کیا پاسپورٹ ختم ہونے پر نواز شریف گرفتار ہو سکتے ہیں؟

اپنے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے کے باوجود لندن میں مقیم سابق وزیر اعظم نواز شریف کی شہریت ختم نہیں ہو سکتی اور نہ اُن کے شناختی کارڈ کو بلاک کیا جا سکتا ہے کیونکہ پاسپورٹ ایک سفری دستاویز ہے جس کے ختم ہونے سے کسی ملک کی شہریت ختم نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح پاسپورٹ ختم ہونے کے بعد میاں نواز شریف کی پاکستان حوالگی کا بھی کوئی امکان نہیں کیونکہ برطانوی حکومت اس حوالے سے حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کرچکی ہے۔
یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پاکستانی پاسپورٹ کی معیاد 15 فروری 2021 کو ختم ہو گئی ہے جبکہ حکومت پہلے ہی یہ کہہ چکی ہے کہ سابق وزیر اعظم کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں کی جائے گی۔ پاسپورٹ کی تجدید نہ کرنے کی وجہ شیخ رشید یہ بتاتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم کو مختلف عدالتیں اشتہاری قرار دے چکی ہیں اس لیے ان کے پاسپورٹ کی معیاد میں تجدید نہیں کی جا سکتی۔ دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان اور ان کے وزرا متعدد اعلانات کے باوجود نواز شریف کو اب تک وطن واپس لانے میں ناکام رہے ہیں اور بظاہر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے کے باوجود بھی سابق وزیر اعظم کو وطن واپس لانا ممکن نہیں ہو گا۔
خیال رہے کہ نواز شریف نے جب برطانیہ کا سفر اختیار کیا تھا تو اُن کے پاس ڈپلومیٹک پاسپورٹ تھا۔ انھیں ڈپلومیٹک پاسپورٹ اس وقت جاری کیا گیا تھا جب وہ ملک کے وزیرِ اعظم تھے۔ بعد ازاں شیخ رشید احمد نے وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ حکومت سابق وزیر اعظم نواز سرئف کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں کرے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں تجدید کا عمل وزارت داخلہ کے ماتحت ادارے ہی کرتے ہیں۔ جس کا میں وزیر ہوں۔
اس حوالے سے یرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے کے بعد اس کی تجدید کے لیے سابق وزیر اعظم برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کو درخواست نہیں دے سکتے اور نہ ہی برطانیہ کی کوئی عدالت اس پاسپورٹ کی تجدید کے لیے پاکستانی ہائی کمیشن کو کوئی حکم نامہ جاری کر سکتی ہے۔اُنھوں نے کہا کہ اگر نواز شریف خود وطن واپس آنا چاہیں تو وہ برطانوی ہائی کمیشن کو درخواست دے سکتے ہیں جس کی بنیاد پر پاکستانی ہائی کمیشن انھیں ایک عارضی سفری دستاویز تیار کر کے دے گا جس پر وہ صرف پاکستان کا ہی سفر کر سکیں گے۔ فوجداری مقدمات کی ماہر وکیل زینب جنجوعہ کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کے پاس کسی بھی شخص کے پاسپورٹ کی تجدید کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں اختیار ہے لیکن اس کی شہریت ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے جب تک کہ کوئی شخص کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنے کے بعد بذات خود پاکستانی شہریت کو ختم کرنے کی درخواست دائر نہ کر دے۔ اُنھوں نے کہا کہ شناختی کارڈ رکھنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور کوئی عدالت بھی شہری کو اس کے بنیادی حق سے محروم نہیں کر سکتی۔ زینب جنجوعہ کا کہنا تھا کہ کچھ ایسی مثالیں ہیں کہ کسی شخص کا شناختی کارڈ وقتی طور پر بلاک کر دیا گیا ہو لیکن شہریت منسوخ کرنے کی مثال نہیں ہے۔
اس حوالے سے ایک اور سوال جو لوگوں کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم کے پاسپورٹ کی تجدید نہ ہونے کے باعث کیا برطانیہ اُن کو ملک بدر کر سکتا ہے؟ بیرسٹر علی ظفر کے مطابق برطانوی قوانین میں اگر کسی شخص کے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہو جائے تو اس کا سٹیٹس کو برقرار رہے گا اور اس کو ملک بدر نہیں کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ ضرور ہے کہ پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے سابق وزیر اعظم کسی دوسرے ملک کا سفر نہیں کر سکیں گے۔ یاد ریے کہ دس سال قبل برطانیہ میں ’ان ڈاکومینٹڈ امیگرینٹس‘ کی تعداد ساڑھے چار کے قریب تھی جبکہ برطانوی حکام کو یہ خدشہ ہے کہ اب تک یہ تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ برطانوی حکومت نے کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کے لیے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ برطانیہ میں مقیم تمام افراد اس ویکسین کو لگوائیں چاہے ان کے پاس قانونی دستاویز موجود ہیں یا نہیں۔ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں اس معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے اور ان مذاکرات کی روشنی میں ایک مجوزہ مسودہ بھی تیار کر لیا گیا تھا لیکن یہ معاملہ اپنے حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا تھا۔
پاکستانی حکام نے مختلف عدالتوں کی طرف سے نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کے بعد سابق وزیر اعظم کو وطن واپس لانے کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا تھا تاہم انٹرپول کی طرف سے کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا گیا۔ ایف ائی اے کے ایک اہلکار کے مطابق انٹرپول کے حکام نے حکومت سے کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے اس حوالے سے برطانوی حکومت کو بھی خطوط لکھے تھے لیکن اس کا بھی کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ برطانیہ کے دورے کے دوران وہ اپنے برطانوی ہم منصب سے ملاقات کر کے نواز شریف کو وطن واپس لانے کی بات کریں گے تاہم ابھی تک برطانوی وزیر اعظم کی طرف سے عمران خان کو دورہ برطانیہ کی دعوت نہیں ملی۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حکومت نے نواز شریف کے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے سے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ اس کی تجدید نہیں کریں گے اور یہ موقف درحقیقت سابق وزیر اعظم کو فائدہ پہنچانے کے مترادف تھی۔
انکے خیال میں بہتر ہوتا کہ اس پاسپورٹ کی معیاد ختم ہو جاتی اور نواز شریف کی طرف سے پاسپورٹ کی تجدید کے لیے کوئی درخواست نہ دی جاتی تو پھر حکومت کی طرف سے یہ بیان آتا کہ سابق وزیر اعظم کے پاسپورٹ کی معیاد کی تجدید نہیں کی جائے گی۔ اس سے پہلے سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار پاکستانی حکام کی جانب سے اپنا پاسپورٹ بلاک کرنے کے بعد برطانیہ کے ہوم ڈیپارٹمنٹ چلے گئے اور یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ پاکستانی حکام نے ان کا پاسپورٹ بلاک کر دیا ہے اس لیے وہ کہیں اور نہیں جا سکتے۔ اسحاق ڈار کو بھی احتساب عدالت نے اشتہاری قرار دینے کے علاوہ ان کی جائیداد کو ضبط کرنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔ پاکستانی حکام نے اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کے لیے انٹرپول اور برطانوی حکام کو درخواستیں دی تھیں تاہم وہاں سے پاکستانی حکومت کو کوئی مثبت ردعمل نہیں ملا۔ برطانوی حکومت اور انٹرپول نے حکومت پاکستان کی مدد کرنے سے انکار کرتے یوئے کہا ہے کہ اسحاق ڈار کے خلاف سیاسی انتقام کی بنیاد پر کارروائی کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی حکومت کے ترجمان اور وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو پاکستانی حکومت کے حوالے کرے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان نے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں عالمی برادری کا بہت ساتھ دیا ہے اور اب بھی پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل درآمد کرتے ہوئے دنیا کو شدت پسندی سے محفوظ رکھنے کے لیے فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اگر برطانیہ میں وائٹ کالر جرائم میں ملوث عناصر پناہ لیں گے تو دنیا میں برطانیہ کا تشخص خراب ہو گا۔ حکومت میں شامل اہم شخصیات یہ بارہا کہہ چکی ہیں کہ نواز شریف کو وطن واپس نہیں لایا جا سکتا اور اگر ان کی واپسی کے لیے برطانوی عدالت سے رابطہ بھی کیا جائے تو اس میں بھی اتنا وقت لگ جائے گا کہ شاید اس وقت تک پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں نہ ہو۔ موجودہ حکومت میں شامل ایک شخصیت کا کہنا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں جب نواز شریف سعودی عرب سے برطانیہ چلے گئے تھے تو اُنھیں برطانیہ سے واپس بھیجنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس میں کامیابی نہیں ملی تھی۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے جب ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران جب یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا وہ نواز شریف کو وطن واپس لا سکتے ہیں تو ان کا جواب دیا تھا کہ ’نواز شریف کو پاکستان صرف اللہ ہی واپس لا سکتا ہے۔‘
پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے رہنما سینیٹر جاوید عباسی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے موقف میں اس حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور وہ موقف یہ ہے کہ جب تک ڈاکٹر نواز شریف کو وطن واپس آنے کی اجازت نہیں دیتے اس وقت تک وہ پاکستان نہیں آئیں گے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ اس بات پر متفق ہیں اور اُنھوں نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ جب تک میاں نوام شریف کا لندن میں علاج جاری ہے اس وقت تک انھیں پاکستان واپس آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سینیٹر جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے میاں نواز شریف کے پاسپورٹ کی معیاد میں تجدید نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ پوری دنیا کو معلوم ہے کہ موجودہ حکومت سابق وزیر اعظم کو ذاتی عناد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ انٹرپول کی طرف سے حکومت کے ساتھ عدم تعاون اس بات کا ثبوت ہے کہ میاں نواز شریف کے خلاف مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں۔
