کیا پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم سے بھی زیادہ طاقتور ہے؟

وزیراعظم عمران خان کے معتمد خاص جہانگیرترین کی طرح اب فردوس عاشق اعوان نے بھی وزارت سے نکالے جانے کے بعد وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو چارج شیٹ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں بلکہ وزیراعظم کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔
فردوس عاشق اعوان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان سے استعفے وزیراعظم نے نہیں بلکہ اعظم خان نے مانگا تھا جو کہ ان کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے کسی بھی رکن سے استعفی لینا وزیراعظم کا اختیار ہے کسی بیوروکریٹ کا اختیار نہیں۔ فردوس کا اصرار تھا کی میڈیا پر انکی فراغت کے حوالے سے حقائق مسخ کرکے بتائے گئے، اور یہ کہ وہ خود پر غلط الزامات لگانے والوں کیخلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کریں گی۔
خیال رہے کہ آٹا چینی سکینڈل میں اپنا نام آنے کے بعد جہانگیر ترین نے بھی اعظم خان پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے میرے خلاف وزیراعظم عمران خان کے کان بھرے ہیں۔ اب حال ہی میں اپنے عہدے سے ہٹائی جانے والی فردوس عاشق اعوان نے بھی اپنی توپوں کا رخ اعظم خان کی طرف کرتے ہوئے انہیں سازشی بیوروکریٹ قرار دے دیا ہے۔ ہٹائے جانے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں فردوس عاشق نے یہ انکشاف کیا کہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے مجھ سے مستعفی ہونے کو کہا اور یہ دھمکی دی کہ اگر آپ نے استعفی نہیں دیا تو میں آپ کو ڈی نوٹیفائی کر دوں گا۔ فردوس نے واضح کیا کہ مجھ سے استعفی مانگنے کا اختیار کسی بیوروکریٹ کو حاصل نہیں۔ فردوس نے سوال کیا کہ میری فراغت کے نوٹی فکیشن میں نہ تو مجھ پر کوئی الزام عائد کیا گیا ہے اور نہ ہی مجھے ڈی نوٹیفائی کرنے کی وجوہات بتائی گئی ہیں۔
فردوس عاشق اعوان کا مؤقف ہے کہ وفاقی کابینہ کے معاملے میں صرف وزیراعظم با اختیار ہیں پرنسپل سکریٹری کو اس بات کا کوئی اختیار نہیں کہ وہ کسی وزیر یا وزیراعظم کے کسی معاون خصوصی سے استعفی مانگے۔ فردوس عاشق کا کہنا تھا کہ انہوں نے پرنسپل سیکریٹری سے کہا کہ آپ وزیراعظم سے میری ملاقات کرادیں۔ اگر وہ بھی مجھے استعفے دینے کے لیے کہیں گے تو میں فوری طور پر مستعفی ہو جاؤں گی۔ فردوس نے یہ گلہ بھی کیا کہ گزشتہ چند مہینوں سے ان کی وزارت میں مداخلت کی جاتی رہی۔ بہت سے ایسے لوگوں سے وزیر اطلاعات کا کام لیا گیا جو نوٹیفائیڈ نہیں تھے۔ وہ لوگ میرے حصے کا کام کرتے رہے اور یہ کام وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھے لوگ ہی ان سے کرواتے تھے۔ سیکرٹری اطلاعات کو بلا کر کہا جاتا تھا کہ فردوس عاشق وزیر اطلاعات نہیں بلکہ معاون خصوصی ہیں اس لیے ان کی نہ مانیں اور صرف وزیراعظم کے احکامات بجا لائیں۔
فردوس عاشق نے دعویٰ کیا کہ کابینہ کے بہت سے لوگ ان کے حامی تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ میں کس قدر مشکل حالات میں کام کر رہی ہوں تاہم گزشتہ تین مہینوں سے غیر مجاز افراد کو وزارت اطلاعات میں رکھ کر ان سے کام لیا گیا اور میرے لیے مسائل پیدا ہوئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا اشارہ شہباز گل کی طرف تھا۔ فردوس نے کہا کہ پتا نہیں ایک سال میں کون کون میرے حوالے سے وزیراعظم کے پاس کیا کیا شکایات لے کر گیا اور ان کے کان بھر دیے میڈیا میں میرے خلاف باقاعدہ خبریں چلائی گئیں۔
فردوس عاشق نے یہ سوال اٹھایا کہ کوئی بیوروکریٹ وزیراعظم کے اختیارات کیوں کر استعمال کر سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے اس میں وزیراعظم کی رضامندی شامل ہو تاہم اگر وزیراعظم چاہتےتھےکہ میں مستعفی ہو جثاوں تو یہ کام مہذب انداز میں ہوسکتا تھا۔ فردوس عاشق نے کہا کہ جنہوں نے مجھ پر بے بنیاد الزام تراشیاں کی میں ان کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کرنے جا رہی ہوں۔
تاہم دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ذاتی حیثیت میں کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔ قواعد کی رو سے پرنسپل سیکرٹری وہی کرتا ہے جس کا حکم اسے وزیراعظم کی جانب سے دیا جاتا ہے۔
فردوس عاشق کی معاون خصوصی کی حیثیت سے عہدے سے سبکدوشی کے حوالے سے باخبر ذرائع نے بتایا یے کہ فردوس عاشق نے اعظم خان کے کہنے پر مستعفی ہونے سے انکار کیا جس کے بعد انہیں ڈی نوٹیفائی کرکے ذرائع ابلاغ میں اعلان کردیا گیا کہ اب فردوس کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ وزیراعظم کے معاون خصوصی جبکہ سینیٹر شبلی فراز جاز وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات ہوں گے۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ فردوس عاشق اعوان کو کابینہ میں سے کرپشن کے الزامات پر نکالا گیا ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button