کیا پاکستان میں شادی کی تقریبات کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہیں؟

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد منگل کو ان کی جانب سے جاری بیان میں انہوں نے اپنی طبیعت کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے شہریوں سے ایس او پیز پر عمل درآمد اور احتیاط کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہی نہیں، بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے عوام کو یہ تلقین بھی کی کہ ہجوم والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔
واضح رہے کہ دو روز قبل ہی وزيراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو ایک معروف سیاستدان کی بیٹی کی شادی پر ماسک کی پابندی نہ کرتے ہوئے تقریب میں شرکت کرتے دیکھا گیا تھا جس کے اگلے ہی روز ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔
مقامی اور سوشل میڈیا پر موجود پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاستدان کی بیٹی کی شادی کی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے علاوہ دیگر سیاستدان اور معروف شخصیات نے بھی تقریب میں شرکت کی، جن میں سے بیشتر نے ماسک کی پابندی اور کورونا ایس اور پیز پر عمل نہیں کیا۔ اسی شادی میں شریک ایک مہمان نے بتایا کہ نکاح کی تقریب گھر کے لان میں ہی منعقد کی گئی تھی اور ان کے مطابق وہاں تقريباً دو سو سے زائد افراد نے شرکت کی۔ انہوں نے بتایا جگہ چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہاں سماجی فاصلہ رکھنا بھی ممکن نہیں تھا، اس لیے میں نے تقریب میں سب سے دور بیٹھنا مناسب سمجھا۔ ان حالات پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ معروف شخصیات جو عوام کو کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے کا کہتی ہیں، کم از کم وہ خود تو ان احتیاطی تدابیر کا عملی مظاہرہ کیا کریں۔ یہ تو وہی بات ہو گئی کہ ’دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فصیحت۔‘
یہ وہ واحد تقریب نہیں جس میں کورونا ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا جا رہا ہے، بلکہ اس وقت ملک بھر میں ہونے والی بیشتر شادی کی تقریبات میں ایسی ہی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس بارے میں ایک شادی ہال کے مالک محمد جہانزیب نے بتایا کہ وہ یا ضلعی انتظامیہ اس وقت تک ان ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کروا سکتے ہیں جب تک لوگ خود نہ کرنا چاہیں۔ ہم نے داخلی راستے پر ماسک اور سینٹائزر بھی رکھے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی لوگ ماسک نہیں پہنتے ہیں۔ جب تک لوگ اس کام کو سماجی ذمہ داری سمجھ کر نہیں کریں گے تب تک کچھ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مزيد بتایا کہ ایک شادی میں شریک مہمان کو جب میں نے کہا کہ ماسک پہن لیں تو کہنے لگے کہ آپ فکر مت کریں میں امتحان دے کر پاس بھی ہوگیا ہوں۔ میں نے پوچھا کیا مطلب؟ تو وہ بولے کہ مجھے کورونا ہوا تھا اور اب ٹھیک ہوں ایسے ہی لوگ زیادہ سر پر سوار کر رہے ہیں، اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ شادی ہال کے مالک نے یہ بھی کہا کہ ہم لوگوں کی اس سوچ اور ایسے رویوں سے کیسے نمٹ سکتے ہیں؟ یہ تو احساس ذمہ داری ہے جو پاکستانیوں کو خود پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اپنے علاوہ دوسروں کا خیال رکھتے ہوئے ہی احتیاط کر لیں۔
حال ہی میں لاہور سے تعلق رکھنے والا ایک خاندان اپنے قریبی عزیز کی شادی میں شرکت کرنے کےلیے پشاور گیا تھا۔ اس خاندان کے ایک فرد نے بتایا کہ نکاح کی تقریب میں تقریباً پچاس سے زیادہ لوگ شریک تھے، جن میں سے چند لوگوں نے ماسک پہن رکھا تھا جب کہ کچھ نے اس پر عمل نہیں کیا۔ خاندان کے فرد کے مطابق تقریب میں شامل کوئی ایسا شخص ضرور تھا جو کورونا وائرس کا شکار تھا، لیکن شاید وہ خود بھی نہیں جانتا تھا، کیوں کہ بظاہر تو سب ٹھیک ہی لگ رہے تھے۔ ان کے مطابق اس تقریب کے بعد مجھ سمیت ہمارے خاندان کے 32 لوگوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ شادی کی تقریبات میں بطور فوٹوگرافر کام کرنے والے ذیشان مظہر کہتے ہیں کہ ہمارا کام کرنا مجبوری ہے اور اس سے ہمارا روزگار منسلک ہے۔ اس لیے شادی کی تقریبات میں جانا ہماری مجبوری بھی ہے۔ ذیشان مظہر کے مطابق وہ اور ان کے تمام گھر والے بھی چند ماہ پہلے کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق کورونا کی پہلی لہر کے بعد لوگوں نے اب اس وائرس اور اس سے بچنے کےلیے ایس اور پیز کو سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیا ہے۔ شادی کی تقریبات میں شرکت کرنے والے کچھ مہمان اگر ماسک پہن کر بھی آئیں تو تصاویر بنوانے اور کھانا کھانے کےلیے تو ہر حال میں ماسک اتار ہی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین ویسے ہی اتنا پیسہ لگا کر اور تیار ہو کر ماسک پہننا پسند نہیں کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں مجھ سے ایک شخص نے رابطہ کیا اور پوچھا کہ ایک ہفتے بعد میری شادی ہے، کیا آپ میری شادی کی تقریب کی کوریج کر سکتے ہیں۔ جس پر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اتنی دیر سے کیوں بتا رہے ہیں؟۔ انہوں نے مجھے جواب دیا کہ میں نے پہلے سے ایک دوسرے فوٹوگرافر سے بات کر رکھی تھی لیکن مجھے اس کا ابھی فون آیا ہے کہ وہ اور اس کے ٹیم کے دیگر لوگ کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے وہ میری شادی کی تقریب میں نہیں آسکتے ہیں۔ تاہم میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے کم از کم اس ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے اطلاع دے دی۔ ذیشان مظہر کا کہنا تھا کہ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں اور احتیاط، جن کا اگر ہم خیال رکھ لیں تو بہت سے لوگ اس وبا سے بچ سکتے ہیں۔
