کیا کپتان حکومت نواز شریف کو لندن سے واپس لاپائے گی

حکومت نے نواز شریف کو لندن سے پاکستان واپس لانے کے لیے برطانوی حکومت کو خط لکھنے کا اعلان تو کردیا ہے لیکن قانونی ماہرین کا کہناہے کہ حکومت پاکستان کے لیے اپنے اس مشن میں کامیاب ہونا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ برطانیہ کے ساتھ پاکستان کا ملزمان کی حوالگی کا کوئی معاہدہ موجود نہیں۔ اسکے علاوہ برطانوی قوانین کسی بھی ایسے شخص کو کسی ملک کے حوالے کرنے کی اجازت نہیں دیتے جسے سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ہو ۔ لہذا قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو نواز شریف کی حوالگی اور جلا وطنی کیلئے لکھے گئے کسی بھی خط سے حکومت کو سوائے سبکی کے کچھ حاصل نہیں ہو گا قانونی ماہرین کی آراء کے مطابق حکومتی خط پر سابق وزیر اعظم نوازشریف کی برطانیہ سے ملک بدری ممکن نہیں۔ ان کا مذید کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے خط لکھنے کا اعلان سوائے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔‘
یاد رہے کہ 25 فروری 2020 کو پنجاب کابینہ نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد یکم مارچ 2020 کو وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیان دیا تھا کہ ‘علاج کے غرض سے پاکستان سے برطانیہ جانے والے وی آئی پی قیدی نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کا وقت آچکا ہے۔ اس لیے وفاقی حکومت برطانیہ کو نواز شریف کو ملک بدر کرنے کیلئے خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کے اس اقدام کے حوالے سے قانونی ماہرین کے متفقہ رائے ہے کہ برطانوی قوانین کے مطابق حکومتی درخواست پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کی برطانیہ سے ملک بدری ممکن نظر نہیں آتی۔ کسی شخص کی حوالگی سے متعلق بین الاقوامی قوانین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ایک سینیئر قانون دان نے بتایا کہ حکومت پاکستان کی درخواست پر نواز شریف کی ملک بدری کا فیصلہ برطانوی ہوم سیکریٹری پر منحصر ہے۔
ان کے مطابق ’اگر حکومت پاکستان برطانوی حکومت سے درخواست کرتی ہے کہ نواز شریف کو پاکستان بھیجا جائے تو اس کے لیے سب سے پہلے انھیں برطانوی ہوم سیکریٹری کی رضامندی درکار ہوگی جس کے بعد ہی برطانیہ میں نواز شریف کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔ جبکہ اس کے بعد بھی برطانوی حکومت اپنے قانون کے مطابق اس بات کا جائزہ لے گی کہ اس شخص کو وہ نکالیں یا نہیں۔‘
برطانیہ کے حوالگی کے قانون 2003 کے مطابق برطانوی حکومت سب سے پہلے یہ دیکھتی ہے کہ جس ملک کی طرف سے حوالگی کی درخواست آئی ہے کیا اس ملک کے ساتھ برطانیہ کا دوطرفہ معاہدہ ہے یا نہیں۔ کچھ ممالک ایسے ہیں جن کے ساتھ برطانوی حکومت اپنے قانون اور معاہدے کے تحت مجرموں کا تبادلہ کرتی ہے اور بعض مخصوص کیسز میں یکطرفہ حوالگی بھی کی جاتی ہے لیکن پاکستان کے ساتھ برطانیہ کا کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ’برطانیہ میں پاکستانی حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کس بنیاد پر نواز شریف کو پاکستان واپس لے جانا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ برطانوی کورٹ میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ نواز شریف کس کیس میں سزا یافتہ ہیں۔ جبکہ انھیں اس کیس کے تمام شواہد بھی عدالت کے سامنے پیش کرنے ہوں گے۔اس کے بعد برطانوی کورٹ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ کیا جو درخواست یا اپیل کی گئی ہے، وہ درست بھی ہے یا نہیں۔ اگر فیصلہ کسی شخص کے خلاف آ بھی جاتا ہے تو بھی اس شخص کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتا ہے جس میں تقریباً کم از کم دو سال لگ ہی جاتے ہیں‘۔
قانونی ماہرین کے مطابق برطانوی قانون میں انسانی حقوق اور سیاسی طور پر ظلم کا نشانہ بنائے جانے کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ نواز شریف کیونکہ طبی بنیادوں پر عدالت سے ضمانت لے کر گئے تھے اس لیے برطانونی عدالت یہ پہلو بھی دیکھے گی کہ کیا ایک بیمار شخص کو وطن واپسی پر جیل میں تو نہیں ڈال دیا جائے گا جو کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان تمام پہلوؤں کے مدنظر یہ کافی مشکل ہے کہ حکومت نواز شریف کو پاکستان لانے کے مشن میں کامیاب ہو سکے گی۔‘
ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ کیونکہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان حوالگی کے قانون کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے اس لیے برطانونی حکومت اس بات کی پابند نہیں ہے کہ وہ پاکستانی حکومت کی طرف سے نواز شریف کی حوالگی کی درخواست پر عمل بھی کرے۔ ان کا کہنا ہے ’اس سے پہلے بھی پاکستانی حکومت اسحاق ڈار کے حوالے سے کافی مرتبہ برطانیہ کو لکھ چکی ہے لیکن انھوں نے نہیں مانا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ نواز شریف سزا ملنے کے بعد برطانیہ گئے جبکہ اسحاق ڈار اس سے پہلے ہی وہاں چلے گئے تھے۔ اس لیے پاکستانی قانون کے مطابق یہ صرف برطانیہ کو لکھ سکتے ہیں آگے ان کا باقاعدہ ایک قانونی طریقہ کار ہے جس کے مطابق وہ کام کرتے ہیں۔‘
ان کا مذید کہنا تھا کہ حکومت برطانیہ صرف دہشتگردی جیسا سنگین جرم ثابت ہونے پر کسی شخص کا فوری ویزہ کینسل کرتی ہے۔ تاہم نواز شریف کو جب بھی کوئی ایسا نوٹس گیا تو ان کے وکلا انہی دلائل کا استعمال کریں گے کہ انھیں سیاسی مقاصد کے لیے پاکستان بلایا جا رہا ہے جس کی برطانوی قانون میں بہت اہمیت ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ان کو ایسے واپس لانا بہت مشکل ہے۔
