کیا کپتان حکومت فرانسیسی سفیر کو بے دخل کرنے کا رسک لے گی؟

کپتان حکومت نے شدت پسند مذہبی جماعت تحریک لبیک کے مطالبات پر مبنی قرارداد عید سے پہلے پارلیمنٹ میں لانے کا فیصلہ تو کر لیا ہے لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے کیے کوشاں پاکستان فرانسیسی سفیر کو بیدخل کرنے کا رسک لے سکتا ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت تحریک لبیک کے ساتھ فرانس کے سفیر کو ملک سے بے دخل کرنے کا معاہدہ کر چکی ہے جس پر عمل درآمد کے لیے اب ایک قرارداد پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
خیال رہے کہ حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ناموس رسالت ﷺ کے معاملے پر ہونے والے معاہدے کی تصدیق وزیراعظم نے خود کی تھی۔ اس سے پہلے 2020 میں فرانس میں سرکاری سطح پر نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلم دنیا میں سخت ردعمل آیا تھا خاص طور پر پاکستان میں بھی اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی تھی۔ اس معاملے پر تحریک لبیک نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا جسے حکومت کے ساتھ 16 نومبر کو معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے بعد 19 نومبر 2020 کو تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی انتقال کرگئے تھے۔ نومبر 2020 میں ہوئے اس معاہدے کے تحت حکومت پاکستان نے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق 3 ماہ میں پارلیمنٹ سے فیصلہ لینا تھا، فرانس میں اپنا سفیر دوبارہ قبول نہیں کرنا تھا اور تحریک لبیک کے تمام گرفتار کارکنان کو رہا کرنا تھا۔ اگرچہ آخری مطالبہ فوری طور پر مان لیا گیا تھا لیکن پہلا مطالبہ ابھی تک زیر التوا ہے۔
اب وفاقی حکومت نے تحریک لبیک کے مطالبات پر مبنی قرارداد عید الفطر سے پہلے پارلیمنٹ میں لانے کا اعلان کیا ہے، یہ فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر داخلہ شیخ رشید اور وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری نے بھی شرکت کی، اجلاس میں تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ تحریک لبیک اور حکومت کے طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے بنائی گئی خصوصی کمیٹی اس حوالے سے دیگر جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرے گی۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف اور تحریک لبیک کے مابین معاملات طے پانے کے بعد ٹی ایل پی نے اپنی پچھلی ڈیڈ لائن کی تاریخ فروری سے بڑھا کر اپریل تک کر دی تھی، اس حوالے سے وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ حکومت کا تحریک لبیک سے ایک معاہدہ ہو گیا ہے جس کے بعد ٹی ایل پی نے اپنے احتجاج کی ڈیڈ لائن فروری سے بڑھا کر 20 اپریل 2021 کر دی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ 20 اپریل کے بعد حکومت ٹی ایل پی کے مطالبات پارلیمنٹ میں پیش کر دے گی۔
اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ میں ٹی ایل پی اور پاکستانی عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ پی ٹی آئی حکومت سے قبل کسی نے محمد ﷺ کی شان کے لیے واضح مؤقف نہیں اپنایا، میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ہماری حکومت نے عالمی سطح پر واضح مؤقف اپنایا حالانکہ میں نے نبی ﷺ کی شان کا نعرہ لگا کر ووٹ نہیں لیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرا عقیدہ ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مغربی ممالک میں نبی ﷺ کی شان میں گستاخی پلان کے تحت ہوتی ہے، مغربی ممالک میں بیٹھے فتنے کو سمجھ نہیں آتی کہ ہمارا عقیدہ کیا ہے، میں نے یہ معاملہ او آئی سی اور یو این میں بار بار اُٹھایا ہے جب کہ دیگر مسلم ممالک کی جانب سے اب رد عمل آ رہا ہے۔
تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ کپتان حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے کے تحت فرانس کے سفیر کو ملک سے بیدخل کرنے کا فیصلہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ سکتا ہے خصوصا ایک ایسے وقت کہ جب پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے کوشاں ہے۔ یاد رہے کہ فرانس نے پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے آخری اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی مخالفت روایتی حریف بھارت سے بھی بڑھ کر کی تھی۔ اسکی بنیادی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے جنوری 2021 میں علامہ خادم حسین رضوی کی شدت پسند تنظیم تحریک لبیک کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ تھا۔ فرانس کا موقف تھا کہ حکومت پاکستان ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل درآمد کرتے ہوئے شدت پسند تنظیموں کو ختم کرنے کی بجائے انکے ساتھ معاہدے کر رہی ہے لہذا اسے گرے لسٹ سے نکالنے کا کوئی جواز نہیں۔
یاد رہے کہ حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد تحریک لبیک نے فرانسیسی سفیر کو بیدخل کروانے کے لئے 16 فروری کے لیے اعلان کردہ اسلام آباد مارچ مؤخر کردیا تھا۔ اسکے بعد وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے اعلان کیا تھا کہ حکومت 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ تاہم یہ اعلان پاکستان کو بھگتنا پڑا اور اسے جون 2021 تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانس کی حکومت نے حالیہ مہینوں میں بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو اور بھی مضبوط کرلیا ہے ہے اور دونوں ملکوں نے حال ہی میں دفاعی آلات کی فراہمی کے معاہدے بھی کر لیے ہیں۔ یاد رہے کہ انڈیا نے حال میں فرانس سے اربوں ڈالرز مالیت کے دفاعی پیدوار کے متعدد معاہدے کیے ہیں جن میں جدید جنگی طیارے رفال کا سودا بھی شامل ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب عمران خان حکومت اس معاملے پر دونوں جانب سے مشکل میں پھنس چکی ہے۔ اگر حکومت تحریک لبیک کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق 20 اپریل تک پارلیمنٹ میں فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرارداد نہیں لاتی تو تحریک لبّیک سڑکوں پر نکل آئے گی اور اگر حکومت قرارداد لے آتی ہے تو پھر فرانس مزید ناراض ہوگا اور ایف اے ٹی ایف کے اگلے اجلاس میں پاکستان کے لیے بھارت سے مل کر مزید مسائل کھڑے کرے گا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ 20 اپریل تک کیا حکومت پاکستان پارلیمنٹ میں فرانس کے سفیر کو بے دخل کرنے کی کارروائی کا آغاز کرتی ہے یا نہیں؟
