کیا کپتان نے سیاسی ڈاکے سے بچنے کے لیے ڈاکو کے سامنے سرنڈر کیا؟

قدرت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ وفاق اور پنجاب میں اپنی حکومتیں بنانے کی خاطر قاف لیگ کو مجبوری میں شریک اقتدار کرنے کے بعد ڈھائی برس تک چوہدری برادران کو منہ نہ لگانے والے وزیراعظم عمران خان نے اب پنجاب سے سینیٹ کے الیکش میں کامیابی یقینی بنانے کی ذمہ داری پرویز الٰہی کو سونپ دی ہے جنہیں وہ ماضی میں پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیتے رہے ہیں۔ یعنی انہوں نے سینیٹ الیکشن میں سیاسی ڈاکے سے بچنے کے لیے ایک ڈاکو کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔
معلوم ہوا ہے کہ سینٹ الیکشن میں کچھ حکومتی اراکین اسمبلی کی جانب سے اپنی وفاداریاں بدلنے کے خدشات کے پیش نظر اب وزیر اعظم عمران خان نے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب سے سینیٹ میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کی ذمہ داری سونپ دی ہے اور مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما کو صوبے میں حکمران اتحاد کی تین رکنی کمیٹی کا حصہ بنا دیا ہے۔ اس کمیٹی کے دیگر ممبران میں وزیر اعلٰی عثمان بزدار اور گورنر چوہدری سرور ہیں۔ یہ کمیٹی مارچ میں ہونے والے سینیٹ الیکشن میں اتحادیوں کے نامزد امیدواروں کی کامیابی کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرے گی۔ یہ فیصلہ اسلام آباد میں دونوں اتحادیوں کے شراکت داروں کے وفود کے درمیان ہونے والے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وزیر اعظم عمران خان کر رہے تھے۔ مسلم لیگ (ق) کے وفد میں چوہدری پرویز الٰہی، وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ اور رکن قومی اسمبلی مونس الٰہی شامل تھے جبکہ وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک اور شفقت محمود نے اجلاس میں وزیر اعظم کی معاونت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ (ق) کے امیدوار کامل علی آغا کے لیے اپنی پارٹی کی باضابطہ طور پر حمایت کی توثیق کی اور پرویز الہٰی سے کہا کہ وہ امیدوار کی فتح کو یقینی بنانے کے لیے اپنے تجربے کو بروئے کار لائیں۔ دریں اثنا چوہدری پرویز الہٰی نے وزیر اعظم کو نئی تعمیر شدہ پنجاب اسمبلی کی عمارت کا افتتاح کرنے کی دعوت دی اور گزشتہ ماہ مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت کی عیادت کے لیے ان کی رہائش گاہ لاہور جانے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اجلاس کے دوران قومی سیاست سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں اتحادی جماعتیں پنجاب میں بلدیاتی نظام کے بارے میں مسلم لیگ (ق) کے تحفظات پر بات چیت میں مصروف ہیں۔ لیکن قاف لیگ کے ذرائع نے یہ تاثر مسترد کردیا ہے کہ پرویز الٰہی کو پنجاب حکومت میں ایک اور اہم عہدہ دیا جارہا ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ ق کے پاس پنجاب اسمبلی میں 10 اور قومی اسمبلی میں صرف پانچ نشستیں ہیں تاہم موجودہ سیاسی منظرنامے میں نمبر گیم کے حوالے سے اس کا ایک اہم مقام ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے مسلم لیگ (ق) کی خواہش کو اپنے نامزد کردہ امیدوار سے ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے علاوہ وہ چوہدری پرویز الہٰی کی پنجاب کی سیاست میں تجربے سے فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اگرچہ تحریک انصاف کو پنجاب میں حزب اختلاف پر واجبی سے برتری حاصل ہے تاہم بزدار کے مخالف پندرہ سے بیس ارکان کا فارورڈ بلاک سامنے آنے کے بعد انہیں خدشہ ہے کہ یہاں سے تحریک انصاف کی ایک سیٹ کم ہو سکتی ہے۔ اسی لئے چوہدری پرویز الٰہی کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ تمام حکومتی اراکین اسمبلی کی جانب سے اپنے امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے کو یقینی بنائیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال سامنے آنے والے پی ٹی آئی پنجاب کے فارورڈ بلاک کی قیادت بزادر کے آبائی شہر تونسہ شریف سے منتخب ہونے والے خواجہ داؤد سلیمانی کر رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار ایک نااہل اور ناکام وزیراعلی ہیں جنہوں نے صوبے میں کرپشن کا بازار گرم کر رکھا یے۔ حالیہ دنوں خواجہ داؤد نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی سے بھی ملاقات کی ہے جسے معنی خیز قرار دیا گیا اور شاید اسی لیے وزیراعظم نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ وہ داؤد سلیمانی جیسے ناراض اراکین کو منانے کے لئے پرویزالٰہی کو استعمال کریں۔
اس سے پہلے چودھری پرویز الہی نے سینیٹ الیکشن کے لیے عمران خان سے اپنی پارٹی کے سیکرٹری جنرل کامل علی آغا کے لیے ٹکٹ بھی حاصل کیا ہے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ رواں برس مارچ میں ہونے جا رہے سینٹ کے الیکشن میں تحریک انصاف حکومت کو اپنے ووٹ ٹوٹنے سے بچانے کا بڑا چیلنج درپیش ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سینیٹ انتخابات میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے بیس سے زائد ایم پی ایز نے کپتان کی ہدایات کے برعکس پیسے لے کر اپنا ووٹ اپوزیشن امیدواروں کو ڈالا تھا جس کے بعد عمران خان نے نے انہیں پارٹی سے نکال دیا تھا۔ اب بھی وزیراعظم باربار یہ کہہ رہے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں اراکین اسمبلی کی بولی لگنا شروع ہو گئی ہے اور وہ ان تمام افراد کے نام جانتے ہیں جو ووٹ خرید رہے ہیں۔ اور اسی لئے انہوں نے سینیٹ الیکشن میں پنجاب اسمبلی کے اراکین کے ووٹ حکومتی امیدواروں کے حق میں ڈلوانے کی ذمہ داری عثمان بزدار کی بجائے پرویز الہی کے ذمے لگا دی ہے۔
