کیا پاکستان حملوں سے دب کر طالبان کے مطالبات مان لے گا؟


کالعدم تحریک طالبان نے ایک جانب حکومت پاکستان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات بحال کرنے کا عمل شروع کر رکھا ہے جب کہ دوسری طرف اسکے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر دہشت گرد حملوں میں بھی تیزی آگئی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کی دوہری پالیسی کا مقصد پاکستان کودباؤ ڈال کر ناجائز مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان نے ایک جانب پاکستانی حکام کے ساتھ افغانستان میں جاری مذاکرات کے دوران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کر رکھا ہے تو دوسری جانب صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں قتل و غارت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جنگ بندی کا یہ سلسلہ عید الفطر سے پہلے شروع ہوا تھا اور عید کے بعد 15 مئی تک اس میں توسیع کر دی گئی تھی، پھر اچانک اس میں 30 مئی تک مزید توسیع کی گئی ہے۔تشدد کی حالیہ لہر کے دوران فوجی، نیم فوجی اہلکار، پولیس جوان، اقلیتی ارکان، اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں سے بیشتر خاص کر اقلیتی برادری کے ارکان کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے بھی ہلاک کیا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے پشاور کے علاقے تھانہ سربند کی حدود بٹہ خیل بازار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو سکھ تاجروں کو ہلاک کیا گیا تھا۔کشیدگی کی یہ حالیہ لہر کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات کس سطح پر ہو رہے ہیں اور یہ ماضی کے مذاکرات سے کتنے مختلف ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات سویلین نہیں بلکہ فوج حکام کر رہے ہیں حالانکہ ماضی میں پشاور آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پارلیمنٹ نے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیتے وقت فیصلہ کیا تھا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے اور انہیں سختی سے کچلا جائے گا۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی سے مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو کیا اس کے بعد داعش جیسی دیگر تنظیمیں بھی دباؤ ڈال کر پاکستان سے مطالبات تسلیم کروانے کی کوشش نہیں کریں گی؟دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بارے میں وفاقی حکومت کی جانب سے کسی قسم کا کوئی بیان جاری نہیں کیا جا رہا۔

خیبرپختونخوا میں تشدد کے واقعات میں حالیہ اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب تحریک طالبان نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی عقیل یوسف زئی کا کہنا ہے کہ اگرچہ افغانستان میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس کے باوجود تشدد کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں تو یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ ان واقعات میں کون ملوث ہے۔ پشاور کے سی سی پی او اعجاز خان نے بتایا کہ پشاور ہمیشہ سے شدت پسندوں کی ہِٹ لسٹ پر رہا ہے اور ان واقعات کی ذمہ داریاں کالعدم تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں جو واقعات پیش آئے ہیں ان میں بیشتر واقعات کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کچھ عرصہ پہلے حکیم ستنام سنگھ اور عیسائی پادری ولیم سراج کے قتل کی ذمہ داری بھی داعش یا آئی ایس نے لی تھی اس طرح کوچۂ رسالدار کی مسجد میں دھماکہ، دو سکھ تاجروں کی ہلاکت، پشار میں انٹیلی جنس بیورو کے اہلکاروں اور پولیس پر حملوں کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی ہے۔

اعجاز خان نے بتایا کہ اگرچہ داعش کے آپریٹرز یہاں زیادہ نہیں ہیں لیکن اس تنظیم کی سفاکیت کی وجہ سے جو بھی کارروائی کرتے ہیں اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ داعش کیسے یہاں اتنی متحرک ہوئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان میں اس تنظیم پر دباؤ بڑھا تو اس کے کارکن یا تو یہاں شفٹ ہوگئے ہیں یا ان کے جو کچھ آپریٹرز تھے ان کے ساتھ کچھ ملے ہوں گے۔ ’اس کے علاوہ یہاں جرائم پیشہ افراد بھی افغانستان میں جا کر ان تنظیموں میں شامل ہوتے ہیں کیونکہ ان جرائم پیشہ افراد کو یہاں چھپنے کی جگہ نہیں ملتی تو وہ ایسی تنظیموں کا سہارا لیتے ہیں اور اس کے لیے پھر ان جرائم پیش افراد کو فنڈنگ بھی ان ہی تنظیموں کی جانب سے ہوتی ہے۔‘

لیکن خیبر پختونخوا میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر سیف کاکہنا ہے کہ ’صوبے میں تشدد کے واقعات ضرور پیش آ رہے ہیں اور داعش کی جانب سے اکا دکا واقعات کی ذمہ داری قبول کی جا رہی ہے جن میں سکھوں، مسیحی برادری کے افراد اور پولیس اہلکاروں پر حملے شامل ہیں۔ لیکن صرف اتنا ہی خطرہ ہے جو ریاست کے لیے کوئی بڑا چیلنج نہیں ہے۔ سیف کا کہنا تھا کہ ان واقعات کی ذمہ داری داعش نے خود قبول کی ہے اور یہ امن و امان کی صورتحال ضرور ہے لیکن کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات شروع ہونے کے بعد اب صوبے میں داعش بھی حملے کر رہی ہے لیکن القاعدہ یا کوئی دوسری اس طرح کی تنظیم یہاں فعال نہیں ہے۔ سیف نے کہا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان عناصر کا قلع قمع کرنے کے لیے متحرک ہیں اور اس بارے میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان میں گذشتہ سال اگست میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں شدت آئی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ان حملوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ چنانچہ پاکستانی عسکری حکام نے ان حملوں کا دبائو لیتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کا ٹوٹا ہوا سلسلہ دوبارہ جوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن طالبان نے مذاکراتی عمل کے دوران ریاست پر اپنے مطالبات تسلیم کروانے کے لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر دہشت گرد حملے تیز کر دیے ہیں۔

تحریک طالبان کے مطالبات میں ایک بڑا مطالبہ قیدیوں کی رہائی کا رہا ہے جن میں دو اہم کمانڈرز مسلم خان اور محمود خان شامل ہیں۔ ان کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں طالبان رہنماؤں کو افغان طالبان کے حوالے کیا گیا ہے جو مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں انہیں تحریک طالبان کے حوالے کر دیں گے۔ سوشل میڈیا پر 30 قیدیوں کے نام سامنے آئے ہیں جنہیں رہا کیا گیا ہے جبکہ طالبان کی جانب سے بظاہر 102 قیدیوں کی فہرست حکومت کو دی گئی تھی۔ پاکستانی حکام کچھ طالبان قیدیوں کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے رہا کرنے سے انکاری ہے لہذا طالبان دباؤ ڈالنے کے لیے اپنے حملے تیز کر رہے ہیں۔

Back to top button