کیا ” پنجاب کی پَگ” ایک خاتون پہننے والی ہیں؟

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی پَگ کس کے سر پر سجنے والی ہے؟ الیکشن 2024 کے بعد یہ ”ملین ڈالر کوئسچن“ بھی ہو سکتا تھا لیکن زمینی حقائق کے مطابق یہ اعزاز ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو ملنے والا ہے اور وہ کوئی اور نہیں، یقیناً ملک کی ایک تگڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کی بڑی بیٹی مریم نواز ہی ہیں۔ لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا مریم نواز پنجاب کے نگران وزیراعلی محسن نقوی کی ایک سالہ حکومتی کارکردگی سے بہتر پرفارمنس دکھا پائیں گی?
یہ وہی مریم ہیں جنھیں ان کی والدہ بیگم کلثوم کی بہت سپورٹ حاصل تھی۔ ایک بار غیر رسمی گفتگو میں بیگم کلثوم نے اس وقت اپنا دل کھول کر رکھ دیا تھا، جب ان سے پوچھا گیا کہ جس طرح آپ کے دیور جی شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز سیاست میں دلچسپی لیتے ہیں، کیا آپ کے کسی بیٹے کو سیاست میں آنے کا شوق نہیں تو انھوں نے بڑے مان سے بتایا تھا کہ وہ مریم کو سیاست میں لانا چاہتی ہیں اور اس کے لئے میاں صاحب سے کئی بار بات بھی کر چکی ہیں۔
دراصل ان کا ماننا تھا کہ نواز شریف نے مسلم لیگ کو عوامی جماعت بنانے کے لئے بہت محنت کی ہے اور وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے بعد یہ جماعت مکمل طور پر شہباز شریف کے بچوں کے حوالے کر دیں۔۔لیکن وہ اپنے بیٹوں حسن اور حسین کے انٹرسٹ بھی جانتی تھیں، دونوں میں سے کوئی ایک بھی سیاسی انٹری کے لئے تیار نہیں تھا بلکہ دونوں اپنے لندن والے لائف سٹائل سے پوری طرح مطمئن تھے۔ بیگم کلثوم نے بتایا تھا کہ کس طرح انھوں نے بیٹوں سے مایوس ہونے کے بعد میاں صاحب کو مریم کے لئے راضی کیا۔۔
2013 ن لیگ کی سیاست کا وہ اہم سال تھا جب مریم نواز پہلی بار سیای افق پر نمودار ہوئیں۔ اگرچہ 2018 میں بھی وہ اپنی جماعت کی سیاسی مہم کو لیڈ کر چکی ہیں لیکن اس وقت وہ زیادہ تر ڈیجیٹل میڈیا کو مینج کر رہی تھیں۔ ویسے بھی 2018 کے الیکشن کیا اور کیسے ہوئے اب یہ ذکر بے معنی ہے کیونکہ اب تو ان انتخابات کے نتائج در نتائج بھی آ چکے۔
مریم کی سیاست اگرچہ بے نظیر بھٹو کی طرح تربیت اور پریکٹس کے مراحل سے نہیں گزری لیکن انھوں نے سیاست میں رہ کر سیاست خوب سیکھی ہے۔ دبنگ لہجہ، بیباک انداز، ہوا کا رُخ بھی پہچانتی ہیں۔ کبھی پرو اور کبھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ، مگر اپنی کہی ہر بات کا اون بھی کرتی ہیں۔تجزیہ نگار انھیں اپنے والد نواز شریف کا عکس مانتے ہیں۔تاہم اکثر وہ اپنی ذہانت اور حکمت عملی سے ہی کام لیتی دکھائی دیتی ہیں۔
این اے 119 اور پی پی 159 سے عام انتخابات میں پہلی بار کامیاب ہونے والی مریم، نواز شریف کی بڑی صاحبزادی ہیں ۔مسلم لیگ ن کی تاریخ میں بھی وہ پہلی خاتون ہیں جو سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر کے عہدے تک پہنچیں۔
پچاس سالہ حسین اور دلکش مریم نواز کی شادی 1992 میں صفدر اعوان سے ہوئی، ان کی لَو میرج تھی۔ ان کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔ مریم کا شمار ان سیاستدان خواتین میں ہوتا ہے جو ویل ڈریسڈ اور سٹائلش مانی جاتی ہیں۔ برانڈڈ جوڑے، جوتے، بیگز اور قیمتی جیولری۔۔مریم کو پرکشش بناتے ہیں۔
بہرحال الیکشن 2024 کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ پوری قوت، جوڑ توڑ اور جمع تفریق کے ساتھ جاری ہے۔ جہاں تک صوبائی حکومتوں کا تعلق ہے تو پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخواہ میں مخصوص سیاسی جماعتوں کی اکثریت بڑی واضح ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن، سندھ میں پیپلز پارٹی اور کے پی کے میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں البتہ بلوچستان میں جوڑ پڑنے کی توقع ہے لیکن امید ہے کہ مرکز کی طرح یہاں بھی مفاہمت رنگ لائے گی۔
اگرچہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے حتمی امیدوار کا فیصلہ نواز شریف ہی کریں گے مگر مریم فی الحال سب سے مظبوط امیدوار ہیں جو ہیں پنجاب کے سنگھاسن پر بیٹھنے والی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق پنجاب اسمبلی کے 296 کے ایوان میں زیادہ چہرے مسلم لیگ ن ہی کے دیکھنے کو ملیں گے جس نے 137 سیٹس حاصل کی ہیں اور اکثریتی پارٹی کے طور پر اپنی جگہ دوبارہ حاصل کر لی ہے۔آزاد امیدواروں کی تعداد 138 ہے جس میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار اکثریت میں ہیں۔
