کیا ن لیگ شریفوں کو بچانے کے لئے ترمیم کی حمایت کرے گی؟

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کی اٹھارہویں آئینی ترمیم میں مزید ترمیم کی خواہش پوری کرنے کے لیے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون نے مستقبل قریب میں لائے جانے والے نیب ترمیمی آرڈیننس میں اپنی جانب سے ایسی شقیں شامل کروانے کی کوششیں شروع کردی ہیں جس کے نتیجے میں لیگی قیادت کو دی گئی سزائیں ختم ہو جائیں گی۔
باوثوق میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میڈیا پر زیر بحث آنے والے نیب ترمیمی ڈرافٹ کے برعکس ایک ترمیمی مسودہ مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے تعاون سے تیار کیا کررکھا ہے اور اسے پاور بروکرز کے ساتھ شیئر بھی کیا گیا ہے۔ اگر مذکورہ مسودے کے اہم نکات کو حکومت کی جانب سے زیرغور نیب ترمیمی ایکٹ میں شامل کر لیا جاتا ہے تو سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی سزائیں ختم ہو جائیں گی۔ اس کے بدلے میں ن لیگ مستقبل میں تحریک انصاف حکومت کی خواہش کے عین مطابق اٹھارویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم کے لیے حکومت کا ساتھ دے سکتی ہے۔ تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس اہم بارگین میں گارنٹر کون ہوگا اور وزیراعظم عمران خان اپنے سب سے بڑے سیاسی مخالف نواز شریف اور ان کی فیملی کو ریلیف دینے کے لیے کیا اس حد تک جانا افورڈ کریں گے یا نہیں۔
مجوزہ مسودے کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمومی طور پر پورے سیاسی طبقے اور خصوصاً نواز شریف کے لئے فائدہ مند ہوگا جنہیں نااہل قرار دے کر اقتدار سے باہر کیا گیا۔ زیر بحث مجوزہ ترمیم نااہلیت سے تعلق رکھنے والے آرڈننس کی دفعہ۔15 سے متعلق ہے۔ اس وقت ٹرائل کورٹ سے سزا کے ساتھ ہی مجرم کو نا اہل قرار دے دیا جاتا ہے لیکن مجوزہ تبدیلی کے تحت جب اپیل کے تمام تقاضے پورے ہوجائیں تب سزا شروع ہونی چاہئے۔ مجوزہ ترمیمی مسودے میں چیئرمین نیب کے اختیارات میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے۔ ان کی معیاد ملازمت چار سے کم کر کے تین سال کی گئی ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل کی تقرری صدر پاکستان اور چیئرمیں نیب کے درمیان مشورے سے ہو گی۔ شاہد خاقان عباسی نے مجوزہ ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہم خود اپنے لئے نہیں کر رہے۔انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر بات کرنے کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں لیکن اسے ختم کر نا آسان نہیں ہے۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ لاہور کے ایک بزنس مین جو حالیہ عرصہ میں نیب کے زیر حراست رہے ،وہ اس عمل میں رابطے کا کردار ادا کر رہے ہیں کیونکہ وہ خود بھی پاور بروکرز کے قریب ہیں۔ گزشتہ مہینے 24 اپریل کو ان کی رہائش گاہ پرایک اہم ملاقات کا بندوبست کیا گیا، جہاں ترامیم کا مذکورہ مسودہ تیار ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ن لیگ اور فاروق ایچ نائیک نے پیپلز پارٹی کی نمائندگی کی۔ اگرچہ شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ وہ مذکورہ اجلاس کا حصہ نہیں تھے لیکن موقع کی تصویر میں وہ نمایاں نظر آ رہے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف ترامیم کے حق میں نہیں بلکہ ان کا زور تو نیب کو ختم کردینے پر ہے۔
دوسری جانب شاہد خاقان عباسی نے نئے مسودے کی تیاری کی تصدیق نہیں کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے نیب میں اصلاحات کی غرض سے مسودے میں سفارشات شامل کی ہیں البتہ انہوں اس تاثر کو قطعی مسترد کر دیا کہ مجوزہ مسودہ غیر سیاسی کرداروں سے شیئر کیا گیا یا اسے اٹھارہویں آئینی ترمیم پر سودےبازی کے آلے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کو انہی کی خواہش پر ہی مشترکہ دوست کے ذریعہ مفاہمت کے لئے بات چیت کی ذمہ داری سونپی گئی کیونکہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کرنے والے ریٹائرڈ جرنیل جو ملک کی طاقتور ترین عسکری شخصیت کے سسر ہیں، وہ اب نیب ترامیم کے معاملے میں کسی بھی قسم کا کردار ادا کرنے سے معذرت کرچکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button