کیا نیب کو چوہدریوں کے پیچھے کپتان نے لگایا ہے؟

حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے کرتا دھرتا چوہدری برادران نے نیب کی جانب سے اپنے خلاف پرانے کرپشن کیسز دوبارہ کھولنے پر اپنی توپوں کے دھانے کھول دئیے ہیں اور نیب کو سیاسی انجینئرنگ کا ادارہ قرار دیتے ہوئے چیئرمین نیب کے اختیارات کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ چوہدری برادران کے اس اچانک ایکشن سے اپوزیشن کے اس ازلی مؤقف کو تقویت ملتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ چوہدری برادران کے قریبی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ چیئرمین نیب ان کے خلاف پرانے کیسز وزیراعظم کے ایماء پر کھول رہے ہیں تاکہ انہیں دباؤ میں لا کر بدلتے ہوئے حالات میں بھی حکومتی اتحاد میں شامل رکھنے پر مجبور کیا جائے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے حکومتی اتحادی چوہدری برادران کی جانب سے نیب کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے اور اسے ایک سیاسی انجینئرنگ کا ادارہ قرار دینے سے ساکھ کے بحران کا شکار نیب کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہوگئی ہے۔ خیال رہے کہ حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہٰی نے چیئرمین نیب کے اختیارات کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیاہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے نیب ان کے خلاف 19 سال پرانا مقدمہ دوبارہ نہیں کھول سکتا، نیب دراصل ایک سیاسی انجینئرنگ کرنے والا ادارہ ہے اور اس کے کردار اور تحقیقات کے غلط انداز پر عدالتیں فیصلے بھی دے چکی ہیں۔ چوہدری برادران کی درخواست میں چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اور ڈی جی نیب لاہور میجر ریٹائرڈ شہزاد سلیم کو فریق بنایا گیاہے۔ درخواست میں اعتراض اٹھایا گیاہےکہ چیئرمین نیب نے ہمارے کیخلاف 19 سال پرانے معاملے کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا ہے جبکہ چیئرمین نیب کو 19 سال پرانے اور بند کی جانیوالی انکوائری دوبارہ کهولنے کا اختیار نہیں۔
چوہدری برادران نے کہا کہ ان کا گھرانہ ایک سیاسی گھرانہ ہے، وہ دونوں وزیر اعظم، ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت کئی اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ درخواست میں چوہدری شجاعت حسین کے والد چوہدری ظہور الٰہی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ عالمی تنظیم نے انہیں ضمیر کا قیدی قرار دیا تھا۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ نیب کا 19 برس پرانے آمدن سے زائد اثاثہ جات کی انکوائری دوبارہ کولنے کا اقدام غیرقانونی قرار دیا جائے۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ چوہدری برادران یہ سمجھتے ہیں کہ نیب کی جانب سے ان کے خلاف 19 برس پرانے کیسز کھولنے کا مقصد انہیں سیاسی طور پر بلیک میل کرنا اور دباؤ میں لانا ہے کیونکہ مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت مسلم لیگ قاف کے ووٹوں پر کھڑی ہے اور وزیراعظم کے ساتھ گزشتہ چند مہینوں کے دوران تحریک انصاف کی ورکنگ ریلیشن شپ خراب ہونے کے بعد چیئرمین نیب نے کپتان کے ایما پر چوہدری برادران کو نشانے پر رکھ لیا ہے جس کا واحد مقصد یہ ہے کہ چوہدری برادران کی سیاسی ساکھ متاثر کرکے انہیں تحریک انصاف کے ساتھ ہر صورت چلنے پر مجبور کیا جائے۔
یاد رہے کہ عمران خان چوہدری برادران کو شروع سے اچھا نہیں سمجھتے لیکن 2018 کے الیکشن کے بعد حکومت سازی کے لیے کپتان کو چودھری برادران سے ہاتھ ملانا پڑگیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں کپتان اور چودھریوں میں تیزی سے فاصلے بڑھے ہیں جس کی بنیادی وجہ جہانگیر ترین کی چودھریوں سے بڑھتی ہوئی قربت تھی۔ بعد ازاں جب شوگر اور آٹا انکوائری میں جہانگیر ترین اور چوہدری برادران دونوں کا ہی نام آگیا تو عمران خان کو دونوں سے دوری اختیار کرنے کا اخلاقی جواز بھی مل گیا۔ لہذا اب حالات یہ ہیں کہ جہانگیر ترین کے خلاف نیب پہلے ہی چینی سکینڈل میں انکوائری شروع کر چکی ہے جبکہ چوہدری برادران کو انیس سال پرانے کرپشن کیسز میں طلب کر لیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button