کیا کشمیر کے محافظ کشمیر فروش بن چکے ہیں؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارت کی مودی سرکار کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھانے پر شدید عوامی ردعمل آنے کے بعد حکومت نے وقتی طور پر انڈیا سے تجارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلے ملتوی تو کر دیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ پاک بھارت تعلقات پر فوجی اور حکومتی قیادت اسی کنفیوژن کا شکار رہتی ہے یا مناسب موقع دیکھ کر تعلقات بحال کرنے کا بر فیصلہ کر لیتی ہے؟

یاد رہے کہ اگست 2019 میں بھارت کی مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کرنے کے بعد پاکستان نے انڈیا کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا اور یہ اعلان کیا تھا کہ کشمیر کا سابقہ سٹیٹس بحال ہونے تک تعلقات منقطع رہیں گے۔ تاہم اب اس معاملے پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا موقف تبدیل ہوتا نظر آتا ہے جس کا واضح اظہار آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے ایک تقریر میں یہ کہہ کر کیا کہ پاکستان کو ماضی بھلا کر بھارت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے جنرل قمر باجوہ کے عہدے میں توسیع کی ایک بڑی وجہ مسئلہ کشمیر کو قرار دیا تھا جسے اب جنرل صاحب بھلا کر آگے بڑھنے کی بات کر رہے ہیں۔ جنرل باجوہ کی تقلید میں بھارت کے حوالے سے کچھ اسی طرح کی دوستی کی باتیں وزیراعظم عمران خان نے بھی کی ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ ان باتوں کو عملی شکل دے پاتے ہیں یا نہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کا عمران خان کو حالیہ خط، دونوں ملکوں کی افواج میں کنٹرول لائن پر سیز فائر معاہدہ، پاکستانی واٹر کمشنر کا دورہ دہلی اور پاکستانی آرمی چیف اور وزیراعظم کی بھارت کو امن کی پیشکش، ایسے اہم واقعات ہیں جن سے تاثر ملتا ہے کہ پاکستان بھارت کے حوالے سے اپنی پالیسی بدلنے کو تیار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تاثر بھی مل رہا ہے کہ پاکستان آرٹیکل 370 کی شرط بھلا کر بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے تیار ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام یہ سب کچھ خاموشی سے قبول کر لیں گے۔ یاد رہے کہ یہ وہی پاکستانی عوام ہیں جن کو پچھلے 73 برس میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے یہی بتایا ہے کہ بھارت سے دوستی کو کوششیں کرنے والے تمام سویلین سیاستدان غدار ہوتے ہیں کیوں کہ دراصل وہ ہماری شہ رگ یعنی کشمیر کا سودا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کشمیر کے نام پر عہدے میں توسیع حاصل کرنے والے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے
2 فروری کو رسالپور میں ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وقت آ گیا ہے کہ بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کی طرف امن کا ہاتھ بڑھایا جائے۔ 18 مارچ کو اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ میں تقریر کے دوران جنرل قمر باجوہ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ماضی کو بھلا کر بھارت کے ساتھ آگے کی طرف بڑھنا چاہیئے۔‘ ان تمام واقعات سے یہی عمومی تاثر ملتا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان برف پگھل رہی ہے مگر یہ بھی درست ہے کہ کپاس اور چینی کی بھارت سے درآمد پر تنازعے کہ وجہ سے پاکستان کی بھارت بارے پالیسی پر غیر یقینی کی صورتحال سامنے آئی ہے۔

یاد رہے کہ نئے وزیر خزانہ حماد اظہر نے پچھلے ہفتے بھارت سے چینی اور کپاس کی درآمد کی خبر سنائی تھی۔ جس کے بعد حکومت کو شدید عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ کیسے وہ اپنی ہی پالیسی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھارت کے ساتھ تجارت کا آغاز کر رہی ہے۔ تمام تر تنقید کے بعد اگلے ہی دن وفاقی کابینہ نے اس فیصلے کو یہ کہہ کر واپس لے لیا کہ بھارت جب تک کشمیر کی حیثیت سے متعلق آئین کی شق 370 کو بحال نہیں کرے گا تب تک اس سے تعلقات بحال نہیں ہوں گے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کھولنے کا فیصلہ بھی وزیر اعظم نے خود کیا اور واپس بھی خود لیا۔ عمران خان نے کابینہ اجلاس میں بھارت سے تجارت کی مخالفت کی لیکن بطور وزیر تجارت انہوں نے اقتصادی رابطہ کونسل سے ایسا کرنے کی سمری بھی خود ہی منظور کی تھی۔ اس سارے عمل سے کپتان کی بھارت سے تعلقات کے بارے پالیسی پر کنفیوژن واضح ہوتی ہے۔

بھارت سے تجارتی تعلقات کی بحالی اور پھر فیصلہ واپس لیے جانے پر تجزیہ نگار طلعت حسین کہتے ہیں کی ’اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قومی سلامتی کے امور پر عمران حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی فیصلہ سازی کتنی ذیادہ کنفیوژن کا شکار ہے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کی بحالی کا فیصلہ آرمی سے پوچھے بغیر لیا گیا ہو مگر اس فیصلے کو واپس لینا اور وزرا اور مشیروں کی جانب سے احمقانہ دلائل اس بحری جہاز کی عکاس ہیں جس کا کوئی کپتان نہ ہو۔‘

فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ماؤتھ پیس جنرل امجد شعیب کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں وزیراعظم کی کوتاہی تھی۔ باوجود اس کے کہ وزارت تجارت نے ہی اس فیصلے کی سفارش کی ہو گی، لیکن وزیراعظم کو چاہیے تھا کہ اسے کہتے کہ پہلے اسے کابینہ اور وزارت خارجہ کے پاس بھیجیں تاکہ وہ اس پر اپنے تاثرات دیں۔ وزیر اعظم نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا جس سے کنفیوژن پیدا ہوئی۔ جنرل (ر) اجمد شعیب کے مطابق ’حکومت سے غلطی ہوئی کیونکہ ان تمام چیزوں کا سیاسی ردعمل آتا ہے۔ جب بالاکوٹ والا قصہ ہوا تو تجارت پر پابندی لگائی اور ابھی اس پالیسی کو بدلنا مناسب نہیں تھا۔‘ پاکستان کی بھارت سے متعلق پالیسی پر کنفیوژن کا ایک عنصر یہ بھی ہے کہ دوشنبہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اس چیز کا عندیہ دے چکے تھے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے تیار ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی فوجی اور حکومتی قیادت امریکا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دباؤ میں آکر کشمیر کا سودا کرنے کے حوالے سے اپنی کنفیوژن کب ختم کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button