کیا نون لیگ اور پی پی پی کپتان حکومت کی سہولت کار ہیں؟

ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتوں نے ایک مرتبہ پھر حکومت مخالف تحریک چلانے اور کپتان کو اقتدار سے نکالنے کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسا تب تک ممکن نہیں جب تک کہ طاقتور ترین فیصلہ ساز حلقے حکومت کی فراغت کا فیصلہ نہ کر لیں اور پی پی پی اور ن لیگ خود بھی حکومتی سہولت کاری سے باز آ جائیں۔
حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فوج میں کوئی گروپنگ نہیں اور اسٹیبلشمنٹ اور کپتان ایک صفحے پر ہیں اور مستقبل قریب میں ایسا کوئی امکان نہیں کہ عمران خان سے چھٹکارا حاصل کرنے کا کوئی منصوبہ پروان چڑھ سکے۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی جانب سے حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان ایک وقتی غبار کے تحت تھا جو اب چھٹ چکا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں صرف حکومت کو نیب قوانین پر بلیک میل کرنے کے لئے اکٹھی ہو رہی تھیں۔ اب جبکہ ایف اے ٹی ایف کے قوانین پاس کیے جا چکے ہیں، حکومت کو بھی نیب قوانین میں کوئی نئی ترمیم لانے کی ضرورت نہیں۔ لہذا حکومت کو وقتی طور پر اپوزیشن کو راضی رکھنے کی بھی کوئی ضروری نہیں ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اگر وہ اپوزیشن کرنے کا ناٹک نہ کرے تو پھر اور کیا کرے۔ اپنے ووٹروں کو ساتھ رکھنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو یہ ڈراما آئے روز کرنا پڑتا ہے کہ وہ کپتان کی ناکام حکومت کو نکال باہر کریں گے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ انکی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کا نتیجہ کیا نکلا تھا؟
ویسے بھی سب کو یاد ہوگا کہ لاہور میں ہونے والی شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی ملاقات کے بعد دونوں میں سے کوئی بھی حکومت مخالف تحریک کی قیادت کرنے کے لئے تیار نہیں تھا اور دونوں ایک دوسرے کو ایسا کرنے کے لئے آگے کر رہے تھے۔ دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کے چیئرمین اور صدر نے کندھے ملائے اور تھپتھپائے بھی لیکن حکومت مخالف تحریک کی قیادت ایک دوسرے پر ڈال کر چلتے بنے۔ چنانچہ خبر یہ بنی کہ اپوزیشن پہلے اے پی سی بلائے گی پھر بڑی تحریک چلا کر حکمرانوں کو چلتا کرے گی۔
دوسری طرف حقیقتِ احوال یہ ہے کہ گزشتہ دو سال میں پی پی پی، نون لیگ، جے یو آئی (ف) سمیت چھوٹی چھوٹی جماعتوں کا اتحاد سیاسی ایوانوں میں محض دکھاوا بن کر رہ گیا ہے اور حکومت کے خلاف انقلاب کی نئی کوششیں بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور طاقتوروں کو خوش کرنے میں بازی لے جانے کی کوششوں کا حصہ نظر آتی ہیں۔ بااثر حکومتی حلقے سمجھتے ہیں کہ یہ وہی اپوزیشن ہے جس کے قائدین بغیر بڑوں کی اجازت کے بولنا بھی گوارا نہیں کرتے لہذا یہ حکومت گرانے کیلئے کسی ایک نکتے یا لائحہ عمل پر آزادانہ طور پر متفق کیسے ہو سکتے ہیں۔ بظاہر اپوزیشن کے پاس عدم اعتماد لانے کی عددی صلاحیت سے محرومی اور دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کے حقیقی سربراہوں کی سیاسی منظر نامے سے دوری بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ان حالات میں اپوزیشن کے لئے ایک پلیٹ فارم اور ایک نکتہ پر متحد ہونا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔
سیاسی نقادوں کی رائے میں اپوزیشن موجودہ سیاسی حالات میں حکومت کے خلاف مہم جوئی کا نعرہ لگاکر اپنے لئے خود نیا چیلنج اور امتحان کھڑا کرتی ہے اور پھر خودہی اس کے سامنے ڈھیر ہو جاتی ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اہم ترین رہنما تو یہ بھی دعویٰ کررہے ہیں کہ ان کی اعلیٰ قیادت فیصلہ کر چکی ہے کہ مڈٹرم الیکشن ان کی ترجیح نہیں جبکہ موجودہ تباہ کن معاشی حالات میں فوری کرسی لینا کسی صورت سودمند نہیں۔ خواجہ آصف تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہم یہ چاہیں گے کہ عمران خان اہنی حکومت کی مدت پوری ہونے سے پہلے اقتدار سے علیحدہ نہ ہوں تاکہ وہ سیاسی شہید نہ بن پائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نون لیگ چاہے گی کہ کپتان حکومت اپنی مدت پوری کرے اور بد ترین کارکردگی کی وجہ سے سیاسی طور پر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔
تو پھر ان حالات میں کون سی اے پی سی ہو گی اور کونسی حکومت گراؤ تحریک چلے گی؟ حالات کو بھانپتے ہوئے اپوزیشن کی محاذ آرائی کا واحد مقصد حکومت پر دباؤ برقرار رکھنا اور سیاسی منظرنامے میں اپنی موجودگی کا احساس دلانا ہی رہ جاتا ہے، عملی اظہار کی خاطر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہلکی پھلکی موسیقی اور گھن گرج ہی اپوزیشن کی واحد حکمت عملی ہے۔ بعض نقاد اس کامیاب سیاسی حربے پر اپوزیشن کو فرینڈلی سے زیادہ حکومت کی سہولت کار اپوزیشن قرار دے رہے ہیں۔ ایک بڑا ثبوت ن لیگ کے اہم ترین رہنما شاہد خاقان عباسی کا انٹرویوبھی ہے جس میں انہوں نے اپنی جماعت کے جمہوریت کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے دعوے کا بھانڈا یہ کہہ کر پھوڑ ڈالا ہے کہ نواز شریف کے خلائی مخلوق کا بیانیہ ن لیگ کا بیانیہ نہیں، انہوں نے اپنے قائد اور ان کی بیٹی کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ نظریے کے تابوت میں یہ کہہ کر آخری کیل ٹھونک دی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی سوچ سے الگ ہوکر نہیں چلا جا سکتا انہیں ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوتا ہے۔ یہی نہیں شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کے دیرینہ ساتھی پرویز رشید پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی آئینی ترمیم پر اعتراض تھا تو وہ مستعفی ہو جاتے۔ ن لیگ کےکئی سینئر رہنما نجی محفلوں میں یہ کہتے بھی سنے گئے ہیں کہ شاہد خاقان کا بڑے میاں کے بیانیہ پر بڑا یوٹرن دراصل پارٹی صدر شہباز شریف کے بیانیہ کی توثیق ہے جس کےتحت انہوں نے خفیہ ملاقاتیں کیں اور ڈیل کے ذریعے اپنے سزا یافتہ بھائی کو جیل سے لندن بھجوا کر حکومت کو بھی حیران اور پریشان کردیا تھا، انہی رہنمائوں کی رائے میں اب کی بار بھی بڑے میاں صاحب پانچ سے دس سال تک واپس نہیں آئیں گے اور اب صرف شہبازی بیانیہ پر سیاست ہوگی، اس بیانیہ کی حمایت خواجہ آصف نے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں کی ہےکہ حکومت گرانے کا تو ابھی کوئی فارمولا نہیں مگر ملک کو موجودہ گرداب سے نکالنے کیلئے سیاسی، عسکری، عدلیہ سمیت سب کو ایک صفحے پر ہوکر اور مل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔
دوسری طرف برسوں سے امتحان کا شکار بےچارےعوام بدستور پریشان ہیں، مقتدر کرسی کا مزہ لینے اور اپوزیشن اقتدار کی خواہش اور کشمکش میں پھنسی ہے، اپوزیشن عوام کو محض دلاسہ دینے کی خاطر سخت زبان استعمال کرتے ہوئے حکومت ہٹاؤ تحریک کی دھمکی دے ڈالتی ہے حالانکہ اپوزیشن جانتی ہے کہ اس مہم جوئی میں دل و جان سے وہ خود راضی ہے نہ ان کے حلیف۔ حکمران مافیا کے ذریعے مافیا کے خلاف جہاد کی نئی منطق پر عمل پیرا ہیں نتیجتاً عوام کی آٹا، چینی، گھی، دالوں سمیت بنیادی اشیاء تک رسائی بھی ناممکن ہوتی جارہی ہے۔ وزیراعظم نوٹس لیتے ہیں تو چیزیں پہلے سے کئی گنا مہنگی ہوجاتی ہیں یا نایاب۔ بس تحریک اور انقلاب کے نعروں سے تبدیلی اور اقتدار کی خاطر روز نئے سیاسی پینترے بدلنے کا منظر دیکھتے رہئے کیونکہ وبائی کرونا کی طرح سیاسی کرونا کے علاج کے لئے عوامی مفاد کی ویکسین کی دستیابی تک صبر اور خود پر جبر کےسوا کوئی چارہ نہیں!
