کیا واقعی پاکستان کی حیثیت چین کے اسرائیل کی سی ہے؟

آج سے پانچ عشرے قبل چین اور بھارت کی آپس میں خوب بنتی تھی جبکہ پاکستان اس وقت کمیونسٹ نظام حکومت کے خلاف تھا۔ بعدازاں علاقائی سلامتی، ترقی کے خواب اور مستقبل کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان اور چین نے باہمی تعلقات کو اس قدر بلندی تک پہنچا دیا کہ اب سفارتی حلقوں میں یہ جملہ عام سننے کو ملتا ہے کہ جس طرح عرب ریاستوں میں گھرا چھوٹا سے اسرائیل میں امریکہ کی جان ہے، اسی طرح پاکستان بھی چین کے لیے اسرائیل سے کم اہمیت نہیں رکھتا۔
آج باہمی شیرو شکر نظر آنے والے پاکستان اور چین کے سیاسی ثقافتی اور تجارتی تعلقات ماضی میں اتنے مضبوط نہ تھے بلکہ ایک زمانے میں یہ دونوں ملک مخالف سمتوں کی جانب سفر کر رہے تھے۔ آج پاک چائنہ دوستی کا جو عملی نمونہ دیکھنے کو ملتا ہے وہ کئی دھائیوں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔ اس سفر میں کئی نشیب و فراز بھی آتے رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب امریکیوں نے چینیوں سے شکوہ کیا کہ ان کی غیر مشروط حمایت کے سبب پاکستان اتنا بگڑ گیا ہے کہ کسی کی نہیں سنتا تو پیپلز لبریشن آرمی کے جنرل ژینگ کوانگ کائی نے جواب میں کہا کہ پاکستان چین کا اسرائیل ہے۔
1950 میں انڈیا اور پاکستان نے عوامی جمہوریہ چین کی کیمونسٹ حکومت کو یکے بعد دیگرے تسلیم کر لیا تھا مگر اس زمانے میں چین مغرب نواز جاگیردارانہ طبقے اور نوکر شاہی کے چنگل میں پھنسے پاکستان کے بجائے نہرو کے سوشلسٹ، غیر جانبدار، سامراج مخالف انڈیا سے خود کو زیادہ قریب سمجھتا تھا۔ جون 1950 میں جنوبی کوریا پر کیمونسٹ شمالی کوریا کی جانب سے چین کی مدد سے حملے کے خلاف مسلح بین الاقوامی ایکشن کی جو امریکی قرارداد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک ویٹو پاور سوویت یونین کی غیر حاضری کے نتیجے میں منظور کی اس کی انڈیا اور پاکستان نے بھی حمایت کی، مگر نہرو نے بعدازاں یہ بھی کہا کہ چین کو تائیوان کی جگہ اقوامِ متحدہ کا رکن بنانا چاہیے تاکہ کوریا کی جنگ کا کوئی معقول حل نکلنے میں مدد مل سکے۔ نہرو کی اس تجویز کا امریکہ نے تو خیر برا منایا ہی ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے روزنامہ ڈان نے بھی اپنے اداریے میں اس تجویز کو بے وقت کی راگنی قرار دیا۔
پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان حکومت نے اگرچہ کوریا میں فوج بھیجنے سے تو پاک انڈیا کشیدگی کا عذر پیش کر کے معذرت کر لی مگر اتحادی فوجوں کے لیے پانچ ہزار ٹن گندم کی مدد بھیجنے کی پیش کش ضرور کی حالانکہ اسوقت پاکستان خود غذائی قلت کا شکار تھا۔ تاہم جنگِ کوریا سے پاکستان کی پٹ سن کی صنعت کو خاصا فائدہ ہوا اور قیمتی زرِ مبادلہ حاصل ہوا۔مئی 1951 میں امریکہ نے شمالی کوریا کے اتحادی چین کے خلاف جنرل اسمبلی میں قرار داد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ چین کو ایسی اشیا کی برآمدات روکی جائیں جن کا فوجی استعمال ہو سکتا ہو۔ پاکستان اس موقع پر غیر حاضر رہا مگر دو ماہ بعد اس نے اس قرارداد پر رضاکارانہ عملدرآمد کا فیصلہ کر لیا۔اس تناظر میں جب پاکستانی ڈومینین کے پہلے سفیر برائے چین میجر جنرل این اے ایم رضا نے پیکنگ میں چیئرمین ماؤزے تنگ کو اسنادِ سفارت پیش کیں تو چیئرمین نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ مجھے شاہِ برطانیہ کی جانب سے پیش کردہ کاغذات وصول کرتے ہوئے نہایت مسرت ہے۔
برٹش انڈیا اور تبت کے درمیان کھچی سرحدی لکیر میک موہن لائن کی بابت چین کبھی بھی مطمئن نہیں تھا۔ یہ سرحدی تنازع برٹش انڈیا سے انڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی منتقل ہوا کیونکہ چین لداخ سے ہنزہ تک کی پٹی کو اپنا حلقہِ اثر سمجھتا تھا۔ 1953 میں چین کی جانب سے متعدد بار ہنزہ سے ملنے والی سرحد کی خلاف ورزی کی گئی۔ چنانچہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان نے خبردار کیا کہ چینی دراندازی جاری رہی تو اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔جولائی 1953 میں کوریا میں عارضی جنگ بندی ہو گئی۔ پاکستان کو غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے امریکی گندم کی فراہمی شروع ہو گئی۔
1954 میں پاکستان سیٹو اور اگلے برس سینٹو کے مغربی اتحاد میں شامل ہوگیا تاکہ کیمونسٹ پیش قدمی روکی جا سکے۔پاکستان کو امریکی اسلحے کی فراہمی شروع ہوگئی جس کی مدد سے چار نئے فوجی ڈویژن وجود میں آئے اور فضائیہ و بحریہ کی بھی جدید کاری کا آغاز ہوا۔1955 میں انڈیا نے چین کو اقوامِ متحدہ کا رکن بنانے کی قرار داد پیش کی مگر پاکستان ان دنوں امریکی اتحادیوں میں شامل تھا جنھوں نے اس قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ چین کی رکنیت کے معاملے کو کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھا جائے۔تاہم پاکستانی وزیرِ اعظم محمد علی بوگرہ نے بنڈونگ میں غیر جانبدار تحریک کی پہلی چوٹی کانفرنس میں چینی وزیرِ اعظم چواین لائی کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو چین کے خلاف نہ سمجھیں بلکہ اسے پاک انڈیا کشیدہ تعلقات کے تناظر میں دیکھیں۔ جانے اس یقین دہانی پر انڈیا دوست امریکہ دشمن چواین لائی نے دل ہی دل میں کیا کہا ہوگا کیونکہ اس دور میں ’ہندی چینی بھائی بھائی‘ کے نعرے لگ رہے تھے۔
سنہ 1959 میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ ہوا جس کے تحت پشاور کے نزدیک بڈھ بیر کا ہوائی اڈہ سوویت یونین اور چین کی جاسوسی کے لیے پینٹاگون اور سی آئی اے کے حوالے کر دیا گیا۔ پاکستان میں کیمونسٹ ہمدردوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں شدت آ گئی۔دوسری جانب سوویت یونین اور چین میں نظریاتی کشیدگی رفتہ رفتہ کھل کے سامنے آ گئی۔ انڈیا اور چین کا بھی ایک دوسرے سے دل میلا ہونا شروع ہو گیا کیونکہ چین نے انڈیا کو بتائے بغیر شنجیانگ کو تبت سے ملانے والی ساڑھے سات سو میل طویل ویسٹرن ملٹری روڈ مکمل کر لی۔ انڈیا نے کہا کہ اس روڈ کے 112 میل ایسے علاقے سے گزرتے ہیں جسے وہ اپنا حصہ سمجھتا ہے۔ ستمبر 1959 میں ایوب حکومت کو چین کی جانب سے سرحدی نقشے موصول ہوئے جن میں ہنزہ کے درہ ِ شمشال تک کا علاقہ چین میں دکھایا گیا تھا۔ اکتوبر میں انڈیا اور چین کے مابین پہلی سرحدی جھڑپ ہوئی۔ ایوب خان نے انڈیا کو شمال کی جانب سے بحرِ ہند کے گرم پانیوں کو لاحق خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ دفاع کے معاہدے کی پیش کش کی جو انڈیا نے مسترد کردی۔
انڈیا چین تعلقات اس وقت اور بگڑ گئے جب نہرو نے تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ سمیت ہزاروں تبتی پناہ گزینوں کو نہ صرف اپنے ہاں رکھنے کا اعلان کیا بلکہ دلائی لامہ کو تبت کی جلا وطن حکومت قائم کرنے کی بھی اجازت دے دی۔سنہ 1960 میں چواین لائی نے چین انڈیا سرحدی تنازع ختم کرنے کے لیے تجویز دی کہ اگر بھارت لداخ سے متصل اکسائی چن کے علاقے پر چینی عملداری تسلیم کر لے تو اس کے عوض چین ہمالیہ کی جنوبی ترائی پر سے اپنا دعویٰ واپس لینے کو تیار ہے۔ نہرو حکومت نے یہ تجویز مسترد کر دی۔اور پھر بڑھتی ہوئی بدزنی کے نتیجے میں کرنا خدا کا یہ ہوا کہ چین نے 1962 میں انڈیا کو دو سرحدی علاقوں میں بری طرح پیٹ ڈالا۔
انڈیا کی چیخ و پکار سن کر امریکہ اور سوویت یونین اسکی مدد کو دوڑے آئے۔ پاکستان پہلے تو امریکی رویے پر ششدر رہا اور پھر چین کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا تاریخی فیصلہ کر لیا۔ فٹافٹ سرحدی حد بندی کا سمجھوتہ بھی ہوگیا اور 1965 کو پاک بھارت جنگ نے تو پاک چین دوستی کے مستقبل پر مہرِ تصدیق ثبت کردی۔ بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں چین اور پاکستان ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن گئے اور پاک چین دوستی زندہ باد کے نعرے ہر طرف گونجنے لگے۔
اب یہ صورت ہے کہ شمال کے جس خطرے سے ایوب خان انڈیا سے مل کر نمٹنا چاہ رہے تھے وہی خطرہ دوستی میں ڈھل کے گوادر کے گرم پانیوں تک خوشی خوشی پہنچ چکا ہے۔ یہی نہیں بلکہ چین نے پاکستان میں پاک چین اکنامک کوریڈور کے لئے 62 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا آغاز کردیا ہے اور اب دونوں جوانب کے سیاسی رہنما اکثر یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ پاک چین دوستی کوہ ہمالیہ سے بلند، شہد سے زیادہ میٹھی اور سمندر سے زیادہ گہری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button