کیا پالتو کتوں کو زہریلے انجکشن سےمارنا جائز تھا؟

سوشل میڈیا پر جانوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے صارفین نے کراچی میں ایک وکیل کو کاٹنے والے دو پالتو جرمن شیفرڈز کتوں کو زہریلے انجکشن لگا کر مارنے کے عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سراسر ظلم قرار دیا ہے اور ایسا کرنے والے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ ڈیفنس میں ایک وکیل پر صبح کی سیر کے دوران حملہ کرنے والے دونوں پالتو کتوں کو فریقین کے درمیان ہونے والے صلح نامے کے تحت زہر کا انجکشن دے کر مار دیا گیا ہے۔ ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زہر کا انجکشن لگانے کے بعد پالتو کتوں کی ہلاکت پر ان کا مالک افسردہ حالت میں ان کے پاس بیٹھا ہے۔
حال ہی میں کتوں کے حملے میں زخمی ہونے والے شخص اور کتوں کے مالک کے مابین ایک صلح نامہ طے پایا تھا جس میں فیصلہ ہوا تھا کہ جن کتوں نے حملہ کیا تھا انہیں بغیر تکلیف دئیے مار دیا جائے گا۔ اسکے علاوہ جرمانے کے طور پر کتوں کے مالک نے ایک خیراتی ادارے میں 10 لاکھ روپے عطیہ بھی جمع کروائے ہیں۔ صلح نامے میں یہ بھی شرط رکھی گئی تھی کہ کاتنے والے کتوں کا مالک ہمایوں خان کسی بھی خطرناک جانور کو بطور پالتو جانور اپنے پاس نہیں رکھیں گے اور اگر وہ دوبارہ گھر پر کوئی پالتو کتا رکھیں گے تو اس کو کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے دفتر میں رجسٹرڈ کروائیں گے۔ صلح نامے کی رو سے اگر کبھی انہوں نے دوبارہ کتے رکھے اور ان کو گھر سے باہر لے جانا ہوا تو انہیں ٹرینرز کی نگرانی میں لے جانا ہو گا اور مکمل حفاظتی انتظامات کرنا ہوں گے۔
قبل ازیں کراچی کی ایک مقامی عدالت نے ڈیفنس میں سینئر وکیل مرزا علی اختر کو کتوں کے کاٹنے کے کیس میں انکے مالک ملزم ہمایوں خان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔ اس سے پہلے کراچی سٹی کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے ڈیفنس میں سینئر وکیل مرزا علی اختر کو کاٹنے والے کتوں کے مالک ہمایوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں عدالت نے اسکی ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بظاہر ملزم کی جانب سے مجرمانہ غفلت برتی گئی اور کتوں کے کاٹنے کی وجہ سے وکیل کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ تاہم بعدازاں دونوں پارٹیوں میں کتوں کو مارنے اور دس۔لاکھ روپے جرمانے کی شرط پر تصفیہ ہو گیا تھا۔
لیکن دونوں پالتو کتوں کو زہریلا انجیکشن دے کر مارے جانے کے عمل کی وسیع پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے اور اسے ایک غیر انسانی فعل قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر کتوں کے مالک کی دونوں جرمن شیفرڈز کی لاشوں کے ساتھ وائرل تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کتوں کا کیا قصور تھا؟ اصل قصور وار تو ان کا مالک تھا جس نے انہیں بغیر پٹے کے شہر کی مصروف ترین سڑک پر نکال دیا اور یوں ایک افسوس ناک واقعہ رونما ہو گیا۔ اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیا صارف وقار نے لکھا کہ جرمن شیفرڈ نہایت ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت متحرک اور ایتھلیٹک طبعیت کے ہوتے ہیں جن کو اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بہت زیادہ ورزش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ان کو زیادہ یا مناسب ورزش نہ ملے تو وہ نامناسب رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اس۔لیے ضروری ہے کہ ان کو روزانہ سیر اور کھیل کود کرائی جائے۔ وقار کے مطابق سب سے ضروری یہ ہوتا ہے کہ کتوں کو چھوٹے عمر سے ہی لوگوں سے دوستی کی تربیت دی جائے۔ اس تربیت میں عام طور پر کتوں کا دوسرے کتوں اور عام انسانوں سے ملنا جلنا شامل ہوتا ہے۔ وقار کے مطابق حملے کی ویڈیو میں جس طرح ان کتوں نے حملہ کیا اور ان کا رکھوالا انہیں کھینچتا رہ گیا اس سے صاف ظاہر ہے کہ کتے تربیت یافتہ نہیں تھے لہذا انہیں ایک شاہراہ عام پر نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان کتوں نے کسی شخص کو کاٹ بھی لیا تھا تو ان کی سزا موت ہرگز نہیں تھی۔
دوسری جانب آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کراچی میں اس طرح کا واقعہ ہوا یے۔ انہوں نے کہا کہ کتوں کے مالک کو ہمسائیوں نے کئی بار واررنگ دی تھی کیونکہ وہ بہت ذیادہ غصیلے تھے اور ہر کسی پر حملہ کر دیتے تھے لیکن اس مسلے پر توجہ نہ دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات ان کے ذاتی علم میں ہے کہ مرنے والے دونوں کتوں کی ڈیفنس اتھارٹی کے دفتر میں شکایت بھی کی گئی تھی لیکن متعلقہ حکام کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ شرمین نے کہا کہ تربیت دینا تو مالک کا کام ہے نہ کہ کتے خود سیکھ جاتے۔ شاید کتون کے مالک یہ بھول گئے تھے کہ ان کے پاس شیٹزو نہیں بلکہ جرمن شیفرڈ ہیں جان کا جبلتی رویہ بڑے ہونے کے ساتھ نمایاں ہونے لگتا ہے اور اس رویے کو دبانے یا اس سے چھٹکارہ پانے کے لیے تربیت بہت ضروری ہے۔ تاہم شرمین کا خیال تھا کہ ان کتوں کو مار ڈالنے کے بجائے کسی ایسے شخص کے حوالے کیا جاتا جو صرف کتوں کو حاصل کرنا ہی اپنا فرض نہ سمجھتا بلکہ ایک مالک ہونے کی ذمہ داریاں بھی نبھاتا۔
