کیا پراجیکٹ عمران جیسے شروع ہوا ویسے ختم بھی ہو پائے گا؟

سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد انکشاف کیا تھا کہ فوجی قیادت نے جنوری 2021 میں پراجیکٹ عمران خان لپیٹنے کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا تھا۔ انکے مطابق پہلے مرحلے میں 26 میں سے 20 کور کمانڈرز پروجیکٹ عمران ختم کرنے کے حق میں تھے لیکن کچھ عرصے بعد باقی 6 کمانڈرز نے بھی اس فیصلے کی حمایت کر دی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پروجیکٹ عمران کے خاتمے کے آغاز کے دو برس بعد اب تک صرف انکی اقتدار سے رخصتی کا عمل ہی مکمل ہو پایا یے، دوسری جانب عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لیے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے نہ صرف نواز شریف کو عدلیہ کے ذریعے نااہل کروایا تھا بلکہ ان کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے بعد 2018 کے الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی بھی کروائی تاکہ خان کو وزیر اعظم بنوایا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی خالق فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اپنا پروجیکٹ ناکام ہونے کے بعد اسے لپیٹنے کے فیصلے کے باوجود اس پر مکمل طور پر عمل درآمد اس لیے نہیں ہو پایا کہ جنرل باجوہ مسلسل ڈبل گیم کھیلتے رہے جس کا بنیادی مقصد اپنے عہدے میں ایک اور توسیع لینا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت کی تبدیلی کے بعد امید کی جانی چاہیے کہ پروجیکٹ عمران کے لپیٹنے کا عمل تیزی سے مکمل ہو گا اور وہ نا صرف نااہل ہوں گے بلکہ الیکشن سے باہر ہونے کے بعد میاں صاحب کی طرح جیل بھی جائیں گے۔
تاہم کچھ سیاسی تجزیہ کار ایسے بھی ہیں جن کے خیال میں پراجیکٹ عمران جس طرح شروع ہوا اس کو اسی طرح ختم کرنے کی کوشش خام خیالی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اے آر وائے نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار ماریہ میمن کہتی ہیں کہ پی ٹی آئی دوسری سیاسی جماعتوں سے اس لیے مختلف ہے کہ کسی فرسٹ فیملی کی عدم موجودگی میں یہ عمران خان کی ذات سے منسلک ہے۔ نواز شریف کی عدم موجودگی میں ان کے بھائی، انکی بیٹی اور دیگر اہل خانہ نے پارٹی سنبھالی۔ پیپلز پارٹی بھی ان اور آؤٹ کی عادی رہی ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کے پاس عمران خان کے علاوہ کوئی دوسری آپشن موجود نہیں۔ ایسی صورت میں اگر خان صاحب نااہل ہوتے ہیں اور ان پر انتخابات کا دروازہ بند ہوتا ہے تو وہ اپنی جماعت کو کس طرف لے کر جائیں یہ سوچنے والوں کے لیے لمحہ فکر ہے۔
ماریہ کا کہنا ہے کہ نااہلی کا بندوبست کرنے والوں اور اس پر خوشیاں منانے والوں کے لیے سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہمارا سیاسی نظام ایک اور نااہلی کا بوجھ اٹھ سکے گا۔ نااہلی کا بندوبست کرنے والے اور اس پر مٹھائیاں بانٹنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ سسٹم کو بیلنس تاریخ کا طریقہ ہے لیکن تاریخ سبق اس کے برعکس ہے۔ سوال یہ ہے کہ بار بار کے تجربوں کے بعد بھی نااہلی کی تلوار پر انحصار کب ختم ہوگا؟
ماضی میں نواز شریف کی برطرفی اور پھر جیل جانے پر خاموشی اختیار کرنے والی ماریہ میمن کہتی ہیں کہ نااہلیوں کی تاریخ ملک کی سیاسی تاریخ کے ساتھ منسلک ہے۔ پروڈا اور ایبڈو کے نام پر لسٹیں بنا کر سیاست دانوں کو نا اہل کیا گیا۔ اس کا جو نتیجہ نکلا وہ سب کے سامنے ہے۔ اسی اور نوے کی دہائی میں مائنس ون اور مائنس ٹو کی اصطلاح متعارف کروائی گئی جو 2008 تک جاری رہی۔ اس کا نتیجہ بھی این آر او وغیرہ کی صورت میں نکلا اور وہی پارٹیاں اور وہی لیڈران اب میدان سیاست میں موجود ہیں۔
انکا۔کہنا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی آئندہ آنے والے دنوں میں ختم ہونے جا رہی ہے مگر نااہلی کی تلوار کا ہدف اب دوسری طرف ہو گیا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ سیاستدان کب سبق سیکھیں گے؟ عمران خان کے لیے ہمدردیاں رکھنے والی ماریہ میمن کے بقول خبریں یہ بھی ہیں کہ خان کی نااہلی خاص کر نواز شریف کی فرمائش اور شرط ہے کیونکہ ان کے خیال میں یہ سسٹم میں توازن کی ایک اہم صورت ہے۔ جو جو میاں صاحب کے ساتھ ہوا وہ جب تک عمران کیساتھ نہیں ہوگا تب تک سسٹم اپنی جگہ پر واپس نہیں آ سکتا ہے۔ لیکن ماریہ ایسا کہتے ہوئے بھول گئیں کہ نواز شریف کے برعکس عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس سے لے کے توشہ خانہ لوٹنے اور اپنی ناجائز بچی چھپانے جیسے تگڑے کیسز زیر التوا ہیں جن میں خان صاحب کی نا اہلی یقینی یے۔
لیکن ماریہ میمن کا کہنا ہے کہ جب بھی نااہلی کے خلاف کوئی دلیل دی جائے تو واپس یہی جواب آتا کہ اگر نواز شریف کی نا اہلی ہو سکتی ہے تو عمران کی کیوں نہیں؟ حقائق اور کیسز کے میرٹ سے قطع نظر اگر صرف نااہلی کے سیاسی اثرات پر ہی بات کی جائے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی قائم نہیں رہ سکی تو کیا عمران خان کی نااہلی قائم رہ سکے گی؟ ہاں سسٹم کو جو دھچکے لگیں گے وہ اس کے علاوہ ہے۔ دوسری طرف سے یہ دلیل بھی سامنے آتی ہے کہ عمران خان سپریم کورٹ میں نواز شریف کی نااہلی کے درخواست گزار تھے اب اگر خود پر بات آئی ہے تو حوصلہ کریں۔ اگر اس لائن پر چلا جائے تو پاکستان میں جس جس پر کوئی غلط یا صحیح کارروائی ہوئی ہے وہ اقتدار میں صرف بدلے کے لیے آئے گا اور پھر مخالفین پر عرصہ حیات تنگ ہوگا۔
یہی مخالف جب واپس اقتدار میں آئیں گے تو وہ بھی اپنی باری میں ساری کسر پوری کریں گے۔ سیاست اسی انتقامی دائرے میں گھومتی رہے گی۔ لیکن یاد رہے کہ عمران کے چار سالہ دور میں ماریہ میمن نے اپنے کپتان کو اپنے۔مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں نہ کرنے کا کوئی مشورہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ماریہ کا کہنا ہے کہ عمران ملک کے بڑے طبقے خصوصاً نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو سیاست کے دھارے میں پہلی دفعہ شامل ہوئے ہیں۔ ان کی سیاسی سوچ عمران خان سے مشروط ہے۔ وہ ووٹ دیتے ہیں، جلسوں میں آتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں مگر اس رائے کی موجودگی ملکی سیاست کے لیے لازم و ملزوم ہے۔ یہ نوجوان عمران کی الیکشن میں ہار کے ساتھ بھی سمجھوتہ کر سکتے ہیں، لیکن سیاسی میدان سے انکی نااہلی کے نام پر عمران کو مائنس کرنا ان کے لیے قابل قبول نہیں ہو گا اور ان کا سیاست اور سسٹم پر اعتماد اٹھ جائے گا۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ پراجیکٹ عمران خان جس طرح شروع ہوا اس کو اسی طرح ختم کرنے کی کوشش خام خیالی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
