کیا پی ٹی آئی کی نئی قیادت بھی فارغ ہونے والی ہے؟

الیکشن کمیشن کے حکم کے بعد تحریک انصاف کا انٹر پارٹی الیکشن کا عمل تو مکمل ہوگیا تاہم عجلت میں الیکشن کے کئی قانونی تقاضے ادھورے رہ گئے۔قانونی ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے عجلت میں کروائے گئے انٹر اپارٹی الیکشن میں کئی قانونی خامیوں کے باعث اکبر ایس بابر کو انٹراپارٹی الیکشن چیلنج کرنے کا بہترین جواز فراہم کردیا گیا ہے۔اگر الیکشن کمیشن نے اکبر ایس بابر کی شکایت پر غور کیا تو پی ٹی آئی شدید مشکل میں آ جائے گی کیونکہ انٹرا پارٹی الیکشن میں کوئی کاغذات نامزدگی یا ووٹر لسٹیں نہیں بنائی گئی تھیں اور نہ ہی الیکٹورل کالج مکمل تھا۔ اکبر ایس بابر کے پی ٹی آئی الیکشن بارے اعتراضات سنگین ہیں۔ جس کی وجہ سے ای سی پی انتخابات کو کالعدم قرار دے سکتا ہے۔

 قانونی ماہرین کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن میں تحریک انصاف کےپارٹی آئین کے تحت نیشنل کونسل نے عہدیداران کا انتخاب کرنا تھا مگر کونسل کا کوئی باضابطہ اجلاس ہی منعقد نہیں ہوا۔ الیکشن سے پہلے نہ پینل بنے نہ بیلٹ پیپر چھپے، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی تشہیر ہوئی نہ کاغذات پر اعتراض کا موقع فراہم کیا گیا۔ تمام عہدوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے۔انٹراپارٹی الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی جمعہ کی شام تین بجے تک جمع کروائے جانے تھے۔

 پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کاغذات نامزدگی اور ووٹرز لسٹ لینے پارٹی سیکرٹیریٹ گئے تو انہیں بتایا گیا کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق پارٹی الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کے تمام ضروری قانونی تقاضے پورے کیے جن کا ہر قانونی فورم پر دفاع کیا جائیگا۔ قانونی ماہرین کے مطابق عجلت میں ہونے والے الیکشن میں کئی قانونی خامیوں کے باعث اکبر ایس بابر کے عدالتی فورم پر موقف کو تقویت ملے گی جبکہ اکبر ایس بابر نے نے پہلے ہی اس الیکشن کو سلیکشن قرار دیتے ہوئے چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کا تمام پراسیس مشکوک تھا۔ الیکشن میں نہ تو الیکٹورل کالج مکمل تھا اورحیران کن طور پر الیکشن میں کا غذات نامزدگی بھی نہیں چھپوائے گئے تھے ، الیکشن میں نہ تو ووٹرز لسٹ بنائی گئی تھی اور نہ ہی تمام امیدواروں کو الیکشن لڑنے کا یکساں موقع ملا۔ مبصرین کے مطابق عدالت میں انٹرا پارٹی الیکشن کرانے والوں کو شر مندگی اٹھانا پڑے گی کیونکہ پارٹی انتخابات میں آئین کی پاسداری نہیں کی گئی،پی ٹی آئی کی جانب سے ہفتہ کے روز عجلت میں کرائے گئے انٹر ا پارٹی الیکشن نے اس کی آئینی اور جمہوری حیثیت کے بارے میں سوالات کھڑے کردیے ہیں ۔

حیران کن اور دلچسپ انداز میں منعقد کرائے گئے ،پارٹی الیکشن میں نہ صرف بیرسٹر گوہر علی خان کو بلامقابلہ چیئر مین منتخب ہوئے بلکہ دیگر تمام عہد یدار بھی بلا مقا بلہ منتخب قرار دیدیے گئے.نتائج کا اعلان چیف الیکشن کمشنر نیاز اللہ نیازی نے کیا۔ علی امین گنڈا پور کو کے پی کا صدر اور عمر ایوب کو مرکزی سیکر ٹری جنرل منتخب قرار دیاگیا جو اس وقت زیر زمین ہیں اور پارٹی الیکشن لڑنے کیلئے دستیاب ہی نہیں جبکہ الیکشن لڑنے کے خواہش مندوں کو موقع ہی فرا ہم نہیں کیا گیا۔ پارٹی کے آئین کے تحت منتخب نیشنل کونسل نے انتخاب کرنا تھا مگر اس کا کوئی با ضابطہ اجلاس ہی منعقد نہیں ہوا۔ پارٹی الیکشن بارے محض رسمی کارروائی کی گئی کیونکہ نیشنل کونسل کا انتخاب ہی طویل عرصہ سے نہیں ہوا اور نہ ہی اس کی کوئی فہرست جاری کی گئی ۔ کا غذات نا مزدگی نہ ویب سائٹ پر دستیاب تھے نہ ہی پارٹی سیکر ٹریٹ میں دستیاب تھے۔ مروجہ طریقہ کار کے تحت امیدوار کا غذ ات نامز دگی جمع کراتے ہیں ۔ الیکشن کمشنر انہیں مسترد یا منظو ر کرتا ہے۔ اعتراضات وصول کئے جاتے ہیں جس کے بعد حتمی فہرست جاری کی جا تی ہے۔ اس کے بعد امیدوار وں میں مقابلہ ہوتا ہے یا کوئی امیدوار مقابلہ سے دستبر دار ہوتا ہے ۔ لیکن یہ الیکشن ایسے آ نا ً فاناً ماحول میں ہوئے کہ تمام مراحل کو بلڈوز کر دیاگیا۔ کھلی مسابقت کے مواقع فراہم نہیں کئے گئے۔

اکبر ایس با بر پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن بارے اپنے رد عمل میں کہنا ہے کہ قبول ہے قبول ہے نکاح میں تو سنا تھا آج الیکشن میں بھی سن لیا۔ انہوں نے ان الیکشن کو سلیکشن قرار دیتے ہوئے اسےچیلنج کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن جس انداز میں کرائے گئے وہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے منافی ہے۔ہم نے جب پینل بنایا تو انٹرا پارٹی الیکشن میں سلیکشن کر لی گئی

قانونی ماہرین کے مطابق اگر پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کو چیلنج کیا گیا تو پی ٹی آئی کیلئے با دی النظر میں ان الیکشن کا آئینی جواز ثابت کرنا بہت مشکل ہو گا اور پارٹی کسی نئے امتحان سے دو چار ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ بیرسٹر گوہر علی خان سمیت پارٹی عہدیداروں کے بلا مقابلہ الیکشن پر پارٹی قیادت خو ش ہے اور وہ یہ سمجھتی ہے کہ انہوں نے انٹرا پارٹی الیکشن میں پارٹی آئین اور الیکشن قواعد کی پیروی کی ہے جس میں بلا مقابلہ انتخاب کی شق موجود ہے مگر انہیں اس وقت شرمندگی اٹھانا پڑے گی جب یہ معاملہ قانون کی عدالت میں جا ئے گا جہاں ان کیلئے یہ ثابت کرنا مشکل ہو جا ئے گا کہ انہوں نے الیکٹو رل کالج پو را کیوں نہیں کیا۔

Back to top button