کیا ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اس بار بھی بچ جائیں گے؟


قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف دوبارہ تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا موصوف ماضی کی طرح اس بار بھی بچ جائیں گے یا اس مرتبہ ان سے کرسی چھن جائے گی؟
بیلٹ پیپر پر پاؤں کے انگوٹھوں کے نشان والے ہزاروں جعلی ووٹوں کی بدولت رکن قومی اسمبلی اور پھر ڈپٹی سپیکر بننے والے قاسم خان سوری الیکشن ٹربیونل کی جانب سے ڈی سیٹ کئے جانے کے باوجود پچھلے دو سال سے سٹے آرڈرز پر نہ صرف قومی اسمبلی کی کارروائی چلا رہے ہیں بلکہ قواعد کے برخلاف غیر آئینی قانون سازی میں بھی پیش پیش ہیں۔ قاسم سوری کے درشت رویئے اور جمہوری اقدار کو پامال کرنے کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے ان کے خلاف ایک بار پھر تحریک عدم اعتماد جمع کروادی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا پہلے کی طرح حکومت معافی تلافی سےکام چلاتی ہے یا اپوزیشن انہں کرسی سے ہٹا کر ہی دم لے گی؟
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی ہے۔ اس سے قبل نومبر 2019 میں بھی اپوزیشن نے قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی تاہم تب حکومت نے آرڈینینسز کے حوالے سے اپوزیشن کا موقف تسلیم کرتے ہوئے گھٹنے ٹیک دیے تھے اور سوری مخالف تحریک عدم اعتماد واپس لینے پر قائل کر لیا تھا۔ اب 19 جون کو اپوزیشن کی جماعتوں نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف متفقہ طور پر دوبارہ تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے مسلسل جانبداری کا مظاہرہ کیا اور وہ آئین کو نہیں مانتے، لہازا ایسے شخص کا کوئی حق کہ نہیں وہ ڈپٹی سپیکر کہ اہم سیٹ پر بیٹھے۔ تحریک میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے 10 جون کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران قواعد و ضوابط اور جمہوری اقدار کو پامال کیا اور اپوزیشن کو عوام کی نمائندگی کرنے اور بولنے کے حق سے محروم کیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ قانونی بلز جو قائمہ کمیٹیوں کو اب تک نہیں بھیجے گئے، ان کو قاسم سوری نے براہ راست منظور کروا لیا۔ اسکے علاوہ ڈپٹی سپیکر نے حکومت کو فائدہ پہنچاتے ہوئے بلوں پر ہونے والی گنتی اور کورم کی نشان دہی پر بھی قواعد کو بلڈوز کیا۔ اس لیے اپوزیشن سمجھتی ہے کہ سوری اس عہدے پر رہنے کا حق کھو چکے ہیں۔
ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جمیعت علماء اسلام، بی این پی مینگل، عوامی نیشنل پارٹی اور آزاد رکن محسن داوڑ نے دستخط کیے ہیں۔ یاد رہے کہ ستمبر 2019 میں عام انتخابات کے 14 ماہ بعد بلوچستان میں الیکشن ٹریبونل نے این اے 265 پر کا میاب امیدوار ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کی کامیابی کو دھاندلی اور جعلی ووٹوں کی بنیاد پر کالعدم قرار دیتے ہوئے انتخابات دوبارہ کرانے کا حکم دیا تھا۔الیکشن ٹریبونل کے احکامات پر نادرا کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق حلقہ این اے 265 کے 52 ہزار ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکی جس پر ٹریبونل نے تحریک انصاف کے کامیاب امیدوار قاسم خان سوری کی کامیابی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حلقے کے انتخابات دوبارہ کرانے کے احکامات جاری کئے تھے۔
تب پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو 65 ہزار جعلی ووٹ ڈالے گئے اور ان کے ووٹوں پر پاﺅں کے انگوٹھے لگائے گئے تھے۔ تاہم 7 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے قاسم سوری کے خلاف الیکشن ٹربیونل کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کردیا تھا جسکے باعث نہ صرف ان کی رکنیت بحال ہوگئی بلکہ ڈپٹی سپیکر کی سیٹ بھی بچ گئی۔ قاسم سوری گذشتہ دو سال سے اسی سٹے آرڈ پر نہ صرف قومی اسمبلی کے سپیکر بنے بیٹھے ہیں بلکہ بڑی ڈھٹائی سے ناجائز قانون سازی بھی کروا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی کے طریقہ کار کے قواعد کی روشنی میں لائی جا سکتی یے، جہاں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کو عہدے سے ہٹانے کا طریقہ کار موجود ہے۔ قواعد کے تحت ڈپٹی سپیکر کو عہدے سے ہٹانے کی تحریری قرارداد سیکریٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کرائی جائے گی۔ قرارداد میں ڈپٹی سپیکر کے خلاف الزامات وضاحت کے ساتھ شامل کیے جائیں گے۔ سیکریٹری قومی اسمبلی نوٹس ممبران اسمبلی کو بھجوائیں گے۔قواعد کے مطابق نوٹس وصولی کے سات دن مکمل ہونے کے بعد پہلے دن ڈپٹی سپیکر کو ہٹانے کی قرارداد کی تحریک قومی اسمبلی کے ایجنڈا میں شامل کی جائے گی۔ اس روز ڈپٹی سپیکر کو عہدے سے ہٹانے کی تحریک کے علاوہ ایجنڈے میں کوئی اور چیز شامل نہیں ہو گی۔
متعلقہ ڈپٹی سپیکر اس روز اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتا جس روز اس کو عہدے سے ہٹانے کی قرارداد زیر غور ہو گی۔ ڈپٹی سپیکر کو عہدے سے ہٹانے کی تحریک پیش کرنے کے لیے چیئرپرسن اس کی حمایت کرنے والے ارکان کو نشست پر کھڑا ہونے کا کہیں گے۔ڈپٹی سپیکر کو عہدے سے ہٹانے کی تحریک کی حمایت میں اگر ایوان کی کل تعداد میں سے ایک چوتھائی ارکان کھڑے نہیں ہوتے تو تحریک پیش کرنے کی اجازت نہیں ملے گی۔ تحریک کے حق میں ایک چوتھائی ارکان کھڑے ہو گئے، تو قرارداد پیش کی جائے گی۔قرارداد پیش کرنے والے شخص اور ڈپٹی سپیکر کو پندرہ منٹ یا زیادہ کے لئے بات کرنے کی اجازت ہوگی۔ قرارداد پر دستخط کرنے والے دیگر افراد کو بھی بات کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ قواعد کے تحت جب تک تحریک نمٹا نہیں دی جاتی، یا قرارداد پر ووٹ نہیں ہوتا اسمبلی اجلاس اگلے روز کے لیے ملتوی نہیں کیا جائے گا۔ ڈپٹی سپیکر کو عہدے سے ہٹانے کی قرارداد پر ووٹنگ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہو گی۔اگر اجلاس سپیکر قومی اسمبلی نے طلب کیا ہے تو اجلاس تب تک غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی نہیں ہوگا جب تک تحریک نمٹا نہیں دی جاتی اور قرارداد پر ووٹنگ نہیں ہو جاتی۔اگر ووٹنگ کے دوران قومی اسمبلی کی کل ممبرشپ کی اکثریت ڈپٹی اسپیکر کو ہٹانے کے خلاف قرارداد منظور کرتی ہے تو انھیں عہدے سے ہٹا دیا جائے گا بصورت دیگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے گی۔ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے اپوزیشن کو 172 ارکان کی حمایت درکار ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے ممبران کی تعداد 160 کے لگ بھگ ہے۔

Back to top button