کیا چوہدری برادران پر نئے نیب کیسز کا مقصد دباؤ بڑھانا ہے؟


مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کی کلیدی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کی مرکزی قیادت کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے نیب نے چودھری برادران پر منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے نئے کیسز بنا دیئے ہیں جن کا مقصد بظاہرق لیگ کو مستقبل میں بھی بلا چوں چراں حکومتی اتحاد کا حصہ رہنے اور ن لیگ کے ساتھ مل کر کسی قسم کی سیاسی محاذ آرائی کرنے سے باز رکھنا ہے۔
چند ماہ قبل پاکستان مسلم لیگ(ق) کے رہنماؤں چوہدری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف دو عشرے پرانے کیسز کھولنے کے بعد اب قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے اب ان پر بے نامی اکاونٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کرنے اور غیرقانونی اثاثے بنانے کا الزام لگایا ہے۔نیب نے چوہدری برادران کے خلاف 20 برس پرانی تین انکوائریز کے خلاف دائر ان کی مشترکہ درخواست کے سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں یہ نیا الزام لگایا ہے۔ خیال رہے کہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہٰی کے خلاف 2 ارب 42 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد رقم کی کرپشن کا الزام ہے۔ چوہدری برادران نے نیب کے خلاف پہلے ہی لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ چوہدری برادران کے خلاف 4 جنوری 2000 کو تفتیش شروع کی گئی تھی جبکہ جولائی 2015 میں نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں زیر التوا 179 مقدمات کی جو فہرست پیش کی، ان میں چوہدری برادران کا مقدمہ بھی شامل تھا۔ واضح رہے کہ پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت کے خلاف 2000 میں 28 پلاٹس کی غیر قانونی خریداری پر اس وقت کے ڈپٹی چیئرمین نیب میجر جنرل (ر) عثمان نے انکوائری کی منظوری دی تھی۔تاہم کئی سال التوا کا شکار رہنے کے بعد 2017 میں دوبارہ انکوائری کا آغاز کیا گیا تھا جس کے بعد عدالت میں رپورٹ جمع کروائی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین کے خلاف کوئی بھی دستاویزی یا زبانی شواہد نہیں ملے۔اس کے بعد لاہور کی احتساب عدالت نے دونوں کے خلاف نیب انکوائری بند کرنے کی منظوری دی تھی۔
لیکن چند ماہ قبل یہ کیس دوبارہ کھولا گیا تو چوہدری برادران لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے لیکن اب نیب نے ان پر منی لانڈرنگ کا الزام لگا کر مزید پریشانیاں کھڑی کر دی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نیب نے یہ اقدام حکومت کی ایما پر اٹھایا ہے جس کا بڑا مقصد احتساب نہیں بلکہ ق لیگ کو کنٹرول کرنا اور مستقبل میں ق لیگ اور ن لیگ کے ممکنہ اتحاد کی صورت میں پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کو گرنے سے بچانا ہے۔
نیب کے جواب کے رد عمل میں چوہدری برادران کے ترجمان نے کہا ہےکہ نیب کا ادارہ سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور ان کے خلاف پرانے مقدمات بار بار کھولے اور بند کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں کے خلاف شکایت کنندہ نامعلوم ہیں اور اس معاملے کو دوبارہ شروع کرنے کی وجوہات کا بھی علم نہیں ہوسکا۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ نیب نے اپنے جواب میں چوہدری برادران کی اپنی آمدن سے زائد اثاثوں کا انکشاف نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے جواب میں کسی بدعنوانی، کک بیکس، اختیارات کے ناجائز استعمال کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔
قومی احتساب بیورو نے کہا کہ اب تک کی گئی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چوہدری شجاعت حسین اور ان کے اہلخانہ کی دولت 1985 سے بڑھ کر 2018 میں 2 ارب 55 کروڑ روپے ہوگئی۔۔نیب نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین کے اہلخانہ نے بھی 12 کروڑ 30 لاکھ سے زائد کی جائیداٰدیں حاصل کیں اور ان کے 2 بیٹوں شافع حسین اور سالک حسین نے اپنی ملکیت میں موجود مختلف کمپنیوں کو ڈیڑھ ارب روپے کا قرضہ دیا۔ 2004 سے چوہدری شجاعت حسین کے بینک اکاؤنٹس میں 58 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کی غیر ملکی ترسیلات وصول کی گئیں۔علاوہ ازیں نیب نے بتایا کہ 5 افراد جنہوں نے رقم بھیجی وہ تفتیش میں شامل ہوئے اور انہوں نے ترسیلات زر بھیجنے سے انکار کیا۔ چوہدری برادران دیگر ممالک سے غیر واضح رقم پاکستان منتقل کرنے کے لیے جعلی شناختوں کا استعمال کرتے تھے۔رپورٹ میں پرویز الٰہی سے متعلق کہا گیا کہ درخواست گزار اور ان کے اہلخانہ کی دولت 1985 سے 2018 تک بڑھ کر 4 ارب 6 کروڑ 90 لاکھ روپے ہوگئی اور ان کی شیئرہولڈنگ 1985 سے 2019 تک بڑھ کر 3 ارب روپے ہوگئیں۔ نیب نے الزام لگایا کہ 2004 سے چوہدری پرویز الٰہی کے اہلخانہ کے بینک اکاؤنٹس میں 97 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کی مشکوک غیر ملکی ترسیلات وصول کی گئیں۔
چوہدری برادران کی جانب سے اپنی درخواست میں دیے گئے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے نیب نے کہا کہ غیر قانونی اثاثوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی تحقیقات کو متعلقہ اتھارٹی نے کبھی بند کرنے کے لیے منظور نہیں کیا تھا اور قانون کے مطابق سختی سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔نیب نے عدالت سے میرٹس پر پورا نہ اترنے پر مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں کی درخواست خارج کرنے کی استدعا کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button