کیا چیئرمین نیب عدالتی چارج شیٹ کے بعد استعفیٰ دیں گے؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے 20 جولائی کو جاری ہونے والے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت کے تفصیلی فیصلے کو نیب کے خلاف ایک مکمل چارج شیٹ قرار دیا جا رہا ہے جس نے قومی احتساب بیورو کی ساکھ کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں اور اپوزیشن جماعتوں کے اس الزام کی توثیق بھی کر دی ہے کہ یہ ادارہ سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر چیئرمین نیب سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کو دسمبر 2018 میں نیب نے پیراگون ہاؤسنگ سکینڈل میں اپنی تحویل میں لیا تھا جس کے بعد 17 مارچ 2020 کو سپریم کورٹ کے جج مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کی تھی۔ ضمانت دیتے وقت بھی جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس میں کہا تھا کہ ’یا تو نیب خراب ہے یا اہلیت کا فقدان ہے، دونوں ہی صورتحال میں معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ نیب کے پاس ضمانت خارج کرنے کی کوئی بنیاد نہیں۔‘
تاہم 20 جولائی کو تفصیلی فیصلے میں جسٹس مقبول باقر نے انگریز فلسفی اور سیاسی اکانومسٹ جان سٹورٹ مل کا یہ قول لکھا ہے: ‘ایک ریاست جو اپنے عوام کو چھوٹا کر کے دکھائے تاکہ وہ اس کے ہاتھوں میں اچھے مقاصد ہی کے لیے سہی آلہ کار بنے رہیں، یہ جان لے گی کہ چھوٹے آدمیوں سے کوئی بڑا کام نہیں لیا جا سکتا۔’عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ تمام شواہد کو دیکھتے ہوئے چیئرمین نیب نے اس معاملے میں مزید کارروائی کرنے کا فیصلہ کن بنیادوں پر کیا وہ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ اگر ملزمان کے خلاف لگائی گئی شکایات اس کی بنیاد تھی تو یہ واضح نہیں کہ شکایات میں الزامات کیا تھے اور نیب کے سامنے ایسی کیا معلومات پیش کی گئی تھیں کہ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ کمپنی کی مینیجمینٹ کے اقدامات پر قومی احتساب آرڈینسن کے سیکشن 9 کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ نیب کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں تھے جو درخواست گزار بھائیوں کو کمپنی سے جوڑتے ہوں اور جس کی بنا پر کمپنی کے کسی بھی غلط اقدام کی وجہ سے ان کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کی وجہ بنے ہوں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کمپنی کے خلاف ریفرنس میں 5 الزامات لگائے گئے لیکن نیب نے درخواست گزاروں سعد رفیق اور سلمان فریق سے ایک بھی سوال اس حوالے سے نہیں کیا جبکہ ان سے طویل دورانیے پر مبنی پوچھ گچھ کئی مرتبہ کی گئی جس کا آغاز کم از کم مارچ 2018 میں ہو چکا تھا۔
عدالت نے کہا ہے کہ نیب نے درخواست گزاروں سے طلبی کے نوٹسز کے ذریعے ان چند رقوم کے بارے میں پوچھا جو انھیں کمپنی کی جانب سے کسی زمین کے لین دین میں ملی تھی۔ عدالت نے کہا ہے کہ نیب اس حوالے سے رقم کی لین دین میں کسی قسم کی قانون کی خلاف ورزی کو ثابت نہیں کر سکا ہے اور نہ ہی یہ کہ درخواست گزاروں نے ان ذرائع سے بدیانتی اور غیر قانونی طریقے سے اپنے اثاثوں میں اضافہ کیا ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ خواجہ برادران کے ذاتی نوعیت کے لین دین کا تھا جس سے عوام یا حکومت کے مفاد پر کوئی اثر نہیں پڑا اور نہ ہی یہ کمپنی کے شکایت کنندہ گاہکوں کو پلاٹوں کے مبینہ طور پر قبضہ نہ دینے یا رقوم واپس نہ کرنے کا باعث بنا۔ سپریم کور ٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ دخواست گزاروں کے خلاف تحقیقات، ان کی گرفتاری اور 15 ماہ کے طویل عرصے تک ان کی حراست، بادی النظر میں احتساب آرڈیننس سے ہم آہنگ یا مطابقت نہیں رکھتا۔
قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف کا جو اس وقت خود بھی نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہیں کہنا تھا کہ خواجہ برادرز کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ دراصل نیب کے خلاف ایک فردِ جرم کی مانند ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کی ضمانت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت نیب کو حذبِ اختلاف کے خلاف ایک آلۂ کار کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔
اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ جسٹس مقبول باقر نے صحیح معنوں میں نیب کی سرزنش کی ہے۔ نیب کی سربراہی کرنے والا کوئی بھی باوقار آدمی اس فیصلے کے بعد استعفیٰ دے دیتا۔ انھوں نے سوال کیا کہ عدالت چیئرمین نیب سے اس بات کا جواب کیوں نہیں مانگتی کہ ابتدا میں جعلی کیسز کیوں بنائے گئے۔
فیصل رانجھا نے لکھا کہ یہ سپریم کورٹ کا ایک تاریخی فیصلہ ہے اور نیب اور حکومت کے گٹھ جوڑ کے خلاف الزامات کی ایک فہرست ہے۔ اب یہ حزبِ اختلاف پر ہے کہ وہ اسے کسی مستند جگہ پر فیصلہ کن طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس سے بہتر موقع انھیں نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ دیکھنا یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اپنے خلاف جاری چارج شیٹ کے بعد چیئرمین نیب استعفی دیتے ہیں یا اپنے عہدے سے چمٹے رہتے ہیں۔
