کیا کرونا وائرس پینے کے پانی میں زندہ رہ سکتا ہے؟

کرونا وائرس کے بارے دنیا بھر کے طبی ماہرین مختلف پہلوؤں سے تحقیق میں مصروف ہیں اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک کووڈ 19 کی کوئی مستند ویکسین تیار نہیں ہو جاتی۔ پہلے پہل ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ متاثرہ شخص کو چھونے سے اور کسی وائرس زدہ چیز یا جگہ کو ہاتھ لگانے سے پھیلتا ہے لیکن بعد میں اس کا ہوا میں موجود قطروں یا ڈراپلیٹس سے پھیلنے کا بھی انکشاف ہوا۔
اس مہلک وائرس کے ممکنہ توڑ کے حوالے سے ابھی تحقیق چل رہی ہے تاہم ابھی تک حتمی طور پر کوئی علاج نہیں سامنے آیا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ہاتھ دھونے اور سماجی دوری اختیار کرنے سے وائرس سے بچاؤ ممکن ہے۔ مگر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس پانی کا کیا بنے گا جس سے ہاتھ دھوئے گئے، کیا وائرس اس میں زندہ رہ سکتا ہے؟ کیا یہ پانی کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے اور کیا یہ وائرس پینے کے پانی میں بھی رہ سکتا ہے؟۔ اگر اس وائرس سے متاثرہ شخص پانی کے قریب بیٹھ کر کھانستا یا چھینکتا ہے تو کیا اس کے جسم سے خارج ہونے والے ڈراپلیٹس پانی میں گر کر اسے آلودہ کر دیں گے اور اگر ہاں تو وائرس کتنی دیر تک پانی میں موجود رہے گا؟
عالمی ادارہ صحت یا ڈبلیو ایچ او نے کووڈ 19 سے متعلق اپنی ایک دستاویز میں کہا ہے کہ اس وقت تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ کووڈ 19 پینے کے پانی اور سیویج میں ’زندہ‘ رہ سکتا ہے۔ ادارے کے مطابق کووڈ 19 کی ٹرانسمیشن کے دو ہی مرکزی راستے ہیں، سانس کے ذریعے اور چھونے کے ذریعے۔ سانس سے آنے والے قطرے اس وقت بنتے ہیں جب کوئی متاثرہ شخص کھانستا یا چھینکتا ہے۔ یہ قطرے کسی ایسی سطح پر بھی گر سکتے ہیں جہاں وائرس زندہ رہ سکتا ہے، اسی لیے کسی بھی متاثرہ شخص کے ارد گرد کا ماحول وائرس کی منتقلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اب تک کی جانے والی تحقیق کے مطابق اگرچہ کووڈ 19 کا پینے کے پانی میں زندہ رہنا ممکن ہے، لیکن ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ وہ زمین پر اور زیرِ زمین پانی کے ذرائع میں موجود ہو سکتے ہیں یا پینے کے پانی سے منتقل ہوتے ہیں۔
برطانیہ میں پاکستانی نژاد ڈاکٹروں کی تنظیم کے بانی رکن ڈاکٹر عبدالحفیظ کہتے ہیں کہ پینے کے پانی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر پانی کو اچھی طرح فلٹر کیا جائے اور اس میں پانی کو صاف رکھنے والے اجزا ء شامل کیے جائیں ہیں تو وہ اس میں وائرس کو پلنے نہیں دیتے۔عالمی ادارہ صحت کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ پانی کی صفائی کے طریقے جن میں فلٹریشن اور ڈس انفیکشن شامل ہیں کووڈ 19 کے وائرس کو ناکارہ کر دیتے ہیں۔
یونیورسٹی اسپتال برمنگھم کی ڈاکٹر سندس یحیٰ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ کرونا وائرس پینے اور سیوریج کے پانی میں زندہ رہتا ہے لیکن وہ وائرس جو کووڈ 19 کی وجہ ہے، گندے پانی میں پایا ضرور گیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ تاہم اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا کہ اگر کوئی شخص گندے پانی یا سیوریج کے پانی کی زد میں آتا ہے تو اسے بھی کووڈ 19 ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر سندس کا کہنا ہے کہ ’ابھی تک یہی سامنے آیا ہے کہ ویسٹ مینجمنٹ اور پلانٹس کی سیپٹک ٹریٹمنٹ سے وائرس غیر فعال ہو جاتا ہے یا ختم ہو جاتا ہے، جس سے بیماری کی منتقلی کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
امریکہ کے ادارے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونشن یعنی سی ڈی سی پی کے مطابق جو وائرس کووڈ۔19 کی وجہ بنا ہے وہ پینے کے پانی میں بالکل نہیں پایا گیا۔ پانی صاف کرنے کے روایتی طریقے جن میں فلٹریشن اور ڈس انفیکشن کا استعمال کیا جاتا ہے اور جو زیادہ تر پینے کے پانی کے نظام میں استعمال ہوتے ہیں، اس وائرس کو ختم یا ان ایکٹیو کر دیتے ہیں جو کووڈ۔19 کا باعث بنتا ہے۔ سی ڈی سی پی نے یہ بھی کہا کہ اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ کووڈ۔19 لوگوں میں سوئمنگ پولز، ہاٹ ٹبز یا واٹر پلے کی جگہوں سے پھیل سکتا ہے۔ ان سہولتوں کی مناسب دیکھ بھال جس میں کلورین اور برومین جیسے کیمیکلز سے پانی کی صفائی بھی شامل ہے انہیں ڈس انفیکٹ کر دیتی ہے اور وائرس کو پانی میں ناکارہ کر دیتی ہے۔
دوسری طرف امریکہ کی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی نے بھی امریکیوں سے کہا ہے کہ وہ پانی کے نل سے معمول کے مطابق پانی پینا جاری رکھیں کیوں کہ ایسی کوئی شہادت سامنے نہیں آئی کہ پینے کے پانی کی سپلائی کو کوئی خطرہ ہے۔برطانیہ میں بھی پینے کا پانی فراہم کرنے اور نکاسی کے نظام کی دیکھ بھال کرنے والے اہم ادارے ٹیمز واٹر نے اپنی ویب سائٹ پر واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ کورونا وائرس پینے کے پانی یا سیوریج کے ذریعے پھیلا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button