کیا کپتان اور ترین دونوں نے ایک دوسرے کو دھوکہ دیا؟

وزیراعظم عمران خان سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جہانگیر ترین کی خاطر سارے زمانے سے ٹکر لی اور ان پر بھروسہ کیا لیکن انہوں نے چند کروڑ روپوں کی خاطر ان کے اعتماد کا خون کر کے ان کے فیصلے کو غلط ثابت کیا لیکن اگر کپتان جہانگیر ترین پر اندھا اعتماد کرنے سے پہلے ان کا ماضی دیکھ لیتے تو انہیں با آسانی پتہ چل جاتا کہ کہ لودھراں سے تعلق رکھنے والے اس زیرک سیاستدان کا سارا سیاسی کیریئر مالی مفاد کی خاطر پارٹیاں بدلنے پر مبنی ہے۔
کپتان نے حکومت سنبھالنے کے بعد جہانگیر ترین کو غیر رسمی طور پر بہت زیادہ اختیارات دی دیے تھے تا کہ وہ زرعی شعبے میں اصلاحات لاسکیں اور کابینہ اور وفاقی اور پنجاب حکومت کی سطح پر بیوروکریسی میں اپنی پسند کے لوگ بھرتی کرسکیں لیکن اس سب کا نتیجہ نہ صرف ناکامیوں کی صورت میں سامنے آیا بلکہ گندم اور چینی کے بڑے اسکینڈل بھی سامنے آگئے جس سے کہ وزیراعظم کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔
وزیراعظم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین نے مکمل طور پر عمران خان کو مایوس کیا ہے، اب وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے غلط گھوڑے پر داؤ کھیلا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ اور بیوروکریسی میں حالیہ رد و بدل پی ٹی آئی اور حکومت میں موجود ہر شخص کےلیے ایک واضح پیغام ہے کہ جہانگیر ترین اب پارٹی سے مکمل طور پر آؤٹ کر دیے گئے ہیں۔ ان تبدیلیوں سے صاف لگتا ہے کہ پی ٹی آئی میں جہانگیر ترین گروپ بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب کو جہانگیر ترین کا آدمی ہونے کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے۔ رزاق داؤد کو ترین گینگ کا حصہ نہیں سمجھا جاتا لیکن وزیراعظم کی رائے ہے کہ انہوں نے چینی مافیا کے فائدے کےلیے یہ سب کچھ ہونے دیا۔ خسرو بختیار اور ان کے چھوٹے بھائی جو پنجاب میں وزیر خزانہ ہیں، کا چینی اسکینڈل میں کوئی واضح کردار سامنے نہیں آیا۔ جس وقت خسرو بختیار چینی کے معاملے پر ہونے والے ای سی سی اور کابینہ کے اجلاس سے چلے جاتے تھے، اسی وقت ان کے بھائی پنجاب کے وزیر خزانہ نے چینی مل مالکان کو تین ارب روپے کی سبسڈی دینے کی تحریری مخالفت کی تھی۔ اس مخالفت کے باوجود، پنجاب کے وزیراعلیٰ نے چینی پیدا کرنے والوں کےلیے سبسڈی کی منظوری دی۔
کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ شوگر سکینڈل کی انکوائری رپورٹ کی نتیجے میں جو کچھ بھی ہے ہوا وہ حالات کا نقطہ عروج تھا۔ لیکن ذرائع کے مطابق 25؍ اپریل کے بعد بہت کچھ ہونا باقی ہے کیوں کہ شوگر کمیشن اُس دن شوگر مافیا کے کام کرنے کے انداز کے متعلق اپنی رپورٹ جمع کرائے گا۔ فوجداری کارروائیاں ہوں گی، ممکنہ طور پر گرفتاریاں بھی اور ساتھ میں ایف بی آر، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان وغیرہ جیسے اداروں کی کارروائیاں بھی۔ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کو شوگر مافیا کی طرف سے پیغام دیا گیا تھا کہ اگر انہوں نے شوگر کمیشن کی جاری تحقیقات کا سلسلہ فوری طور پر نہ روکا تو ملک میں چینی کا بحران آ سکتا ہے۔ تاہم، وزیراعظم نے شوگر مافیا کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے کی بجائے بیل کو سینگوں سے پکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم سوال یہ بھی ہے کہ جب یہ بیل چائنا شاپ میں گھس کر ہر چیز کو اپنے سینگوں سے روند رہے تھے تو اس وقت وزیراعظم کیا کر رہے تھے۔
یاد رہے کہ یہ وہی عمران خان ہیں جن کی حکومت سنبھالنے کے بعد جہانگیر ترین کو ڈپٹی پرائم منسٹر کا پروٹوکول ملنا شروع ہو گیا تھا حالانکہ انہیں سپریم کورٹ نے کسی بھی عوامی ہوتے کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔ حکومت بننے کے بعد جہانگیر ترین نہ صرف وزیراعظم سیکریٹریٹ میں روزانہ نظر آنے والی شخصیت بن گئے تھے بلکہ وہ پس منظر میں کام کرنے والی ماہرین کی ٹیم کی بھی قیادت کر رہے تھے اور ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان کو معیشت اور زرعی اصلاحات کے حوالے سے بڑے معاملات پر مشورے بھی دے رہے تھے، وہ وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ ارباب شہزاد کے ساتھ کئی اجلاسوں کی صدارت بھی کرتے رہے۔
وزیراعظم کی اصلاحاتی ٹیم اور شہزاد ارباب کے ساتھ اجلاسوں میں جہانگیر ترین کی شرکت سے ایسا لگتا تھا کہ فیصلے وہ کر رہے ہیں لیکن عہدہ وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے۔اگرچہ جہانگیر ترین زرعی شعبے کے مکمل انچارج کی طرح کام کر رہے تھے لیکن ساتھ ہی وہ ماہرین کی ایک مخفی ٹیم کی قیادت بھی کر رہے تھے، یہ ٹیم غیر رسمی طور معیشت کے حوالے سے وزیراعظم کے تھنک ٹینک کے طور پر کام کر رہی تھی۔ اسی ٹیم کی سفارش پر وزیراعظم نے اسد عمر کو وزیر خزانہ کے عہدے سے فارغ کیا۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور شبر زیدی دونوں جہانگیر ترین کی پسند تھے۔ وزیراعظم کی جانب سے اسد عمر کو وزیر خزانہ کے عہدے سے اچانک ہٹائے جانے سے چند روز قبل، جہانگیر ترین نے ٹیلی ویژن پر ایک ٹاک شو کے دوران حکومت کی معاشی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور فیصلہ سازی کی صلاحیت نہ ہونے پر اسد عمر کو واضح طور پر ہدف بنایا تھا۔
جہانگیر ترین کے بیان سے پی ٹی آئی کے اندر اور باہر کے کئی لوگ حیران رہ گئے تھے۔ زراعت کا ماہر ہونے کی وجہ سے وزیراعظم نے انہیں زراعت کے شعبے میں اصلاحات اور معاملات کو اپنی مرضی سے چلانے کی اجازت دی۔ انہیں نہ صرف وفاق بلکہ پنجاب میں بھی کھلی چھوٹ دیدی گئی تھی۔ دونوں جگہوں پر ترین زرعی شعبے کے کرتا دھرتا تھے؛ اس میں خوراک، لائیو اسٹاک اور آبپاشی کے شعبہ جات شامل تھے۔ یہ وزیراعظم کا بھروسہ ہی تھا جس کی وجہ سے جہانگیر ترین کو ایک مرتبہ کابینہ کے اجلاس میں مدعو کر کے زراعت کے شعبے کے حوالے سے بریفنگ دینے کیلئے بھی کہا گیا۔ تام افسوس کے جہانگیر ترین وزیراعظم عمران خان کے بھروسے کے قابل نہ نکلے۔
تاہم تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جہانگیرترین خود کو مکمل طور پر بے قصور سمجھتے ہیں اور ان کا یہ موقف ہے کہ ان پر شوگر سکینڈل میں ملوث ہونے کے الزامات ایک سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد انہیں کپتان سے دور کرنا ہے۔ جہانگیر ترین یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے آس پاس موجود ان کے مخالفین نے جان بوجھ کر انہیں تحقیقاتی رپورٹ میں نشانہ بنایا اور پھر اسے فوری مارکیٹ بھی کر دیا تا کہ ان کی ساکھ خراب کر کے انہیں کپتان سے دور کیا جا سکے۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ چینی اور گندم کے اسکینڈلز پر تحقیقاتی رپورٹ ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیاء نے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ہی تیار کی ہے۔
