کیا وسیم اکرم کے خلاف کپتان کی وجہ سے ایکشن نہیں ہو رہا؟

سابق چئیرمین پی سی بی خالد محمود نے میچ فکسنگ میں ملوث وسیم اکرم پر جہاں تاحیات پابندی کا مطالبہ کیا ہیں وہیں کرکٹر شعیب اختر نے بھی کرکٹ بورڈ سے میچ فکسنگ بارے قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے ماضی میں فکسنگ سکینڈلز کے الزامات کا سامنا کرنے والے کھلاڑیوں پر تا حیات پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم یہ تاثر عام ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا قریبی دوست ہونے کی وجہ سے کرکت بورڈ نے نہ تو پہلے وسیم اکرم کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے اور نہ ہی آئندہ کسی قسم کی کوئی کارروائی کرے گا۔
شعیب اختر نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں میچ فکسنگ روکنے کے لیے قومی اسمبلی سے ایک ’کریمینل ایکٹ پاس کروانے اور پیسوں کے عوض ملک کی عزت نیلام کرنے والے کھلاڑیوں کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم ویڈیو نشر ہونے کے بعد پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے ہتکِ عزت پر شعیب کو 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا ہے۔ لیکن سچ تو یہ یے کہ شعیب اختر نے بڑے مدلل انداز میں پی سی بی کی میچ فکسنگ کے حوالے سے دوغلی پالیسی کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے کرکٹ بورڈ کو بے نقاب کر دیا ہے۔
عمر اکمل پر پابندی نرم ہے یا سخت، یہ تو کوئی قانونی ماہر ہی بتا سکتا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ عمران خان کے دوست پی سی بی چیئرمین احسان مانی سے فکسنگ کے خلاف قانون سازی بارے شعیب اختر کے حالیہ مطالبے سے پہلے تک بورڈ میچ فکسنگ بارے کڑی سزاؤں کی نظیر قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ میچ فکسنگ اور قمار بازی جیسے جرائم کی روح میں جھانک کر دیکھا جائے تو دراصل ایک شخص محض اپنے مالی فائدے کے لیے نہ صرف کھیل، بلکہ کروڑوں شائقین کے جذبات سے بھی کھلواڑ کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ چند کتوں کی خاطر پاکستان کا نام بیچنے والے قومی مجرموں کی سرکوبی کیلئے ابھی تک کوئی قوانین نہیں بنائے جا سکے ہیں۔ سری لنکا ہو، برطانیہ ہو یا کہ آسٹریلیا، وہا میچ فکسنگ پر سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں اور ان کا اثر متعلقہ کرکٹ کلچر میں جھلکتا بھی ہے۔
اس لیے شعیب اختر نے اپنی ویڈیو میں بالکل جائز سوال کیا ہے کہ ’آخر پاکستان میں میچ فکسنگ کو ایک جرم قرار دیتے ہوئے اس بارے میں کوئی قانون کیوں نہیں بنایا گیا؟حالانکہ پاکستان کئی دہائیوں سے میچ فکسنگ کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے۔90 کی دہائی کے کرکٹ شائقین اس وباء سے اچھی طرح واقف ہیں کیونکہ پاکستان میں پنپنے والا یہ وہ کرکٹ کلچر ہے جہاں آج تک کوئی نہیں جان پایا کہ ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میچ سے صرف پانچ منٹ پہلے ہی اچانک کپتان کے کندھے میں درد کیوں پڑ جاتا ہے۔ عامر سہیل کا بیان آج بھی ریکارڈ پر ہے مگر پی سی بی نے کبھی اس بارے حقائق جاننے کی کوشش نہیں کی۔
دراصل یہی وہ کرکٹ کلچر ہے جہاں عطاءالرحمان جیسا ایک کمزور کھلاڑی جسٹس ملک کیوں کمیشن کے سامنے وسیم اکرم جیسے مضبوط ترین کپتان پر تین لاکھ روپے کے عوض اسے میچ فکسنگ کی آفر دینے کا الزام عائد کرتا ہے، لیکن پھر مُکر جاتا ہے اور بعد ازاں دعویٰ کرتا ہے کہ چیئرمین بورڈ نے بیان بدلنے کے لیے اس پر دباؤ ڈالا تھا۔ پی سی بی چیئرمین خالد محمود اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اس معاملے پر چپ رہتا ہے مگر 20 سال بعد ایک دن اچانک بول پڑتا ہے کہ عطاء الرحمان کا الزام درست تھا۔ یہی نہیں، وہ 1999 کے ورلڈ کپ فائنل سمیت تین میچز کو بھی مشکوک قرار دیتا ہے۔ سوال یہ بھی یے کہ اپنے عہد میں وسیم اکرم کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے چیئرمین خالد محمود اب کیوں یہ کہہ رہے ہیں کہ عطاء الرحمان بیان نہ بدلتے تو وسیم اکرم پر بھی تاحیات پابندی لگ جاتی؟
پاکستان میں یہ کیسا کرکٹ کلچر ہے کہ جہاں ایک سزا یافتہ سابق کھلاڑی پی سی بی میں نوکری کے لیے ویڈیوز بنا رہا ہے اور اس کے کئی ’بیچ میٹ‘ ماضی، حال اور مستقبل میں بھی پی سی بی کی خدمات کے لیے وقف ہوئے بیٹھے ہیں۔ جسٹس قیوم رپورٹ میں نامزد لگ بھگ سبھی سزا یافتگان پی سی بی کے لیے خدمات ادا کر چکے ہیں چنانچہ اب سلیم ملک بھی بھی بورڈ میں عہدہ مانگ رہے ہیں۔
شعیب اختر نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ بورڈ نے فکسنگ میں ملوث مختلف کھلاڑیوں سے مختلف برتاؤ کیوں کیا؟ چیئرمین پی سی بی احسان مانی کے سامنے یہ سارے سوال ایک بحران کی مانند کھڑے ہیں لیکن ان کی طرف سے اب تک کوئی جواب نہیں آرہا ہے۔ میچ فکسنگ کے اس بدنما داغ نے پچھلے 35 برسوں میں بار بار پاکستان کرکٹ کے چہرے کو داغ دار کیا ہے۔ لیکن اب جب کہ 1992 میں ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا کپتان عمران خان ملک کی قانون ساز اسمبلی کا سربراہ ہے تو اسے میچ فکسنگ کے خلاف قانون سازی کر کے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کر دینا چاہیے تاکہ آئندہ کسی کھلاڑی کو ملکی عزت کے ساتھ اس طرح کا کھلواڑ کرنے کی جرات نہ ہو۔ لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے چونکہ میچ فکسنگ میں ملوث جن افراد کے نام لئے جا رہے ہیں وہ کپتان کے قریبی دوستوں میں شامل ہیں خصوصا وسیم اکرم۔
