کیا پاک بھارت مذاکرات کا کوئی فوری امکان موجود ہے؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کے اظہار کے بعد جوابی طور پر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھی وزیراعظم عمران خان کو یوم پاکستان پر خیرسگالی کے جذبات سے بھرپور ایک خط لکھ مارا ہے۔ چنانچہ اب دوبارہ دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہونے کی امید کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لیکن سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مذاکرات کا فوری کوئی فوری امکان موجود نہیں ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان امن کی خواہش کا اظہار نہیں کیا گیا، دونوں ملکوں کے وزرا اعظموں نے ماضی میں اچھے تعلقات کی امید ظاہر کرتے ہوئے مثبت بیانات دیے ہیں۔ تاہم سیکیورٹی مسائل، خاص کر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتحال اور پھر پاکستانی فوجی قیادت کی کشمیر پر ہارڈ لائن پوزیشن کے باعث یہ باتیں صرف بیانات کی حد تک ہی رہ گئیں۔ اس لیے اگر انڈیا اور پاکستان کے باہمی اور یکطرفہ مقاصد پر نظر ڈالیں تو دونوں ممالک کے مابین حالیہ پیشرفت کو سفارتی حلقے خوش آئند تو مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی متنبہ بھی کرتے ہیں کہ ان معاملات کا کوئی فوری نہیں بلکہ مرحلہ وار حل ہی ممکن ہے۔
یوم پاکستان کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے عمران خان کے نام پیغام میں لکھا ہے کہ ’انڈیا پاکستان کے عوام سے خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے‘۔ یہی نہیں، حال ہی میں جب عمران خان کو کرونا ہوا تو مودی نے انھیں صحتیابی کا پیغام بھجوایا تھا۔ اس سے پہلے عمران خان نے بھی اپنی ایک تقریر میں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔۔ اس دوران یہ اطلاع بھی آئی کے پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات بہتر کروانے کے لئے امریکہ کے ایماء پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حکومتیں بیک ڈور ڈپلومیسی کر رہی ہیں۔
چنانچہ دونوں ملکوں کے مابین گزشتہ ایک برس سے تعطل کا شکار ہونے والے معاملات اب چلنا شروع ہو گئے ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت سالانہ بات چیت کے لیے پاکستان کا ایک آٹھ رکنی وفد پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ کی قیادت میں نئی دلی میں اپنے انڈین ہم منصبوں سے بات چیت کر چکا ہے۔ یہ بات چیت دو سال کے بعد ہو رہی ہے۔
اسی طرح گذشتہ مہینے دونوں ملکوں کے ملٹری آپریشن کے ڈائریکٹرز نے اچانک کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور تب سے جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل ہو رہا ہے۔
جنگ بندی کے اس اچانک اعلان پر سبھی کو حیرت ہوئی تھی اور کئی حلقوں میں یہ بازگشت سنائی دی کہ انڈیا اور پاکستان کے اہلکار حالات معمول پر لانے کے لیے پس پردہ بات چیت کر رہے ہیں۔ سفارتی حلقوں میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات اور بیانات کی وجہ ٹریک ٹو خفیہ ڈپلومیسی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ فروری میں دونوں ممالک کے درمیان ایل او سی پر جنگ بندی معاہدے کے بعد بعض بین الاقوامی اخباروں نے رپورٹس شائع کی تھیں جن میں انڈین قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اور ان کے پاکستانی ہم منصب معید یوسف کے درمیان ممکنہ طور پر خفیہ مذاکرات ہونے کا ذکر کیا گیا تھا۔
تاہم معید یوسف نے اس حوالے سے تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ایسے دعوے بے بنیاد ہیں۔
بیک ڈور خفیہ ڈپلومیسی کے حوالے سے سابق آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کا نام بھی بارہا سامنے آتا رہا ہے۔ لیکن جب جہانگیر کرامت کے قریبی ذرائع سے اس بارے میں بات کی گئی تو انھوں نے اس بارے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اس دوران دونوں ممالک میں یہ بھی افواہیں گرم ہیں کہ پاکستان انڈیا تعلقات میں بہتری کے پیچھے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندانوں کا کردار ہے۔
اس حوالے سے خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق انڈیا اور پاکستان نے امن کے قیام کے لیے ایک ایسے چار رکنی ‘امن کے خاکے’ پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے جسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں نے تیار کیا ہے۔
بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ دونوں ممالک کے وزرا خارجہ پاک بھارت بات چیت میں اسلام آباد اور دہلی کی مسلسل رہنمائی کر رہے ہیں۔
اس دوران سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ عادل الجبیر اعتراف کر چکے ہیں کہ سعودی عرب انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔عرب نیوز کو ایک انٹرویو میں جبیر نے کہا کہ سعودی عرب پورے خطے میں امن چاہتا ہے اور اس کے لیے متعدد سطح پر کوشش کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں حالیہ دور کی تلخیوں کے بعد فضا میں اچانک مثبت تبدیلیوں کے آثار پر بات کرتے ہوئے سابق وزیرِ داخلہ معین الدین حیدر کا کہنا ہے کہ ‘اب فوری طور پر دو سے تین کام کیے جا سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ دونوں ملکوں کو اپنے سفیر واپس بھیجنے چاہییں۔ دوسرا یہ کہ ویزا پالیسی میں آسانی کرنی چاہیے تاکہ دونوں جانب رہنے والے لوگ مذہبی مقامات پر باآسانی جا سکیں اور تیسرا یہ کہ واہگہ بارڈر سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت دوبارہ شروع کرنی چاہیے۔
ادھر انڈیا میں روزنامہ ‘دی ہندو’ کے مدیر امیت بروا نے نئی دہلی میں پاک بھارت تعلقات پربات کرتے ہوئے کہا کہ ‘انڈیا اور پاکستان کے درمیان جب بھی کوئی اچانک اعلان ہوتا ہے تو ہم یہ فرض کر سکتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی بیک چینل سفارتکاری ہو رہی ہے۔امیت بروا کہتے ہیں کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ فضا میں یہ تبدیلیاں جو بائیڈن کے امریکہ کے صدر بننے کے بعد رونما ہو رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ‘امریکہ کی بھی دلچسپی اس میں ہے کہ انڈیا اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس مرحلے پر کوئی بڑا معاہدہ ہونا یا کوئی بڑا ایجنڈا لے کر چلنا مشکل ہو گا لیکن ہاں تجارت اور لوگوں کے آنے جانے جیسے معاملات میں دونوں ممالک فوری طور پر قدم اٹھا سکتے ہیں۔’
ایسی صورتِ حال میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کے امکانات کے حوالے سے تجزیہ کاروں مختلف آرا رکھتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے بقول دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا فوری طور پر کوئی امکان نہیں ہے۔ سابق وزیرِ خارجہ خورشید قصوری کہتے ہیں کہ دو طرفہ بات چیت کے لیے بھارت کی جانب سے کشمیر کی خود مختار حیثیت کو بحال کرنا بہت ضروری ہے تاکہ امن عمل کو کشمیریوں کی حمایت حاصل ہو سکے۔اُن کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی حمایت کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان امن مذاکرات بے سود رہیں گے۔
سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان فوری طور پر مذاکرات شروع ہونے کا امکان نہیں، یہ منزل ابھی دُور ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان پایا جانے والا تناؤ اور سرحدی کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ البتہ ماحول میں بہتری کے جو بھی مضمرات ہوں انہیں خوش آئند کہنے کی ضرورت ہے۔ شمشاد احمد خان نے کہا کہ فائر بندی پر اتفاق کس نے کرایا، اس بارے میں زیادہ قیاس آرائیوں کی ضرورت نہیں کیوں کہ یہ سب تاریخی مسئلے رکھنے والے پاکستان بھارت کے تناظر میں بے معنی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کو پاکستان اور بھارت کے مسائل کی سنگینی کا اندازہ ہے جو کہ نہ صرف دو طرفہ بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
اُن کے بقول پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ کشمیر ہے جب تک بھارت کشمیریوں کی خواہشات کو شامل رکھتے ہوئے کشمیر پر بامقصد بات چیت نہیں کرتا یہ سمجھنا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آ جائے گی یہ ممکن نہیں ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button