کیا ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ میں صلح کا چانس ختم ہو گیا؟


سیاسی تجزیہ کار آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج سے یہ نتیجہ اخذ کررہے ہیں کہ تحریک انصاف اور فوجی اسٹیبلشمنٹ بدستور ایک پیج پر ہیں اور کپتان کی متحارب نواز لیگ کے اسٹیبلشمنٹ سے صلح کے امکانات ختم ہو گئے لگتے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آزاد کشمیر میں نواز لیگ کی حکومت کا خاتمہ دراصل اس کے مزاحمتی بیانیے کی شکست ہے۔ لیکن دوسری جانب نواز لیگ کا یہ اصرار ہے کہ آزاد کشمیر میں الیکشن آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہوئے اور تحریک انصاف کو جتوانا دراصل نواز لیگ کو مزاحمتی بیانیہ چھوڑ کر مفاہمتی بیانیہ اپنانے پر مجبور کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انکا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں نواز لیگ کو تیسرے نمبر پر رکھ کر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر میاں صاحب اور انکی بیٹی نے محاذ آرائی نہ چھوڑی تو آئندہ عام انتخابات میں بھی اسی طرح کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آزاد کشمیر کے انتخابی معرکے میں ن لیگ کی شکست اور پی ٹی آئی کی فتح سے ملک کے کئی حلقوں میں اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار، انتخابات میں دھاندلی، پیسے کے استعمال اور ن لیگ کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ کچھ ناقدین پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ میں بڑھتی ہوئی قربت کا بھی غور سے جائزہ لے رہے ہیں اور آنے والے وقتوں میں ن لیگ کی سیاسی مشکلات میں اضافے کی پیشن گوئی کر رہے ہیں۔ کئی ناقدین کا خیال ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نون لیگ کی شکست نواز شریف کے بیانیے کی شکست ہے اور یہ اس بات کی بھی عکاس ہے کہ ملک کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ ابھی تک نواز شریف اینڈ کمپنی سے خوش نہیں ہے۔ انتخابی نتائج سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور نون لیگ کی راہیں اب مکمل طور پر جدا ہوگئی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اب کسی طرح کی مصالحت نہیں ہو سکتی۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک نون لیگ کے لیے یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ تاہم ان نتائج پر شہباز شریف بہت خوش ہوں گے کیونکہ ان کی یہ بات سچ ثابت ہو گئی کہ طاقتور اداروں سے ٹکر لے کر نون لیگ سیاسی جگہ نہیں بنا سکتی۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ شکست اس بات کا اشارہ ہے کہ نون لیگ کو پاکستان میں ہونے والے اگلے عام انتخابات میں بھی کامیابی نہیں ملے گی۔
دوسری جانب مسلم لیگ نون کی قیادت کا موقف ہے کہ آزاد کشمیر کے نتائج سے اسٹیبلشمنٹ یہ پیغام دینا چاہ رہی ہیں کہ ہم نواز شریف کے بیانیہ سے ہٹ جائیں اور مریم نواز سیاسی منظر نامے سے آؤٹ ہوجائیں ٹاک شہباز شریف آگے آ سکیں۔ لیکن نواز شریف کے قریبی ساتھیوں کا اصرار ہے کہ وہ انکے بیانیے سے کسی طور پر دست بردار نہیں ہوں گے اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شکست نواز شریف کے بیانیے کی شکست ہے وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ مریم نواز کے قریبی لیگی رہنما کہتے ہیں کہ نواز شریف کے بیانیے کو کل بھی عوام میں پذیرائی حاصل تھی اور آج بھی حاصل ہے اور سب جانتے ہیں کہ کشمیر کے الیکشن میں اسٹیبلشمٹ غیر جانبدار نہیں تھی اور اس نے پی ٹی آئی کا ساتھ دیا۔ مزاحمتی دھڑے سے تعلق رکھنے والے لیگی کہتے ہیں کہ ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔ الیکشن سے پہلے ایک فوجی افسر رشوت لیتے ہوئے بے نقاب ہوا لیکن اسکے باوجود پیسے کا بے دریغ استعمال ہوا۔ انکا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے کھل کے پی ٹی آئی کے امیدواروں کی حمایت کی اور ایسے امیدوار بھی جتوا دیے جن کا آزاد کشمیر میں کوئی انتخابی حلقہ بھی نہیں ہے۔
معروف سیاسی تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی فتح کے پیچھے کئی عوامل کار فرما ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی کے بعد آزاد کشمیر کے بہت سے روایتی سیاستدانوں نے پی ٹی آئی کی طرف رُخ کر لیا تھا جس نے ان سیاستدانوں کو اپنی پارٹی میں جگہ دی۔ اسکے علاوہ یہ روایت بھی رہی ہے کہ جو بھی سیاسی جماعت اسلام آباد میں حکومت بناتی ہے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی اسی کی حکومت ہوتی ہے کیونکہ وہاں کے عوام سوچتے ہیں کہ سارے ترقیاتی منصوبے موجودہ حکومت کے پاس ہوتے ہیں جب کہ افسر شاہی کے تمام افراد بھی پاکستان سے آتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق کشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسی جماعت کو کامیاب کرایا جائے، جس کی اسلام آباد میں حکومت ہو تاکہ فنڈز کے حصول میں دشواری نہ ہو۔ لہازا سہیل وڑائچ کا خیال ہے کہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں بہت بڑے پیمانے پر دھاندلی نہیں ہوئی۔

Back to top button