کیا پاکستان واقعی افغان طالبان کی فنڈنگ کر رہا ہے؟


افغانستان کے مختلف علاقوں پر طالبان کے تیزی سے قبضوں کے دوران یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر ایک لمبے عرصے سے سپر پاور امریکہ اور نیٹو افواج کی کھربوں ڈالرز کی جنگی میشنری کا کامیابی سے مقابلہ کرنے والے طالبان کی آمدن کے ذرائع کیا ہیں؟ کئی افغان اور امریکی اہلکار پاکستان، ایران، اور روس پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ ہمسایہ ممالک افغان طالبان کی مالی مدد کر رہے ہیں۔ لیکن پاکستان سمیت روس اور ایران ہمیشہ سے اس الزام کی تردید کرتے آئے ہیں۔
ایسے میں بڑا سوال یہ ہے کہ افغان طالبان گذشتہ 20 برس سے غیر ملکی افواج کے ساتھ کیسے نبرد آزما ہیں اور اتنی لمبی جنگ لڑنے کے لیے ان کے پاس پیسہ کہاں سے آ رہا ہے۔ 2008 میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اےکی ایک کلاسیفائڈ رپورٹ میں یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ طالبان نے اس سال ساڑھے دس کروڑ امریکی ڈالر بیرون ممالک سے تعاون کی شکل میں حاصل کیے تھے جن میں سے زیادہ تر بیرونی ممالک سے آئے تھے۔ سال 2020 میں یہ رقم دوگنا سے زیادہ ہوچکی ہے۔ اس وقت افغانستان میں طالبان کے لگ بھگ 60 ہزار جنگجو ہیں اور 2001 کے بعد، یعنی امریکی اتحاد کی جانب سے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد، فی الحال افغانستان میں سب سے بڑے علاقے پر طالبان کا کنٹرول ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کابل میں اشرف غنی کی حکومت کو امریکہ کی جانب سے فوجی اور مالی معاونت کے باوجود یہ جنگ زیادہ شدید اور پیچیدہ ہوتی گئی۔ امریکہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک اس جنگ میں دو کھرب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کی جا چکی ہے۔ افغان طالبان نے 1996 سے 2001 تک افغانستان پر حکومت کی اور وہاں شریعہ قانون کو سختی کے ساتھ نافذ کیا۔ اقتدار سے ہٹنے کے 20 برس بعد بھی وہ ملک بھر میں بغاوت کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کی فنڈنگ کے ذرائع کے بارے میں ویسے تو صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے کیونکہ خفیہ طور پر کام کرنے والی عسکری تنظیمیں اپنی آمدن اور اخراجات کی تفصیلات واضح نہیں کرتیں۔ تاہم افغانستان کے اندر اور ملک سے باہر بی بی سی نے ان کے پیچیدہ مالی نیٹ ورک کا اندازہ لگایا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی بغاوت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سال 2020 میں سکیورٹی کونسل کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی مجموعی سالانہ آمدن 30 کروڑ ڈالر سے 1.5 ارب ڈالر تک ہے۔ حکام نے 2019 میں افغان طالبان کی آمدن میں کمی کے حوالے سے اطلاعات دی تھیں تاہم ان کے مطابق طالبان اپنے وسائل کو بہت احتیاط اور مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہیں اور انھیں اس وقت کسی مالی بحران کا سامنا نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے اپنی آمدن بڑھانے کے لیے پوست یا افیون کی کاشت کے علاوہ سڑکوں پر ٹول ٹیکس لگایا گیا ہے جو ملک کے شمالی حصے میں ان کی طاقت میں اضافے کی وجہ ہے۔ طالبان کی جانب سے زکوٰة اور عُشر کی مد میں بھی عوام سے رقوم حاصل کی جاتی ہیں خاص کر طالبان کے زیرِ انتظام شہری علاقے میں۔ گذشتہ دو دہائیوں میں افغان اور امریکی حکومتوں نے ان نیٹ ورکس پر لگام لگانے کی کوشش کی ہے۔ امریکی فوج منشیات تیار کرنے والے کارخانوں پر بمباری بھی کرتی رہی ہے لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔ بہر حال طالبان کی آمدن کے ذرائع منشیات کی تجارت کے علاوہ بھی ہیں۔ 2012 میں اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا تھا کہ افغانستان میں پوست کی معیشت طالبان کی آمدن کا اہم ترین ذریعہ ہے۔
یاد رہے کہ افغانستان دنیا میں سب سے زیادہ افیون پیدا کرنے والا ملک ہے۔ یہاں سے سالانہ ڈیڑھ سے تین ارب ڈالرز کی افیون کی بڑی تجارت ہوتی ہے اور یہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ غیر قانونی طور پر ہیروئن سمگل کرتا ہے۔ افغان حکومت کے کنٹرول والے علاقے میں بھی پوست کی کاشت ہوتی ہے لیکن زیادہ تر پوست طالبان کے کنٹرول والے علاقے میں پیدا ہوتی ہے اور یہ ان کی آمدن کا بڑا ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ طالبان اس کے مختلف مراحل پر عائد ٹیکس سے رقوم حاصل کرتے ہیں۔ کسانوں سے پوست کی کاشت کے لیے دس فیصد ٹیکس لیا جاتا ہے۔ ان لیبارٹریوں سے بھی ٹیکس لیا جاتا ہے جہاں افیون سے ہیروئن بنائی جاتی ہے اور ان تاجروں سے بھی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جو غیر قانونی منشیات کی سمگلنگ کرتے ہیں۔ غیر قانونی منشیات کی معیشت میں طالبان کا سالانہ حصے کا اندازہ دس کروڑ سے 40 کروڑ امریکی ڈالر لگایا جاتا ہے۔
اسکے علاوہ طالبان نے اپنے زیرِ انتظام صوبوں میں زراعت، انفراسٹرکچر، ضروری اشیا اور متعدد صنعتوں پر ٹیکس لگائے ہیں۔ طالبان نے ٹیلی فون سروسز فراہم کرنے والے اور بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں سے گذشتہ ایک سال میں بھسری بھتہ حاصل کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے افغانستان میں بغاوت کے خلاف امریکی حکمت عملی کے زیادہ جارحانہ رخ کے تحت امریکہ نے ایک بار پھر طالبان کے مالی نیٹ ورک اور ٹیکس کے ذرائع کو نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز کی تھی جن میں منشیات کی تجربہ گاہیں بھی شامل ہیں جن میں افیون سے ہیروئن بنائی جاتی ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ طالبان کی 60 فیصد سے زیادہ آمدنی منشیات سے ہوتی ہے۔ اس وقت امریکہ کی جانب سے یہ دعوی کیا گیا تھا کہ فضائی مہم نے طالبان کو افیون کی تجارت سے ہونے والی ایک تہائی آمدن کو ختم کر دیا تاہم ان تجربہ گاہوں کا دوبارہ بنانا آسان اور کم خرچ میں ممکن تھا اور ایسا ہو بھی گیا۔
دوسری جانب طالبان منشیات کی صنعت میں اپنی شمولیت سے انکار کرتے رہے ہیں اور پوست کی کاشت پر 2000 میں مکمل پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو گنواتے ہیں۔
جہاں ایک عرصے تک طالبان کی آمدن کا اہم ذریعہ ہیروئن کی کاشت اور پیداوار رہی ہے وہیں اب آئس یا کرسٹل میتھ کی پیداوار افغانستان میں منشیات کی ایک نئی صنعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ کرسٹل میتھ کو ہیروئن سے زیادہ منافع بخش اس لیے سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کی پیداوار میں استعمال ہونے والے اجزا کی قیمت قدرے کم ہوتی ہے اور اس کے لیے بڑی لیبارٹریوں کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ سکیورٹی کونسل کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے کرسٹل میتھ کی 60 فیصد لیبارٹریوں کا کنٹرول ہے جن میں سے زیادہ تر صوبہ فراہ اور نمروز میں موجود ہیں۔ اس کی پیداوار میں استعمال ہونے والے اجزا میں سے سب سے اہم ایفیڈرین ہے جسے اس سے قبل درآمد کیا جاتا تھا۔ تاہم اب اس کے پودے کو افغانستان میں ہی کاشت کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کے مطابق کرسٹل میتھ کی سمگلنگ میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے.
اس کے علاوہ براہ راست جنگ سے بھی آمدن پیدا کی جاتی ہے۔ ہر بار جب طالبان کسی فوجی چوکی پر قبضہ کرتے ہیں یا شہری مرکز پر قبضہ کرتے ہیں تو وہ وہاں کا خزانہ خالی کر دیتے ہیں اور ہتھیاروں کے ساتھ کاریں اور بکتر بند گاڑیاں بھی قابو کر لیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں افغان طالبان کی آمدن میں کمی ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا بلکہ افغانستان پر طالبان کے بڑھتے ہوئے قبضے کے پیش نظر اس آمدن میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

Back to top button