کیا نیب شہباز شریف کو کپتان کے ایما پر تنگ کر رہا ہے؟

شہباز شریف کو نیا وزیراعظم بنانے سے متعلق اسٹیبلشمنٹ کا مبینہ گیم پلان مارکیٹ ہونے کے بعد سے قومی احتساب بیورو نے شہباز شریف کو تنگ کرنا شروع کر دیا ہے اور ان کو بار بار بھیجے جانے والے طلبی کے نوٹسز سے لگتا ہے کہ ممکنہ طور پر انہیں گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ شہباز شریف کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ وزیراعظم عمران خان کے ایما پر کیا جا رہا ہے جو کہ ان سے خائف ہیں اور انہیں اپنا اگلا سیاسی متبادل سمجھتے ہیں۔ یاد رہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے آرمی چیف اور وزیر اعظم کے مابین معاملات ٹھیک نہیں ہے اور عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر ان کی حکومت کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔
لہذا عمومی تاثر یہی ہے کہ جوابی طور پر قومی احتساب بیورو کرونا کے حملوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ہاتھ دھوکر میاں شہباز شریف کے پیچھے پڑ چکا ہے اور برسوں پرانے مقدمات میں تفتیش کے لئے بار بار انہیں طلبی کے نوٹسز جاری کر رہا ہے۔ اندر کی خبررکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ سب وزیراعظم عمران خان کے ایما پر ہو رہا ہے جس کا بڑا مقصد شہباز شریف کو کسی سازش کے نتیجے میں وزیر اعظم بننے سے روکنا ہے۔ ملک کے سیاسی، سماجی اور قانونی حلقوں میں یہ افواہیں گرم ہیں کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جس طرح ڈیل کرکے اپنے بھائی کے ساتھ لندن گئے تھے اسی طرح باقاعدہ ایک ڈیل کے تحت ہی وہ واپس پاکستان آئے ہیں۔
سیاسی حلقوں میں شہباز شریف کی وطن واپسی کے بعد سے چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ کپتان حکومت کی ناکامی بالخصوص کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کی غیر مقبول اور ناکام حکومت سے جان چھڑوانا چاہتی ہے اور مسلم لیگ نون کو اقتدار میں واپس لانا چاہتی ہے چنانچہ وزارت عظمی کے لیے شہباز شریف کا نام بطور وزیراعظم فیورٹ ہے۔
واضح رہے کہ شہباز شریف نے حالیہ دنوں روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر اور سینئر صحافی سہیل وڑائچ کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ 2018 کے انتخابات سے ایک مہینہ قبل تک ان کا وزیراعظم بننا طے تھا تاہم بعد میں نواز شریف اور مریم نواز کی طرف سے ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ شدت کے ساتھ آگے بڑھانے کی وجہ سے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ناراض ہو کر اقتدار تحریک انصاف کے حوالے کردیا۔ اسی انٹرویو میں شہباز شریف نے یہ تسلیم کیا تھا کہ نیب انہیں گرفتار کرنا چاہتی ہے اور ممکنہ طور پر وہ رمضان المبارک یا عید کے بعد گرفتار ہو سکتے ہیں۔
شہباز شریف کی جانب سے ان انکشافات کے بعد سیاسی حلقوں میں ہونے والی چہ مگوئیوں کو تقویت ملتی ہے کہ یقیناً شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کی اس یقین دہانی پر پاکستان واپس آئے تھے کہ اگلے سیاسی سیٹ اپ میں انہیں وزیراعظم کا عہدہ دیا جائے گا۔ تاہم یہ گیم پلان اس وقت مشکلات کا شکار ہوگیا جب اس کی بھنک عمران خان کو پڑی اور انہوں نے نیب کے ذریعے شہباز شریف کو تنگ کرنا شروع کردیا تا کہ یا تو وہ دوبارہ بھاگ جائیں یا گرفتار کر لیے جایئں۔
سیاسی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ نیب جیسا سیاسی ادارہ وزیراعظم کی مرضی کے بغیر اپوزیشن لیڈر کے خلاف نئے کیسز نہیں کھول سکتا۔ انکا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کو بھی وزیراعظم کی خواہش پر ہی گرفتار کیا گیا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جب عمران خان کو یہ پتہ چلا کہ اسٹیبلشمنٹ انہیں راستے سے ہٹا کر شہباز شریف کو وزیراعظم بنوانا چاہتی ہے تو انھوں نے نیب کو حکم دیا کہ شہباز شریف کو خراب کیا جائے۔ چنانچہ اب صورتحال یہ ہے کہ دو مرتبہ طلبی کے باوجود شہباز شریف اپنی بیماری اور کرونا وائرس کو جواز بنا کر نیب میں پیش ہونے سے انکار کرچکے ہیں۔ تاہم نیب کی جانب سے بدستور انہیں نیب کے سامنے پیش ہونے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے حتی کہ نیب کی ایک پریس ریلیز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر شہباز شریف خود نیب کے روبرو پیش نہ ہوئے تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
واضح رہے کہ شہباز شریف نے نیب کے سوالنامے کا جواب دے دیا ہے تاہم پھر بھی نیب کا مؤقف ہے کہ وہ شہباز شریف کے جوابات سے مطمئن نہیں لہذا انہیں ذاتی حیثیت میں ہی نیب ہیڈکوارٹر پیش ہونا ہوگا۔ یاد رہے کہ شہبازشریف گزشتہ برس کئی مہینے نیب کے زیر حراست رہ چکے ہیں جہاں ان سے تمام زیر التوا کیسز کے حوالے سے تفتیش مکمل کرلی گئی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے انھیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے خلاف کسی بھی سازش کو ناکام بنانے اور شہباز شریف کو وزیراعظم بننے سے روکنے کے لیے مستقبل قریب میں شہباز شریف کو دوبارہ گرفتار بھی کروا سکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف نے اپنی تمام تر سیاسی سرگرمیاں ترک کردی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ نے بھی اس حوالے سے نئے گیم پلان پر سوچ بچار شروع کر چکی ہے۔
