کیا پیپلز پارٹی نواز شریف کی آئیندہ حکومت کا حصہ ھو گی؟

سینئر صحافی اور کالم نگار حامد میر نے کہا ھے کہ مسلم لیگ نون نے اپنے نئے انتخابی منشور میں کچھ آئینی ترامیم کرنے کے وعدے بھی کئے ہیں مگر اس کے لئے انہیں پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ھو گی جو مسلم لیگ نون کو انتخابات کے نتیجے میں حاصل ھوتی نظر نہیں آتی ۔پارٹی کے کئی اھم رہنماؤں کا بھی کہنا ھے کہ وہ 8 فروری کو اکثریتی پارٹی کے طور پر تو سامنے آ سکتے ہیں لیکن الیکشن میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنا اب بھی ایک خواب ہی ھے۔ نواز شریف پر بلاول بھٹو کی تنقید کو بھی اسی لئے نظر انداز کیا جارھا ھے کیونکہ ھو سکتا ھے کہ مسلم لیگ نون کو دوبارہ پیپلز پارٹی کو نئی قومی حکومت میں شامل ھونے کی دعوت دینی پڑے۔ اپنی ایک تحریر میں حامد میر کہتے ہیں کہ چئیر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو ، شہباز شریف کی سولہ ماہ کی اتحادی حکومت میں ہونے والی مہنگائی کی ذمہ داری میں شریک ھونا نہیں چاھتے مگر اس حقیقت کو وہ جھٹلا نہیں سکتے کہ وہ اس حکومت کے کئے گئے ہر فیصلے کا حصہ تھے۔ بطور وزیراعظم اپنے دور اقتدار میں شہباز شریف کئی مواقع پر بے بس نظر آئے وہ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ کے سربراہ تھے ۔ ان کے وزیر قانون نے پارلیمنٹ میں ایسے کئی متنازعہ بل پیش کئے جن کی پیپلز پارٹی اور دیگر حکومتی اتحادی جماعتوں نے پڑھے بغیر ہی حمایت کر دی۔ حامد میر بتاتے ہیں کہ نواز شریف کے تیسرے اقتدار میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف ان سے توسیع مانگنے لگے راحیل شریف سے جان چھڑا کر قمر جاوید باجوہ کو لایا گیا۔جنرل باجوہ سپریم کورٹ کے کون کون سے جج کو کب اور کہاں ملتے تھے؟ یہ ایک لمبی کہانی ہے لیکن نواز شریف کو سپریم کورٹ کے ذریعہ نااہل قرار دلوانے کی سازش میں وہ مکمل طور پر شریک تھے۔

نواز شریف کو خود بھی سب پتہ ہے کیونکہ 2018ء میں ان کے ساتھ جیل میں جو بھی ہوا باجوہ کی مرضی سے ہوا۔ 2018ء کے الیکشن میں جو کھلی دھاندلی ہوئی وہ ایک پروجیکٹ کا حصہ تھی اور اس پروجیکٹ کے سپروائزر باجوہ تھے ۔ آج عمران خان اسی اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے جہاں پہلے نواز شریف قید تھے۔ اگر آج عمران خان کو ملک دشمن قرار دیا جا رہا ہے تو اس ملک دشمن کو دھاندلی سے اقتدار میں کون لایا؟ جنرل باجوہ کی سیاست میں مداخلت کے سب سے بڑے عینی شاہد خود شہباز شریف ہیں جنہوں نے باجوہ کے بہکاوے میں آکر نواز شریف کو دھوکہ دینے سے انکار کیا۔

حامد میر کے مطابق اگرچہ کچھ لوگ نواز شریف کو وطن واپسی پر عدالتوں سے ملنے والے تیز رفتار انصاف کا کریڈٹ عدلیہ کو دے رھے ہیں مگر نواز شریف کو وطن واپسلا کر انتخابی سیاست میں دوبارہ شامل کرنے کی کامیابی کے پیچھے دراصل شہباز شریف کی پس پردہ کاوشیں ہی کار فرما رھیں۔ شہباز شریف خود کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ انکے بڑے بھائی نواز شریف چوتھی مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بنیں گے۔مگر سوال یہ ھے کہ اگر نواز شریف وزیراعظم اور مریم نواز وزیر اعلیٰ پنجاب بن جاتے ہیں تو مسلم لیگ نون کے صدر سابق وزیراعظم شہباز شریف کے پارٹی اور حکومت میں کیا حثیت رہ جائے گی ۔ شہباز شریف کے پاس فی الحال اس سوال کا جواب نہیں ھے وہ کہتے ہیں کہ میرے آئیندہ کے کردار کا فیصلہ نواز شریف چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد کریں گے۔ دوسری طرف تجزیہ کاروں کا کہنا ھے کہ مسلم نون لیگ کی سیاست میں مریم نواز مرکز نگاہ بن چکی ہیں اور جلسوں میں نواز شریف کے بعد مائیک اُن کے ہاتھ آنے کا مطلب یہ ہے کہ ن لیگ میں اُن کی مرکزی حیثیت تسلیم ہو چکی ہے۔ یہ حیثیت انتخابات کے بعد اُن کی اہم عہدے کے لیے نامزدگی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

Back to top button