کیا پاکستان میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے؟

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمومی تاثر کے برعکس کہ پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دوسرے ملکوں سے کم ہے، سچ یہ ہے کہ پاکستان میں کرونا زدہ افراد کی تعداد لاکھوں میں ہوسکتی ہے تاہم ان کا پتہ اس لیے نہیں چل رہا کہ پاکستان میں کرونا ٹیسٹ کی سہولت بہت محدود پیمانے پر دستیاب ہے۔
جہاں کرونا وائرس کے حملے سے نمٹنے کیلئے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو شدید مسائل کا سامنا رہا وہیں پاکستان سمیت دیگرترقی پذیر ممالک کیلئے اس مہلک وبا کو کنٹرول کرنا کسی کڑے امتحان سے کم نہیں ہے۔ صحت کے شعبے میں وسائل کی کمی کے باعث کرونا وائرس کے خطرات پاکستان پر بھی منڈلا رہے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق ملک میں کم تعداد میں کرونا کے تشخیص کیلئے ہونیوالے ٹیسٹ آنیوالے وقت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ بہت سارے کرونا کا شکار مریض بھی یہی سمجھ کر گھروں پر بیٹھے ہیں کہ وہ صحت مند ہیں اور انہیں موسمی بخار یے۔ لیکن دراصل ایسا کرتے ہوئے وہ اپنے پورے خاندان کو بھی کرونا وائرس منتقل کر رہے ہیں اور پھر ایک روز اچانک پتہ چلے گا کہ ایک شخص نے 10 افراد کو کرونا منتقل کر دیا۔
اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ حکومت کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں تشخیصی ٹیسٹ کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ وہ پہلے ان افراد کا ٹیسٹ کریں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں اور اس سلسلے میں انھوں نے ایک نوٹس بھی جاری کیا ہے جس میں چار طرح کے لوگوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جن کے ٹیسٹ کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔
ان میں استھما سے متاثر وہ افراد جو کرونا وائرس والے افراد سے ملے ہوں، وہ مریض جن کو سانس کی بیماری ہو، استھما اور ذیابطیس کے مریض جن کی طبیعت بگڑ رہی ہو اور وہ افراد جو ہسپتال میں شدید بیماری کی وجہ سے داخل ہوں، شامل ہیں۔
اس بارے میں لاہور کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائسنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وبا کی روک تھام کے لیے کئی طریقوں سے کام کیا جاتا ہے جن میں سے ایک ماڈل ہے کہ بہت سے لوگوں کے ٹیسٹ کیے جائیں جو کہ پاکستان میں نہیں ہورہا حالاںکہ اس وائرس کی تشخیص کا واحد طریقہ کرونا ٹیسٹ ہے۔
ڈاکٹر جاوید اکرام نے جنوبی کوریا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سب سے بہترین ماڈل کوریا کا ہے جہاں اموات کی شرح دو فیصد سے بھی کم رہی ہے۔ جنوبی کوریا نے بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ پر زور دیا اور بجائے ہسپتال بنانے یا وینٹی لیٹرز خریدنے کے انھوں نے ٹیسٹنگ پر توجہ دی۔ ڈاکٹر جاوید نے کہا کہ پاکستان کو بھی بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس صورت میں لاک ڈاؤٴن کے بجائے صرف ان افراد کو تنہا کرنا ہوگا جنہیں تنہائی کی ضرورت ہے اور یہ کرونا وائرس کے خلاف لڑائی میں وہ ایک زیادہ مؤثر طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت میں پالیسی بنانے والے تو ہوتے ہیں لیکن ڈاکٹر اور وائیرالوجسٹ جیسے لوگ شامل نہیں ہوتے۔ ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ یقینی بنائے کہ اس لڑائی میں وہ ان ماہرین کو شامل کرے، چین کے ماہرین کو بھی جن کے پاس پہلے سے تجربہ موجود ہے۔ جنوبی کوریا کے ماہرین کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ حکومت کے پاس ایسے سفارتی اختیارات ہیں کہ وہ اسے ممکن بنا سکے۔
دوسری طرف اسی حوالے سے جب قومی ادارہ برائے صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر ممتاز سے سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ بائیس کروڑ آبادی والے ملک میں تمام افراد کے ٹیسٹ تو نہیں کیے جا سکتے لیکن اگر ڈاکٹرز کو لگتا ہے کہ کسی مریض کا ٹیسٹ ہونا چاہیے تو ہم کروا لیتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ابھی تک صرف اُن لوگوں کے ٹیسٹ پر زور دیا جا رہا تھا جو کسی بیرون ملک کا سفر کر کے آئے ہیں یا کسی متاثرہ شخص کے رابطے رہے ہیں۔اب یہ طے ہوا ہے کہ اگر کسی شخص میں غیر معمولی علامات سامنے آتی ہیں جیسے کہ کھانسی، بخار یا سانس لینے میں دشواری، اور یہ تکالیف بڑھ رہی ہوں تو ڈاکٹر اس شخص کا ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن نافذ نہ کیے جانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے اپنے بہت سے مسائل ہوتے ہیں اس لیے حکومت نےاب تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے تاہم کمیونٹی لاک ڈاؤن پہلے ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button