کیا جہانگیر ترین کی طرح ندیم بابر بھی صاف بچ جائے گا؟

دیر آئے درست آئے کے مصداق وزیراعظم عمران خان نے پچھلے کئی ماہ سے اپنے معاون خصوصی ندیم بابر اور سیکریٹری پیٹرولیم پر لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں عہدوں سے تو ہٹا دیا ہے لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کیا انکو سزا بھی ملے گی یا شوگر سکینڈل میں ملوث جہانگیر ترین کی طرح ان کا بھی دکھاوے کا ہی احتساب ہوگا اور یہ دونوں بھی صاف بچ جائیں گے؟
اگرچہ حکومتی وزراء کی جانب سے پیٹرولیم بحران کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ندیم بابر سے استعفیٰ لئے جانے کو کپتان کی شاندار موو قرار دیا جا رہا ہے لیکن مبصرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ جس طرح ماضی میں جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان کا نام نہاد احتساب ہوا، اس معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوگا۔ تحریک انصاف حکومت احتساب اور میرٹ کی تو بات کرتی ہے لیکن آٹا، چینی اور ادویات سکینڈل کے ذمہ داروں کو کھلی چھوٹ دیئے جانے کے بعد احتساب کا بیانیہ اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر کی نااہلی کے حوالے سے جیو نیوز پر اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ مسلسل سوالات اٹھاتے رہے لیکن تب حکومت کی جانب سے اسے بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دیا گیا تاہم اب ندیم بابر پر وہی الزامات ہیں جو میڈیا پچھلے کئی مہینوں سے دہرا رہا تھا۔
خیال رہے کہ گذشہ برس 31 مئی کو حکومت کی جانب سے پیٹرولیئم مصنوعات میں سات روپے کمی کے بعد یہ بحران پیدا ہوا جس کے بعد ملک میں تیل کی قلت دیکھنے میں آئی تھی۔ تاہم جون کے اختتام پر حکومت کی جانب سے جب تیل کی قیمتوں میں 25 اعشاریہ 58 روپے کا اضافہ کیا گیا تو چند ہی گھنٹوں میں پیٹرول کی سپلائی معمول پر آ گئی تھی۔ اس صورتحال کو پیٹرولیم بحران کا نام دیا گیا۔ گزشتہ کئی مہینوں سے اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اب حکومت نے مرکزی کرداروں کو عہدوں سے فارغ کرکے فارنزک تحقیقات کروانے کا اعلان کیا ہے تاکہ کرہشن کے ذمہ داران کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کیے جائیں۔ 26 مارچ کو اسلام آباد میں وفاقی وزراء ڈاکٹر شیریں مزاری اور شفقت محمود کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے پیٹرولیم بحران کی جامع تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کیسے کی گئی اور کس نے کی؟ جہاں کمزوریاں ہوئیں، ثبوت کے ساتھ کورٹ کے اندرکیسز دائر جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ڈویژن ندیم بابر کو عہدے سے استعفیٰ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے وزارت پٹرولیم کو تمام انتظامی فیصلے کر کے رپورٹ کرنے کا کہا ہے۔ اسد عمر نے یہ بھی بتایا کہ قانون سازی کے اندر ابہام پیدا ہوا کہ اوگرا اور پٹرولیم ڈویژن کی کیا ذمہ داری ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پٹرولیم ڈویژن اوگرا پر ذمہ داری ڈالتا تھا، ہمیں اس ابہام کو ختم کرنا ہے۔
اسد عمر نے بتایا کہ پٹرولیم بحران کی تحقیقات کی ذمہ داری ایف آئی اے کو سونپی گئی تھی اور اس کی رپورٹ کابینہ میں پیش کی گئی جس پر کابینہ کی چار رکنی کمیٹی بنائی گئی۔ اسد عمر نے کہا کہ کابینہ کمیٹی کی جانب سے تین مختلف حصوں میں سفارشات پیش کی گئی ہیں جن کا پہلا حصہ ایسے ایکشنز کے بارے میں ہے، جو مجرمانہ تھے اور ان کے خلاف کریمینل کیسز بن سکیں، اس کے لیے ثبوت پیش کیے جائیں گے۔ ایف آئی اے 90 روز کے اندر اپنی فارنزک رپورٹ مکمل کرے گی جس کی بنیاد پر پراسیکیوشن کا عمل شروع ہو گا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ جو مافیا عوام کا پیسہ لوٹ رہا ہے وزیراعظم اس کو بالکل بچ کر نہیں جانے دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وزیراعظم کا مافیاز کو پیغام ہے کہ سن کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ تاہم یاد رہے کہ جہانگیر ترین کا شوگر سکینڈل سامنے آنے پر بھی اسد عمر نے اسی طرح کے بیانات دیے تھے۔ اسد عمر کے بقول جن شعبوں کو چیک کرنے کا کہا گیا ہے کہ کمپنیوں نے کس حد تک انوینٹری رکھی۔ یہ بھی چیک کیا جائے گا کہ جو سیلز رپورٹ ہوئیں، وہ درست تھیں یا پھر اصل اور کاغذ پر دکھائی جانے والی سیل میں فرق تھا اور یہ فرق کتنا تھا اور اس میں کس نے مجرمانہ کردار ادا کیا؟ وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ کیا پٹرولیم کی ذخیرہ اندوزی کی گئی تھی اور ایسا ہوا تھا تو کس نے کیا تھا؟
یاد رہے کہ 2020 کے وسط میں لاک ڈاؤن کے باعث دنیا بھر میں پٹرول کی کھپت میں کمی کے باعث قیمتوں میں کمی ہوئی تو اس کے اثرات ہوری دنیا میں نمودار ہوئے۔ انہی دنوں وزیراعظم نے ٹویٹ کرکے دعویٰ کیا کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات سب سے سستی ہیں۔ تاہم اس کے اگلے ہی دن ملک میں پٹرول کے بحران نے سر اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں پھیل گیا۔ پٹرول سٹیشنز پر تیل ختم اور سپلائی نہ ہونے کے برابر تھی۔ جہاں پر پٹرول موجود تھا وہاں بلیک میں فروخت ہونے لگا۔ جس پر وزیراعظم اور کابینہ انکوائری کی ہدایات جاری کیں۔ جس نے ابتدائی رپورٹ میں اوگرا اور حکومتی اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ وزارت پٹرولیم ڈویژن کے ذیلی اداروں میں سنجیدگی کے فقدان کے باعث یہ بحران سامنے آیا۔ جبکہ ٹیسٹنگ، سپلائی، سٹوریج، ٹرانسپورٹیشن اور دیگر امور کے لیے رابطوں کا طریقہ کار موجود ہی نہیں۔
دوسری جانب وزارت پٹرولیم اور اوگرا کے درمیان 25 مارچ سے تین جون تک ہونے والی خط و کتابت کے مطابق اس صورت حال کے تانے بانے لاک ڈاؤن کے آغاز یعنی بحران سے دو ماہ پہلے سے ملتے تھے۔ لاک ڈاؤن کے باعث پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں کمی واقع ہوئی تو 25 مارچ کو پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے تیل کمپنیوں کو تیل درآمد نہ کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ آئل ریفائنریز کوبھی تیل کی درآمد کرنے سے روک دیا گیا۔ لیکن دس دن بعد ہی وزارت پٹرولیم کی جانب سے اوگرا کو ایک اور خط لکھا گیا جس میں تیل کمپنیوں کے پاس سٹاک نہ ہونے کا اعتراف کیا گیا۔ خط کے مطابق پی ایس او کے علاوہ کسی اور کمپنی کے پاس تیل کا سٹاک موجود نہیں تھا۔اپریل 2020 میں گڈز ٹرانسپورٹ چلنے اور گندم کی کٹائی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں اضافہ ہوا تو 24 اپریل کوحکومت کی جانب سے تیل کی درآمد پر پابندی ہٹا لی گئی۔
یکم مئی 2020 کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان ہوا تو دو مئی کو پی ایس او نے ملک میں تیل بحران پیدا ہونے کے خطرے سے آگاہ کردیا۔ پی ایس او نے اوگرا کو لکھا تھا کہ ’تیل کمپنیوں کے پاس ذخیرہ بتدریج کم ہورہا ہے اور کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا۔ تیل کمپنیوں کے تیل نہ خریدنے کے باعث ریفائنریوں کی پیداوار متاثر اور آپریشنز بند ہو رہے ہیں۔ شیل کے پاس 6,ٹوٹل اوراٹک پڑولیم 7 گو کے پاس 4 اور بائیکو کے پاس 9دن کا ذخیرہ موجود ہے۔ اس دوران جب مسلسل دوسرے مہینے بھی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا تو یکم جون کو ڈی جی آئل نے یکم جولائی سے تیل کی قیمت میں ممکنہ اضافے کی پیش گوئی کرتے ہوئے انتباہ کیا کہ کمپنیاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے تیل فراہمی کم کرسکتی ہیں۔ اس اقدام سے ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت ہوسکتی ہے۔
دو جون 2020 کو اوگرا نے میڈیا خبروں کی بنیاد پر کمپنیوں کو تیل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی اور سیکریٹری پٹرولیم کو خط لکھ کر مڈ اور اپ کنٹری میں تیل کی قلت کے بارے میں آگاہ کیا۔صورت حال سے نمٹنے کے لیے تین جون کو اوگرا نے چاروں چیف سیکرٹریز کو تیل فراہمی کے حوالے سے خط لکھا کہ ڈی سی اوز تیل فراہم نہ کرنے والے پٹرول پمپس کی تفصیلات اوگرا کو فراہم کی کریں۔ تین جون کو سرکاری دستاویز کے مطابق ملک میں پٹرول کا سات دن اور ڈیزل کا پانچ دن کا ذخیرہ موجود تھا لیکن پٹرول سٹیشنوں پر عوام کی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے آٹھ جون کو وزیر توانائی نے ڈی جی آئل کی سربراہی میں تیل کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی۔ اس وقت اوگرا کا مؤقف یہ تھا کہ جب حکومت نے تیل کی درآمد پر سے پابندی ختم کی اور سب کمپنیوں نے آرڈرز دیے۔ اس دوران پاکستان نے ملک میں نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا تاہم بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں اضافہ ہوچکا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے میں ندیم بابر کو سزا ہوتی ہے یا وہ بھی ترین کی طرح صاف بچ نکلتے ہیں۔
