کیا نیپال سے پاکستانی کرنل کو بھارتی را نے اغوا کیا؟


نیپال میں پراسرار طور پر غائب ہو جانے والے پاکستانی فوج کے سابق آفیسر کرنل ظاہر حبیب کا پانچ برس بعد بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں وہاں موجود را کے نیٹ ورک نے اغوا کیا تھا۔ ماضی میں آئی ایس آئی سے وابستہ رہنے والے پاکستانی کرنل ایک ملازمت کے سلسلے میں نیپال گے تھے اور اُن کی گمشدگی آج بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔
سابق لفٹیننٹ کرنل حبیب ظاہر اپریل 2017 میں لاہور سے عمان کے راستے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو پہنچے تھے اور تربھوون انٹرنیشل ہوائی اڈے پر اترے تھے۔ انھیں وہاں سے انڈیا کی سرحد پر واقع لمبینی شہر جانا تھا اور اس کے لیے وہ مقامی ایئرپورٹ گئے جو بین الاقوامی ایئرپورٹ سے تھوڑی مسافت پر واقع ہے۔لمبینی کا ہوائی اڈہ انڈيا کی سرحد سے پانچ کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ کرنل حبیب نے اپنی فیملی سے آخری بار رابطہ اسی ہوائی اڈے سے باہر آنے کے بعد ایک ٹیکسٹ میسیج کے ذریعے کیا تھا۔
نیپال میں کرنل حبیب کی گمشدگی کی ایک خصوصی پینل کے ذریعے تحقیقات کی گئی تھیں لیکن اس کی رپورٹ کبھی عام نہیں کی گئی۔ نوراج سیلوال اس وقت نیپال پولیس کے نائب سربراہ تھے اور اب ریٹائرمنٹ کے بعد وہ رُکن پارلیمان ہیں۔ انکا کہنا یے کہ ’جب تک میں یونیفارم میں تھا، میں نے اپنے عہدے کی رازداری کے حلف کے تحت کام کیا تھا۔ اب سیاست میں آنے کے بعد بھی میں تب پیش آنے والے واقعات پر بات نہیں کر سکتا۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی کرنل کی گمشدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نیپال کے سابق مشیر راجن بھٹا رائی کا کہنا ہے کہ تفتیش سے یہ معلوم ہوا تھا کہ کرنل حبیب نیپال میں نہیں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ نیپالی حکومت نے تفتیش کے لیے ایک پینل تشکیل دیا تھا جس نے گہرائی سے اس معاملے کی تفتیش کی تھی۔ حکومت کا ماننا تھا کہ کرنل حبیب نیپال سے غائب ہوئے لیکن وہ نیپال میں نہیں ہیں۔ چنانچہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ را کا نیٹ ورک پاکستانی کرنل کو اغوا کرنے کے بعد بھارت لے گیا ہوگا۔
پاکستان کی حکومت نے کرنل حبیب کی گمشدگی کے بارے میں انڈیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس واقعے میں ’ہوسٹائل خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ‘ ہونے کا الزام لگایا تھا۔ ادھر انڈیا کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اسنے نیپال میں ایک سابق پاکستانی کرنل کی گمشدگی بارے میڈیا سے سُنا تھا لیکن اسے اس کے بارے میں اس سے زیادہ کوئی علم نہیں ہے۔ یاد رہے کہ نیپال میں انڈیا سمیت کئی ملکوں کی خفیہ ایجنسیاں بہت سرگرم ہیں۔ نیپال سارک ایسوسی ایشن کا رکن ملک ہے اور اںڈیا اور پاکستان دونوں سے اس کے دوستانہ تعلقات ہیں۔ نیپال کے سرکاری حلقوں میں یہ افسوس ضرور پایا جاتا ہے کہ کرنل حبیب نیپال کی دھرتی سے غائب ہوئے۔ لیکن وہ اس معاملے میں انڈیا اور پاکستان کی رقابت میں نہیں پھنسنا چاہتے۔
سابق اعلیٰ پولیس افسر ہیمنت ملا کرنل جیبب کی گمشدگی کے وقت نیپال کے سنٹرل انوسٹیگیشن بیورو کے سربراہ تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی وجوہات کی بنا پر نیپال غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی سرگرمیوں کا محور بنا ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہاں انڈین انٹیلیجنس ایجنسی کی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستانیوں کی بھی سرگرمیاں نظر آتی ہیں۔ چین بھی کافی سرگرم ہے کیونکہ مغربی ملکوں کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ نیپال ان ممالک کی آپسی سرگرمیوں میں پھنس جاتا ہے۔ کئی بار دو ملکوں کے معاملے میں نیپال ایسا پھنسا کہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا کرے، کہاں جائے۔ انکا۔کہنا ہے کہ نیپال کی ایجنسیاں پیشہ ورانہ طور پر اتنی ماہر نہیں جس کے سبب کئی بار باہر کی ایجنسیوں کے سبب یہاں مشکل پیدا ہو جاتی ہے۔
نیپال میں پاکستانی کرنل کی گمشدگی بارے ہونے والی تحقیقات کے مطابق کرنل حبیب ظاہر نے کھٹمنڈو سے لمبینی کا سفر ایک ڈومسٹک فلائٹ سے کیا تھا۔ اس کے لیے ٹکٹ انھیں کھٹمنڈو میں رسیو کرنے والے شخص نے دی تھی۔ لمبینی کے لیے طیارے پر سوار ہونے سے پہلے کرنل حبیب نے جہاز کے نزدیک اپنی ایک فوٹو کھینچی تھی۔ یہ فوٹو سیلفی نہیں تھی کیونکہ اسے کسی دوسرے شخص نے لیا تھا۔ غالباً یہ شخص کھٹمنڈو سے ان کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ وہ شخص اس کیس کی بہت اہم کڑی ہے۔ کرنل حبیب ظاہر کو اقوام متحدہ کی کسی ملازمت کے انٹرویو کے سلسلے میں لمبینی بلایا گیا تھا۔ بظاہر یہ ایک ٹریپ یا دھوکہ تھا۔ یاد رہے کہ لمبینی نیپال اور انڈیا کے درمیان ایک سرحدی قصبہ ہے۔ یہاں بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کی پیدائش ہوئی تھی۔ نیپال اور غیر ممالک سے گوتم بدھ کے پیروکار اور سیاح ہزاروں کی تعداد میں مندروں کو دیکھنے یہاں آتے ہیں۔ یہ ایک خالص مذہبی مقام ہے۔ لمبینی کا ہوائی اڈہ انڈيا کی سرحد سے پانچ کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ کرنل حبیب نے اپنی فیملی سے آخری بار رابطہ اسی ہوائی اڈے سے باہر آنے کے بعد ایک ٹیکسٹ میسیج کے ذریعے کیا تھا۔
’نیپال میں جاسوسی کا جال‘ اور ’نیپالی پرچم خفیہ ایجنسیوں کے شکنجے میں‘ کے عنوان سے لکھی گئی کتابوں کے مصنف سروج راج ادھیکاری کا خیال ہے کہ کرنل حبیب کو انڈیا کی طرف ہی لے جایا گیا ہے۔ لیکن انڈیا نیپال میں جو کرتا ہے وہ اسکا کچھ نہ کچھ سراغ ضرور چھوڑتا ہے تاکہ یہ بتایا جائے سکے کہ اسکا وہاں کتنا اثر و رسوخ ہے۔ یوں کرنل حبیب کی گمشدگی پانچ برس بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔

Back to top button