کیا نیب واقعی ٹارزن بن کر سب کا احتساب کرنے والا ہے؟

صرف اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کے احتساب اور پولیٹیکل انجینرنگ کے حوالے سے نام پیدا کرنے والے ادارے قومی احتساب بیورو کی جانب سے حال ہی میں حکومتی اراکین کے خلاف کارروائی شروع کرنے کے اعلان کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا واقعی نیب ٹارزن بن جائے گا اور چیئرمین نیب کے ماضی کے دعوے کے مطابق ہواؤں کا رخ بھی بدل دے گا۔ تاہم دوسری جانب نیب کے اس اعلان کو بیلنسنگ ایکٹ کا نام دیا جارہا ہے تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ نیب صرف اپوزیشن نہیں بلکہ حکومتی اراکین کے خلاف بھی کارروائی کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ شیخ رشید نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ عید کے فورا بعد نیب ٹارزن بن جائے گا۔۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا نیب نے ٹارزن بننے کے لیے ابھی سے تیاریاں شروع کر دی ہیں جو اس نے اپوزیشن رہنماؤں کے بعد اب حکومتی اراکین کے گرد بھی احتساب کا شکنجہ کسنے کا ارادہ ظاہر کردیا ہے۔ ویسے چند مہینے قبل چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے بھی کہا تھا کہ اب ہواؤں کا رخ بدل گیا، اب سب کا بے لاگ احتساب ہوگا۔ ان دونوں بیانات کو خاص پیرائے میں اس لئے دیکھا جا رہا ہے کہ نیب نے چودھری برادران کے خلاف پرانے مقدمات کھولنے کے بعد اب وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان کا پیچھا کرنا شروع کر دیا ہے، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نیب علیم خان کو بھی دوبارہ سے گرفتار کرنے کے موڈ میں ہے۔ اور تو اور خسرو بختیارا ور ان کے بھائی ہاشم جوان بخت کے خلاف انکوائری کو بھی منطقی انجام تک پہنچانے کے حوالے سے نیب نے لاہور ہائیکورٹ کو یقین دہانی کروادی ہے۔
پتہ چلاہے کہ نیب حکام نے راولپنڈی انتظامیہ کو خط لکھ کر وفاقی وزیر غلام سرور خان اور ان کے اہل خانہ کی جائیداد کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ خط کے مطابق، نیب فی الوقت غلام سرور خان کی خلاف شکایت کی تصدیق کے مرحلے پر ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) راولپنڈی سے کہا گیا ہے کہ غلام سرور خان اور ان کے اہل خانہ کے نام پر زرعی، رہائشی اور کمرشل جائیداد، زمینوں اور پلاٹس کی خریداری، لین دین اور فروخت کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ’’خفیہ‘‘ خط میں وفاقی وزیر کے اہل خانہ کے پانچ ارکان کے نام اور ان کے شناختی کارڈ نمبرز بھی درج ہیں۔ راولپنڈی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ متعلقہ پٹواری کے ذریعے مطلوبہ معلومات جمع کرکے نیب راولپنڈی کے انوسٹی گیشن افسر کے پاس جمع کرائیں۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ صورتحال وزیر اعظم عمران خان کیلئے پریشان کن ثابت ہو سکتی ہے ، حکومت کو نیب کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ بیورو پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان کیخلاف بھی نیا مواد جمع کر رہا ہے، وہ پہلے بھی نیب کی حراست میں رہ چکے ہیں اور حال ہی میں پنجاب کابینہ کا حصہ بنے ہیں۔ علیم خان نے جیل میں کچھ ماہ گزارے اور حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کیا۔ اگرچہ وفاقی سطح پر پی ٹی آئی کے چند ہی رہنما اور وزیر نیب کی نظر میں ہیں لیکن بیورو نے اب تک کسی کو بھی گرفتار کرنے کے معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ ادھر نیب نے لاہور ہائیکورٹ کو یہ یقین دھانی بھی کروائی ہے کہ وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی مخدوم خسرو بختیار اور ان کے چھوٹے بھائی وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق انکوائری تین مہینوں میں مکمل کرلی جائے گی۔ اس صورتحال میں یہ تاثر ملتا ہے کہ نیب شاید بیلسنگ ایکٹ کے طور پر حکومتی اراکان کے خلاف بھی نمائشی تحقیقات کرنے جا رہا ہے۔ وزیر ہوابازی غلام سرور کے خلاف انکوائری سے یہ تاثر بھی دیا جارہا ہے کہ شاید وزیر اعظم نے ان کے خلاف نیب کو اس لئے کارروائی کی ہدایت کی ہو کہ یہ ن لیگ کے منحرف رہنما اور اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے چوہدری نثار علی خان کی تحریک انصاف میں شمولیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں.
واضح رہے کہ عام انتخابات 2018 میں غلام سرور خان نے چوہدری نثار کو شکست دی تھی اور انہوں نے عمران خان پر واضح کر رکھا ہے کہ اگر چوہدری نثار کو پارٹی میں شامل کیا گیا تو وہ تحریک انصاف چھوڑ دیں گے۔
تاہم نیب کی ان کارروائیوں کے باوجوداپوزیشن جماعتوں کی شکایت ہے کہ نیب سرکاری وزیروں اور حکمران جماعت کے رہنماؤں کو چھوڑ کر صرف اپوزیشن رہنماؤں کو ہدف بنا رہا ہے اور انہیں جعلی مقدمات میں پھنسا رہا ہے۔ اپوزیشن کا یہ بھی الزام ہے کہ حکومت اور نیب کے درمیان گٹھ جوڑ ہے۔ تاہم نیب کا کہنا ہے کہ اس نے حکمران جماعت کے رہنماؤں اور وزراء کیخلاف کرپشن کے کیسز پر بھی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ دوسری جانب اعلیٰ عدلیہ نے متعدد مشاہدات میں اور فیصلوں میں نیب کے کام کرنے کے انداز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی ادارے کو سیاسی انجینئرنگ کیلئے استعمال کرنے کی بات بھی کی ہے۔پی ٹی آئی حکومت میں بھی کئی لوگ ایسے ہیں جو نیب کے کام کرنے کے انداز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ خدشہ ہے کہ اگر نیب کے قانون میں ترمیم نہ کی گئی تو بیورو کو ایک نہ ایک دن عمران خان حکومت کیخلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں حکومت کی اتحادی شراکت داروں اور ق لیگ کے رہنمائوں نے گجرات کے چوہدریوں کیخلاف دہائیوں پرانے مقدمات کھولنے پر نیب پر تنقید کی۔ ق لیگ کی قیادت نہ صرف نیب کی جانب سے اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال پر لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئی بلکہ وہ حکومت میں سینئر شراکت داروں یعنی پی ٹی آئی والوں سے سوال بھی کر رہے ہیں کہ آخر کون نیب کو ان کیخلاف استعمال کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button