کیا کرونا چین کی ایک لیبارٹری کے فریج سے لیک ہوا؟

چین کے آفت زدہ شہر ووہان کی ایک لیبارٹری کی تصاویر نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ برطانوی میڈیا نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ چینی حکام نے اس لیبارٹری میں کرونا سمیت 1500 اقسام کے وائرس رکھے گئے تھے جو کہ ریفریجریٹر کی سیل خراب ہونے کی وجہ سے لیک ہو کر پھیل گئے۔
ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورالوجی کی تصاویر ایک چینی اخبار میں نومبر 2018 میں شائع ہوئی تھیں جن کو گزشتہ ماہ ٹویٹر پر بھی شیئر کیا گیا تھا تاہم بعد میں انہیں چینی حکام نے ڈیلیٹ کروا دیا تھا۔ مغربی دنیا کی طرف سے اب یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ کرونا وائرس دراصل اسی انسٹیٹیوٹ کی ایک لیبارٹری میں بنایا گیا۔ یاد رہے کہ دنیا بھر میں 24 لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کرنے اور ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد انسانی زندگیوں کا خاتمہ کرنے والے کرونا وائرس کا آغاز ووہان سے دسمبر 2019 کے وسط میں ہوا تھا۔ کرونا وائرس کے پھیلتے ہی یہ افواہیں چک نکلیں تھیں کہ ممکنہ طور پر اس وائرس کو ایک لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے۔ مگر تاحال ایسے دعوے کرنے والوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔
لیکن اب برٹش اخبار میں شائع ہونے والی ووہان کی لیبارٹری کی تصاویر سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق لیبارٹری میں کرونا سمیت 1500 اقسام کے وائرس رکھے گئے تھے جو کہ ریفریجریٹر کی سیل خراب ہونے کی وجہ سے لیک ہوگئے۔ ان تصاویر کو گزشتہ ماہ ٹویٹر پر بھی شیئر کیا گیا تھا تاہم بعد میں یہ ڈیلیٹ کر دی گئی تھیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا تھا کہ امریکی حکومت اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ کیا واقعی کرونا وائرس چین کی کسی لبیارٹری میں تیار ہوا؟
اسی حوالے سے امریکی نشریاتی اداروں سی این این اور فوکس نیوز نے اپنی رپورٹس میں امریکی حکومت اور خفیہ اداروں کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اگرچہ زیادہ تر امریکی حکومتی عہدیداروں اور سائنسی ماہرین کو یقین ہے کہ کرونا لیبارٹری میں تیار نہیں ہوا، تاہم اس باوجود امریکی حکومت نے اس معاملے کی تفتیش کا حکم دے دیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے بھی اسی حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ چین میں موجود امریکی سفارت خانے نے 2018 میں ہی امریکی محکمہ خارجہ کو بھیجے گئے پیغامات میں عندیہ دیا تھا کہ ووہان انسٹی ٹیوٹ میں غیر معمولی تحقیقات ہو رہی ہیں اور وہاں پر وائرس سے بچنے کے سخت اقدامات بھی نہیں ہیں۔ لیکن چینی حکام ایسے الزامات اور سازشی مفروضوں کو مسترد کرتے آئے ہیں اور اب ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورالوجی کے سربراہ کا بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کورونا کو لیبارٹری میں تیار کرنے کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔
لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر چین کرونا وائرس کی وبا بنانے کا ‘ذمہ دار’ نکلا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ‘یہ وائرس چین میں ہی روکا جا سکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور اب پوری دنیا کو اس کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔’ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر سے سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا چین کو ووہان سے سامنے آنے والے وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں ہونے والی تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہلاکتوں پر نتائج کا سامنا کرنا چاہیے؟ اس کے جواب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘اگر انہیں اس وائرس بارے نہیں معلوم تھا تو یہ ایک غلطی تھی لیکن اگر انہیں اس بارے معلوم تھا تو وہ ذمہ دار ہیں اور ان کو نتائج کا سامنا کرنا ہو گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ یہ وائرس ایک غلطی سے بے قابو ہوا یا ایسا جان بوجھ کر کیا گیا؟ ان دونوں باتوں میں بہت فرق ہے۔ امریکی صدر کے مطابق ‘چینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ تحقیقات کر رہے ہیں لیکن ہم اپنی تحقیقات بھی کر رہے ہیں۔’ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان زاہو لیجان اس سے قبل امریکی فوج پر یہ وائرس چین لانے کا الزام عائد کر چکے ہیں، اب انہوں نے امریکی میڈیا کی کرونا وائرس کو ووہان کی ایک لیبارٹری میں بنانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کوئی ‘سائنسی بنیادیں’ نہیں ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button