کیا پیپلزپارٹی ایک بار پھر نون لیگ سے ہاتھ ملائے گی؟

سابق وزیراعظم نواز شریف نے تمام اتحادی جماعتوں کو حکومت سازی کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے اور ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا اور وہ ایک اتحادی حکومت قائم کریں گے۔ہم لڑنا نہیں چاہتے،ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے اتحادی جماعتوں سے مل کر حکومت بنائیں گے۔ اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ نون آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن اور ایم کیو ایم سمیت دیگر جماعتوں سے جلد رابطہ کرے گی۔پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی جانب سے ماضی کی اپنی اتحادی جماعتوں کو حکومت سازی کے لیے مل بیٹھنے کی دعوت اور شہباز شریف کو ان سے ملاقاتوں اور بات چیت کا مینڈیٹ دیے جانے کے بعد ایک سوال جنم لے رہا ہے کہ کیا ملک میں پی ڈی ایم ٹو کی حکومت آ رہی ہے اور اس حکومت کا وزیراعظم کون ہوسکتا ہے؟

اب تک کے نتائج کے مطابق اگرچہ وفاق میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار برتری میں ہیں جبکہ ن لیگ دوسرے اور پیپلزپارٹی تیسرے نمبر پر ہے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جیتنے والے آزاد امیدواروں میں سےکچھ ن لیگ سے اور کچھ پیپلز پارٹی سے رابطے میں ہیں۔اس حوالے سے سینیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اس وقت کی صورت حال کے مطابق پی ڈی ایم طرز پر ہی حکومت بننے کے امکانات ہیں اور حکومت کی سربراہی ن لیگ کے ہاتھ میں ہوگی۔جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال میں پیپلزپارٹی کو اپنے اصولی موقف پر سمجھوتہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ ایس آئی ایف سی نجکاری کی پالیسی دے چکی ہے جبکہ پیپلزپارٹی نجکاری کے سخت خلاف ہے۔

اس صورت حال پر بات کرتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ اگر پیپلزپارٹی زیادہ آزاد امیدواروں کو ساتھ ملانے میں کامیاب ہوگئی تو آصف زرداری نے پہلے ہی بلاول بھٹو زرداری کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کر رکھا ہے۔ اس صورت میں پیپلز پارٹی نون لیگ کی اتحادی حکومت میں شامل نہیں ہو گی۔ تاہم ابھی بال پیپلزپارٹی کی کورٹ میں ہے دیکھتے ہیں کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔

دوسری جانب تجزیہ کار رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ اب کوئی شک نہیں رہ گیا کہ ملک میں پی ڈی ایم ٹو کی حکومت آ رہی ہے۔’ان کی الیکشن مہم میں بیانات نورا کشتی تھے۔ سب کو پتہ تھا کہ دوبارہ مل کر حکومت بنانا ہے اس کے باوجود کبھی سادہ اکثریت اور کبھی ایک ساتھ نہ چلنے کے بیانات دیے جاتے رہے۔‘انھوں نے کہا کہ بظاہر ن لیگ اس نئی حکومت کی سربراہی کرتی نظر آ رہی تاہم دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اس صورت حال میں کیسے ڈیل کرتی ہے۔ پیپلزپارٹی آصف علی زرداری کے لیے صدارت، بلاول کے لیے ڈپٹی وزیراعظم سمیت دیگر وزارتیں اور عہدے مانگ سکتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ بھی طے ہے کہ تمام آزاد پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں رہیں گے۔ ’کچھ لازمی ادھر ادھر ہوں گے اور وہ دیکھیں گے اگلے پانچ سال ان کو کہاں سے زیادہ مفاد ملتا ہے۔‘

دوسری طرف نواز شریف کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیئر صحافی خالد فاروقی کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا سنگل لارجسٹ پارٹی ہونے کا دعویٰ اس لیے درست نہیں ہے کیونکہ اس وقت سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے آزاد ارکان ہیں۔ اگر ان کی تعداد سو سے بھی بڑھ جاتی ہے تو پھر ان کی موجودگی میں نواز شریف کو حکومت بنانے کی دعوت دینا ایک نیا مسئلہ کھڑا کر سکتا ہے۔ تاہم نواز شریف کا قومی حکومت کی تشکیل کا فیصلہ بہت اچھا ہے لیکن صرف ایک دن پہلے انہوں نے مخلوط حکومت کے خلاف بات کرتے ہوئے ملکی مسائل کے حل کے لیے ایک پارٹی کے لیے زیادہ سیٹوں کی خواہش کی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں خالد فاروقی نے بتایا کہ ابھی قومی حکومت کی بات بڑی قبل از وقت ہے اور یہ واضح نہیں ہے کہ زرداری، ایم کیو ایم اور جے یو آئی والے اس ضمن میں کیا رسپانس دیتے ہیں۔

دوسری جانب لاہور میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کی ملاقات ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے آصف زرداری سے ملاقات میں قائد ن لیگ نواز شریف کا پیغام پہنچایا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں میں حکومت سازی پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کا مل کر ساتھ چلنے اور حکومت سازی کے لیے رابطہ اور ملاقاتیں جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔واضح رہے کہ 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق آزاد امیدوار 91 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہیں، پاکستان مسلم لیگ ن 64 نشستوں کے ساتھ دوسرے جبکہ پیپلزپارٹی 50 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔

Back to top button