کیا چین نے کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد کم بتائی؟

امریکی انٹیلی جنس حکام نے دعوی کیا ہے کہ چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتیں بتائی گئی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہوئیں لیکن چینی حکام نے اصل تعداد کو چھپایا اور دنیا کو دھوکہ دیا۔ امریکی انٹیلی جنس نے چین کی طرف سے عائد کردہ اس الزام کو بھی سختی سے رد کیا ہے کہ کرونا وائرس دراصل بائیولوجیکل ہتھیار کے طور پر امریکی افواج نے چین میں پھیلایا۔
امریکی انٹیلی جنس نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ چین نے کرونا وائرس سے متعلق بہت سے حقائق کو سامنے نہ لا کر دنیا کو گمراہ کیا جس کے نتیجے میں وائرس کا پھیلاﺅ بڑھ گیا اور یہ ایک عالمی وبا کی صورت اختیار کر گیا. امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق چین نے دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے کرونا کے مریضوں اور اس سے واقع ہونے والی اموات کی تعداد کو چھپایا۔
وائٹ ہاﺅس کو بھیجی گئی ایک خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کی جانب سے COVID-19 وائرس کے حوالے سے ریکارڈ کیے جانے والے اعداد و شمار میں دھوکا دیا گیا اور جھوٹ بولا گیا. امریکی صدر ٹرمپ کو بھیجی گئی رپورٹ میں امریکی انٹیلی جنس کے تین افسران کے حوالے سے بتایا گیا کہ انہوں نے وائٹ ہاﺅس کو خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کے حوالے سے بیجنگ حکومت کے اعداد و شمار فرضی ہیں اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین کی جانب سے اموات کی اصل تعداد ظاہر کرنے کی بجائے جھوٹے اعداد و شمار دینے کے بقیہ دنیا پر مرتب ہونے والے نتائج جان لیوا ہو سکتے ہیں.
امریکی وزارت خارجہ کی عہدے دار ڈیبورا بوریکس کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے گمراہ کن معلومات اور نتائج کے اثرات اب اٹلی اورسپین پر نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے آغاز کے وقت سے ہی چین نے متعلقہ معلومات پر پردہ ڈالا۔ اس دوران ان ناقدین اورمعالجین کو گرفتار کر لیا گیا جنہوں نے کرونا کے پھیلنے کے معاملے پر خطرے کی گھنٹی بجانے کی کوشش کی.
تاہم حالیہ ہفتوں میں چین نے عالمی سطح پر اپنا مشن شدہ امیج بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ مہم کا آغاز کیا اور اپنی معیشت کا پہیہ دوبارہ سے چلانے کی کوشش کی۔ اسی سلسلے میں چین نے پاکستان سمیت کرونا سے شدید طور پر متاثر ہونے والے کئی ممالک کو ٹیسٹنگ کٹس اور فیس ماسک وغیرہ فراہم کیے۔
تقہم فوکس نیوز کے مطابق چین کو اس مہلک وائرس کے خطرات کا علم ہو کئی ماہ پہلے ہو چکا تھا اور اگر چین صورت حال کو واضح طور پر سامنے لے آتا تو COVID-19 وائرس کو موئث طریوے سے کنٹرول کیا جا سکتا تھا. ادھر اپنے ٹوئٹرپیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے کورونا وائرس سے متعلق اعدادوشمار پر شکوک وشبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تعداد اصل سے بہت کم ہے۔ امریکی صدر کا یہ بیان بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وائٹ ہاﺅس کو ایک خفیہ رپورٹ موصول ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ چین نے ملک میں کورونا وائرس سے ہونے والے اموات اور متاثرین کی تعداد کم بتائی ہے. ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھیں یہ رپورٹ موصول نہیں ہوئی لیکن ایسا لگتا ہے کہ چین کے اعدادوشمار تھوڑے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین کے اعدادوشمار درست ہے یا نہیں لیکن میں چین کا اکاﺅنٹنٹ نہیں ہوں . واضح رہے کہ چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں فی الحال کورونا وائرس کے 81554 تصدیق شدہ کیسز ہیں جبکہ اموات کی کل تعداد 3312 ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button