم کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، غیر آئینی طاقتوں نے آزادی اظہار اور غریب کا گلہ گھونٹ رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا ونگ کے ورکر مجھے بہت عزیز ہیں کیونکہ انہوں نے 2017 سے اب تک ملک کو درپیش مشکل ترین وقت میں ووٹ کی عزت کی بحالی کے لیے جس طرح بے دریغ جنگ لڑی اور ففتھ جنریشن وار کے نام پر تیار کی گئی ٹرولز کی فورس کا مقابلہ کیا، وہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ کو عزت دو کے نعرے سے خائف ہو کر کنٹرولڈ میڈیا کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ نواز شریف کا بیانیہ ملک کو کمزور کرنے والی قوتوں کو مضبوط کر رہا ہے، لیکن میں اپنے موقف پر قائم ہوں اور دوبارہ کہتا ہوں کہ انہی غیر آئینی طاقتوں نے پاکستان میں آزادی اظہار اور غریب کا گلہ گھونٹ رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی قوتوں نے روزگار اور لوگوں کو مہنگائی کی چکی میں پیس کر رکھا ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ عوامی شعور کی بیداری سے آمروں اور آمریت کا زوال پہلے ہی شروع ہوچکا ہے لیکن غیر جمہوری قوتیں بھی اس بات سے بے خبر نہیں ہیں اور وہ کئی عشروں پر محیط اپنی جابرانہ اجارہ داری کو اتنی آسانی سے ختم نہیں ہونے دیں گی، انہوں نے کہا کہ ریاست اور حکومت نے مل کر سوشل میڈیا پر مزید قدغنیں لگانے کے لیے مہم شروع کردی ہے لیکن گھبرائیے نہیں، فتح آپ کی اور حق اور سچ کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ میرا قصور صرف یہ ہے کہ میں ووٹ کو عزت دو کی مشعل تھامے 22 کروڑ عوام کو اصول کی راہ پر لے کر چل نکلا ہوں۔ نواز سریف کا کہنا تھا کہ میرا قصور یہ ہے کہ میں ان چند کرداروں کو اصلاح احوال کی دعوت دے رہا ہوں جن کی نظر میں آئین و قانون کی عزت نہ کبھی تھی اور نہ آج ہے، میں اپنی پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کو خراج تحسین پیش کرکے چند آئین شکنوں کو بے نقاب کر رہا ہوں اور اکا دکا کرداروں کا نام لے کر سامنے لے آکر آرہا ہوں جو ہمیشہ پردے کے پیچھے بیٹھ کر کھیل کھیلتے ہیں اور سازشیں کررہے ہیں اور سامنے نہیں آتے۔
نواز شریف نے کہا کہ ‘اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے جہاں اب تک کسی بھی منتخب وزیراعظم کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، ہر چند سال بعد جمہوریت پر شب خون مار کر مارشل لا لگادیا گیا اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ کردیا گیا’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘بار بار آئین کی دھجیاں بکھیری گئیں اور انتخابات میں کبھی بکسے چوری اور کبھی آر ٹی ایس کی بندش سے عوام کے ووٹ کو چوری کیا گیا، ملک بنانے والوں کو غدار کہا گیا اور عوام کے مقبول قیادت کو ہتھکڑیاں لگا کر جیلوں میں ڈال دیا گیا اور رہبروں کو رہزن بنایا گیا’۔
نواز شریف نے کارکنوں سے کہا کہ ‘ہم بے خوف ہو کر حق اور سچ کے چراغ روشن کرتے رہیں گے، غیر آئینی طاقتوں کے ان داغ دار چہروں کو بے نقاب کرتے رہیں گے اور اگر آپ نے ایسا کردیا تو میرا آپ سے وعدہ ہے کہ یہ تاریک شب جلد ختم ہونے کو ہے اور وہ صبح جلد طلوع ہوگی جس میں ووٹ کو عزت ملے گی’۔نواز شریف نے یہ سب باتیں کرنے کے باوجود ماضی کی طرح نہ تو آرمی چیف کا نام لیا اور نہ ہی آئی ایس آئی چیف کا، جسے سیاسی حلقے معنی خیز قرار دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button