کیا نیب کو جہانگیر ترین کے پیچھے کپتان نے لگایا ہے؟

قومی احتساب بیورو کا آٹا، چینی اور آئی پی پیز سکینڈل کی باقاعدہ تحقیقات شروع کرنے کے اعلان کے بعد یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نیب نے یہ کارروائی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر شروع کی ہے تاکہ ان کے اعتماد کا خون کر کے مال بنانے والے جہانگیر ترین کو حکومت کے خلاف ممکنہ سیاسی جوڑ توڑ سے باز رکھا جا سکے۔
یاد رہے کہ کسی دور میں تحریک انصاف کی اے ٹی ایم اور چیف فنانسر کہلانے والے جہانگیرخان ترین اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان چینی سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد اب دوریاں اور فاصلے پیدا ہو چکے ہیں جس کا اعتراف خود جہانگیرترین میڈیا کے پلیٹ فارمز پر بھی کر چکے ہیں۔ حالیہ دنوں جب وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر بننے والی اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی نے ملک میں گندم، چینی بحران کی تحقیقات کیں تو ان میں ترین کا نام بھی ناجائز منافع خوری کر کے مال بنانے والوں میں نمایاں ترین تھا۔ حیران کن طور پر وزیراعظم نے اپنے قریبی ساتھی کا نام آنے کے باوجود انکوائری رپورٹ کو پبلک کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد قومی احتساب بیورو نے بھی اس سکینڈل کو بے نقاب کرنے اور لوٹی ہوئی دولت واپس حاصل کرنے کے لئے لیے باقاعدہ انکوائری کا اعلان کر دیا ہے۔
چنانچہ سیاسی حلقوں میں آجکل وزیراعظم کی جانب سے جہانگیر ترین سے تعلق کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے پہلے آٹا اور چینی تحقیقاتی رپورٹ اور اس کے بعد آئی پی پیز کی لوٹ کھسوٹ سے متعلق رپورٹس کو پبلک کرنے کے سیاسی محرکات کے حوالے سے چہ مگوئیاں زوروں پر ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ گرما گرم بحث جاری ہے کہ وزیراعظم نے جہانگیر ترین کی ممکنہ بلیک میلنگ اور پارٹی میں شامل کرائے گئے آزاد ایم پی ایز اور ایم این ایز کو مستقبل قریب میں تحریک انصاف کے خلاف استعمال کرنے کے خدشے سے نمٹنے کے لیے انکے خلاف کارروائی کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی حلقوں کا بھی یہی خیال ہے کہ اگر نیب آٹا، چینی سکینڈل اور آئی پی پیز سے متعلقہ رپورٹس پر جہانگیر ترین کے خلاف انکوائری کرنے جا رہی ہے تو یقیناً یہ کپتان کی آشیرباد کے بغیر ممکن نہیں۔ قوی امکان ہے کہ جس طرح جہانگیر ترین نے آٹے چینی اور پاور کمپنی سے ملک کے اربوں روپے بٹورے، نیب کے لیے انہیں قصوروار ثابت کرنا کوئی مشکل نہیں ہوگا۔ تاہم سیاسی حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ نیب کو ترین کے خلاف کارروائی کی کھلی چھوٹ دینے کے پیچھے سیاسی محرکات کارفرما ہیں۔ خیال رہے کہ 2018 کے انتخابات کے بعد پنجاب اور مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت بنانے کے لئے جہانگیر ترین نے اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔ یہ ترین ہی تھے جو اپنے جہاز میں آزاد ایم این ایز اور ایم پی ایز کو بٹھا کر بنی گالہ لے جاتے تھے۔ تاہم یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جہانگیر ترین جن اراکین اسمبلی کو پارٹی میں لے کر آئے، وہ اب بھی ترین کی مٹھی میں ہیں۔ اس لیے وزیر اعظم کو خدشہ ہے کہ ترین مستقبل قریب میں مسلم لیگ ن کے ساتھ سازباز کرکے انکی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ پنجاب اور مرکز میں تحریک انصاف حکومت چند اتحادی جماعتوں اور آزاد اراکین کی وجہ سے قائم ہوئی اگر چند اتحادی ایم پی ایز اور ایم این ایز یا آزاد امیدوار تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کرتے ہیں تو حکومت کے لیے اقتدار بچانا تقریباً ناممکن ہوجائے گا۔
یاد رہے کہ ماضی میں جب عمران خان اور جہانگیر ترین پر آرٹیکل 62 63 کے تحت سپریم کورٹ میں کیس چلا تھا تو عدالت نے عمران کو صادق اور امین قرار دیا تھا جبکہ اسی قسم کے الزامات پر جہانگیر ترین کو عملی سیاست سے آؤٹ کردیا تھا۔ اس وقت بھی یہی کہا گیا تھا کہ عمران نے خود ترین کو عملی سیاست سے آؤٹ کروایا ہے۔
