کیا پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا اپنا برا وقت بھی آ گیا؟

جہانگیر ترین اور فردوس عاشق کو وفاقی کابینہ سے نکالے جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان کے طاقتور پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انکی بھی فراغت کے امکانات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ جہانگیر ترین اور فردوس عاشق نے وزیر اعظم کے متنازعہ پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر سازشیں کرنے کے الزامات عائد کرکے انہیں اور زیادہ متنازعہ کردیا ہے جس کے بعد اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں اعظم کی تبدیلی کی افواہیں زور پکڑ گئی ہیں۔
شوگر سکینڈل کے باعث عمران خان سے دوریاں پیدا ہونے کے بعد پہلے جہانگیر ترین نے الزام لگایا تھا کہ ان کو وزیراعظم سے دور کرنے میں اعظم خان کی سازشوں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اب کابینہ سے نکالے جانے کے بعد فردوس عاشق اعوان نے الزام لگایا ہے کہ انکے خلاف پرنسپل سیکریٹری نے پہلے وزیراعظم کے کان بھرے اور پھر انہیں یہ دھمکی دی کہ اگر وہ اپنے عہدے سے مستعفی نہ ہوئیں تو ان کو فوری طور پر ڈی نوٹی فائی کردیا جائے گا۔ فردوس عاشق نے تو یہاں تک کہا کہ اعظم خان غیر قانونی طور پر وزیراعظم عمران خان کے اختیارات استعمال کررہے ہیں۔ فردوس عاشق کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ کہ ان کی چھٹی کروائے جانے پر پنکی پیرنی بھی اعظم خان سے خوش نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ پنکی پیرنی کا اپنا بھی ایک پیر ہے جس کے ساتھ ان کی ملاقات فردوس عاشق اعوان نے اپنے ڈسکہ کنکشن پر کروائی تھی۔ اسی ملاقات کے بعد پنکی پیرنی نے فواد چوہدری کو فارغ کروا کر فردوس عاشق کو اطلاعات کا محکمہ دلوا دیا تھا۔
تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اعظم خان واقعی اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ڈیفیکٹو وزیر اعظم بنے ہوئے ہیں یا وہ یہ سب کچھ وزیراعظم عمران خان کے کہنے پر کر رہے ہیں کبھی تو وہ اپنے اوپر تنقید کرنے والوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اس حوالے سے اپنا مؤقف بھی سامنے نہیں لاتے۔ بہرحال اعظم خان جس انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں اس سے تحریک انصاف کے بہت سے تگڑے وزراء اور پارٹی عہدیداران کو شدید تحفظات لاحق ہیں۔ ایسے میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دوسروں کی چھٹی کروانے والے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی بھی کچھ ہی عرصے میں چھٹی ہو جائے گی۔ اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے افواہیں زوروں پر ہیں۔
وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے کیریئر پر ایک نظر ڈالی جائے تو پتہ لگتا ہے کہ وہ سینٹرل سپیریئر سروسز کے 1990 بیچ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے پورے پاکستان میں 17ہویں کامن سی ایس ایس امتحان میں ٹاپ کیا تھا۔ برن ہال ایبٹ آباد سے اپنی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کیا۔ ملک بھر کے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد انہیں ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ میں تقرر کردیا گیا۔
مردان کے یوسف زئی پٹھان متوسط خاندان سے تعلق رکھنے والے اعظم خان کی حیثیت میں اضافہ اس وقت ہوا جب انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی کرنل (ر) نوابزادہ عامر خان ہوتی کی صحابزادی سے شادی کی۔ اپنے کیریئر کے ابتدائی برسوں میں اعظم خان نے چونیاں اور ٹیکسلا میں بطور اسسٹنٹ کمشنر خدمات سرانجام دیں۔ اس کے بعد انہوں نے کے پی کے میں اگلے 20 سال خدمات سرانجام دیں۔ پرویز مشرف کی فوجی بغاوت کے بعد انہیں پشاور کا ڈپٹی کمشنر تقرر کیا گیا۔
اعظم خان نے کے پی چیف سیکریٹری اور قبائلی علاقوں کیلئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری، سیکریٹری کھیل، ٹورازم اور یوتھ افیئرز کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں جب طالبان نے کے پی میں تباہی پھیلائی۔ وہ عمران خان کی گڈ بک میں اس وقت آئے جب انہوں نے وزیر اعلی پرویز خٹک کے تحت ٹورازم اور کھیلوں کے سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔جب عمران خان نے انہیں پرنسپل سیکریٹری کی حیثیت سے سلیکٹ کیا تو اعظم خان 21 گریڈ کے افسر تھے۔ سول سروس کے بہت سے افراد نے اس انتخاب پر تنقید کی اور ان کے حوالے سے وفاقی حکومت میں تجربے کی کمی کا حوالہ دیا۔ لیکن عہدہ ملنے کے بعد اعظم خان نے اپنی شاطرانہ چالوں سے خود کو ثابت کیا اور جہانگیر ترین جیسے طاقتور سیاستدان کو بھی کپتان سے ناک آؤٹ کروادیا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم پہلے ان کی چھٹی کرواتے ہیں یا نیب پہلے ان کے خلاف زیرالتوا کرپشن کے مقدمات کھولتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button