کیا کوئی گدا بھی اسلامی یا غیر اسلامی ہو سکتا ہے؟


اسلام کے نام پر پاکستان کے معصوم عوام کو ماموں بنانا اب ایک فیشن بن چکا ہے جس کا سب سے بے دریغ استعمال جنرل ضیاء الحق نے کیا. ضیا نے اسلامائزیشن کے نام پر پاکستان پر 11 برس حکمرانی کی۔ افسوس ضیاء کے ایک طیارہ حادثے میں جہنم رسید ہونے کے باوجود ضیاءالحقی سوچ اب بھی باقی ہے۔ جنرل ضیاء نے اتنا زیادہ اسلام بیچا کہ ہمارے معاشرے میں ہر دوسری چیز کامیابی سے بیچنے کے لیے اسکے نامم کے ساتھ اسلام کا نام لگانے کی روایت پڑ گئی جو کہ اس کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جانے لگی۔
یوں اسلامائزیشن آف پاکستان سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اسلامک بینکنگ سے ہوتا ہوا اسلامک شہد تک پہنچا اور اب
ڈائمنڈ مولٹی فوم نے اسلامی گدا مارکیٹ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس حرکت کا بنیادی مقصد صرف اور صرف لوگوں کے مذہبی جذبات کو چھیڑ کر گدا بیچنا یے ورنہ کوئی پوچھے کہ کوئی میٹرس یا گدا کس طرح اسلامی ہو سکتا ہے۔ اگر مولٹی والوں کی اس بات کو مان لیا جائے تو پھر باقی تمام میٹرس تو غیراسلامی ہوگئے۔
بستر سازی کی صنعت میں سب آگے نکل جانے کا عزم لیے گدے بنانے والی معروف کمپنی ڈائمنڈ فوم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ ایک ’اسلامی‘ گدا متعارف کرایا ہے جو ایسے افراد کے آرام کیلئے تیار کیا گیا ہے جو اسلامی اصول اپناتے ہوئے دائیں کروٹ یا پشت کے بل سوتے ہیں۔ یہ گدا ایسے لوگوں کے لئے معاون ثابت ہوگا جو سوتے وقت اسلامی طریقہ کار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ کمپنی حکام کا اس حوالے سے مضھکہ خیز دعویٰ سامنے آیا ہے کہ سائنسی بنیاد پر تیار کردہ اسلامی گدا ہر قسم کی جسامت کیلئے موزوں اور اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہے اور عین اسلامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیدھی کروٹ سونے سے معدے اور آنت کے وزن سے دل دبتا نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر بائیں کروٹ یا اوندھے منہ سویا جائے تو ان کی کمپنی کا گدا دوسرے گدوں کے برخلاف ایسی رکاوٹ پیدا کرتا ہے جس سے سونے والا صرف سیدھی کروٹ یا پشت کے بل ہی سوئے۔
ڈائمنڈ فوم کے متعارف کردہ گدے کے حوالے سے ایک تصویر اور مختصر تفصیل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ قبل ازیں مختلف میٹریس تیار کرنے والی کمپنیاں دعوے کرتی ہیں کہ اُن کے میٹرس پر سونا سب سے زیادہ آرام دہ ہے اور لوگوں کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ چین سکون کی نیند آئے، مگر ڈائمنڈ فوم کا دعویٰ سب سے مختلف تھا انھوں نے اپنے نئے میٹرس ’ساہا‘ کو یہ کہہ کر متعارف کروایا کہ یہ ’پاکستان کا پہلا اسلامی میٹرس‘ ہے۔ بہت سے صارفین کو اس دعوے پر سخت تعجب ہوا۔ اور سوالوں کی بوچھاڑ ہو گئی۔
اسلامی گدا متعارف کرانے کے اعلان نے سوشل میڈیا صارفین کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسلامی بینکنگ اورحلال گوشت کا تو سنا تھا مگر کبھی اسلامی گدے کے بارے میں نہیں سنا تھا ڈائمنڈ فوم اسلامی گدا متعارف کروا کرواقعی سب سے آگے نکل گئی ہے لیکن کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ گدے نے اسلام قبول کب کیا ہے؟‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’میں تذبذب کا شکار ہوں۔ یہ اسلامی میٹرس کیا ہوتا ہے؟‘ اعجاز خان لکھتے ہیں ’میں نے مانچسٹر میں حلال نائی کی دکان دیکھی تھی مگر اسلامی میٹرس تو اس سے بھی آگے ہے۔‘ اس میٹرس کے بارے میں لوگوں نے مختلف ہیش ٹیگ استعمال کرنا شروع کیے۔ کچھ نے ہیش ٹیگ ’حلال میٹرس‘ کا استعمال کیا اور کچھ نے ڈائمنڈ فوم کی جانب سے استعمال کی گئی اصطلاح ’اسلامک میٹرس‘ کو ہیش ٹیگ بنایا۔
عمار نامی صارف لکھتے ہیں کہ ’حلال میٹرس پر کوئی حرام چیز نہیں ہو گی۔ مسلم شاور کے بعد اسلامی میٹرس۔ اب آگے کیا آئے گا؟‘ حسنہ اکبر نے لکھا کہ وہ جاننا چاہتی ہیں کہ آخر اس اسلامک میٹرس کا فرقہ کیا ہے۔
عادل عارف نے بھی اسی بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’دنیا میں پہلا اسلامی میٹرس متعارف کروانے پر مبارک ہو ڈائمنڈ فوم پاکستان۔ میں بریلوی، دیوبندی، شیعہ، زیدی، بوہری، صوفی، وہابی، اسماعیلی، سلفی اور دوسری طرح کے میٹرس کا منتظر ہوں۔‘
نصرت بلوچ نے کہا کہ ’مذہب نئی طرح کی مارکیٹنگ ہے۔‘ اپنی ٹویٹ میں انھوں نے کمپنی سے سوال پوچھا کہ ’ویسے ڈائمنڈ فوم کیا کوئی غیر مسلم آپ کے اسلامی میٹرس پر سو سکتا ہے؟‘
اقصیٰ حکیم نے لکھا کہ ’اسلام اور سرمایہ کاری نظام کی منفرد دوستی۔ یعنی ہمارے پاس اسلامی شہد، گھی، پانی کی بوتل ہے تو میٹرس کیوں نہیں؟
خاور صدیقی لکھتے ہیں کہ ’ویب سائٹ کے مطابق ساہا پاکستان کا پہلا اسلامک میٹرس ہے جو ایسے لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اپنی پیٹھ پر یا دائیں کروٹ پر سوتے ہیں جو سونے کا اسلامی طریقہ ہے۔ اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کہ سونے کا اسلامی طریقہ بھی ہے۔‘
خالد حسین نے طنزاً ٹویٹ کی کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اس میٹرس نے اسلام کب قبول کیا؟ اور اس گدے کو اسلامی طریقے سے کیسے استعمال کر سکتے ہیں اور اسے خریدنے کے حلال طریقے کیا ہیں تو ڈائمنڈ فوم کو سرچ کریں۔
ثمرینہ ہاشمی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’بھائی لوگ کہاں کہاں مذہب کو بیچیں گے اور یہ بھی سچ ہے کہ اس میٹرس کو خریدنے والے بھی ہوں گے۔‘
لیکن جب ڈائمنڈ فوم کی ویب سائٹ پر اس میٹرس کے بارے میں معلومات لینے کے لیے جائیں تو وہاں پر ساہا نامی اسلامی میٹرس کے پیج اب موجود نہیں۔ بہت سے صارفین نے اس بات کا ذکر کیا کہ اسے متعارف کروانے کے بعد کمپنی نے اسے اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا ہے۔ایک صارف نے کہا کہ ’کیا آپ کو پتا ہے کہ پاکستان کی میٹرس بنانے والی سب سے بڑی کمپنی نے سترہ ہزار روپے کا اسلامی میٹرس متعارف کروایا تھا مگر اسے شدید ردعمل پر ہٹا دیا۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button