کیا پرل کے بوڑھے والدین کو سپریم کورٹ انصاف دے گی؟

امریکی صحافی ڈینئل پرل کی کراچی میں پاکستانی جہادیوں کے ہاتھوں ذبح کیے جانے کے سانحے کو اٹھارہ برس بیت گئے لیکن طاقتور قاتلوں کو انجام تک نہ پہنچایا جا سکا۔ یاد ریے کہ گزشتہ ماہ سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیئل کے قتل میں سزا یافتہ جہادیوں کو بری کر دیا تھا۔ اب امریکی صحافی کے بوڑھے والدین نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے اور انکی اس مقدمے میں فریق بننے کی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔
اپنی درخواست میں ڈینیئل پرل کے والدین، رتھ پرل اور جوڈیا پرل، نے اپنے بیٹے کے قتل سے متعلق تفصیل سے حقائق بیان کرتے ہوئے عدالت کے سامنے اہم قانونی سوالات بھی رکھے ہیں کہ کیسے قتل کے اس مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ نے شواہد کے برعکس بریت کا فیصلہ جاری کیا۔
انھوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ڈینیئل پرل قتل کیس کے ملزمان کی رہائی کا سندھ ہائی کورٹ کا دو اپریل 2020 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے اس کیس میں مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کی پھانسی کی سزا کو ختم کر کے سات سال قید کی سزا سنائی تھی جو کہ وہ پہلے ہی پوری کر چکا ہے۔ جبکہ عدالت نے قتل کے دیگر تین ملزمان فہد نسیم، شیخ عادل اور سلیمان ثاقب کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
اس سے قبل کراچی کی ایک انسدادِ دہشت گردی عدالت نے احمد عمر شیخ کو پھانسی کی سزا دی تھی جبکہ ملزمان فہد نسیم، شیخ عادل اور سلیمان ثاقب کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے توسط سے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں ڈینیئل پرل کے والدین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سندھ کی سب سے بڑی عدالت نے انکے بیٹے کے قتل میں پیش کردہ شواہد کا درست انداز میں جائزہ نہیں لیا اور ملزمان کی رہائی اور سزاوں میں کمی کرنا آئین پاکستان کے منافی ہے۔ ڈینیئل پرل کے والدین کے مطابق اس مقدمے میں تسلیم شدہ حقائق موجود ہیں اور عدالت کی یہ دلیل درست نہیں ہے کہ اعتراف جرم رضا کارانہ طور پر نہیں کیا گیا۔ درخواست کے متن کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے فرانزک شواہد کو نظرانداز کیا۔ ان کے مطابق ان کے بیٹے کو تاوان کے لیے اغوا کرنے اور قتل کرنے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
واضح رہے کہ سندھ حکومت نے بھی ہائی کورٹ سے قتل کے ملزمان کی بریت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی یے۔
ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد امریکہ کی طرف سے اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا اور اسے انصاف کا قتل قرار دیا گیا تھا۔ وفاقی حکومت نے اپیل کا عمل مکمل ہونے تک تمام ملزمان کو نقص عامہ کے قانون کے تحت تین ماہ کے لیے نظر بند کرنے کا فیصلہ پہلے ہی جاری کر رکھا یے تاکہ ملزمان رہا ہوکر مفرور نہ ہو جائیں۔
اپنے ایک ویڈیو پیغام میں مقتول صحافی کے والد جوڈا پرل نے کہا ہے کہ ‘ہم نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔’ انہوں نے کہا کہ ‘ہم نہ صرف اپنے بیٹے کے لیے بلکہ پاکستان میں موجود ہمارے تمام عزیز دوستوں کے انصاف کے لیے کھڑے ہیں تاکہ وہ تشدد اور دہشت سے آزاد معاشرے میں زندگی گزار سکیں اور اپنے بچوں کی امن و ہم آہنگی کے ماحول میں پرورش کر سکیں۔
یاد رہے کہ وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیل پرل کو جنوری 2002 میں کراچی میں اس وقت اغوا کر کے زبح کردیا گیا تھا جب وہ مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے ایک مضمون پر کام کررہے تھے۔
ملزمان نے امریکی صحافی کا گلا کاٹنے کی ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی۔ بعد ازاں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم دو اپریل 2020 کو سندھ ہائی کورٹ نے ملزمان کی اپیل پر یہ سزائیں ختم کردیں۔ اس فیصلے کو اب سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
