کیا کپتان واقعی جنرل پاشا کو گورنرسندھ لگانا چاہتے ہیں؟

سوشل میڈیا پر گورنر سندھ عمران اسماعیل کو ہٹا کر ان کی جگہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ احمد شجاع پاشا یا سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو گورنر لگانے کی افواہیں زوروں پر ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں ایسا فیصلہ ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر بالفرض وفاقی حکومت نے یہ قدم اٹھایا تو اس کا مقصد پیپلزپارٹی حکومت کو گرانے کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا جس کی موجودہ حالات میں کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہے۔
لیکن قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران شاہ محمود قریشی کی جانب سے یہ اعلان کیا جانا کہ ہم جلد سندھ میں بھی آرہے ہیں ان افواہوں کو تقویت دیتا ہے۔ سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے پہلے ہی شاہ محمود قریشی کے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سازشوں کے ذریعے سندھ میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔
حالیہ دنوں ملک کے سیاسی حلقوں میں دو متضاد خبریں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ایک یہ کہ سابق وزیرداخلہ سندھ اورگرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے زرداری مخالف مرکزی رہنما ذوالفقار مرزا کو گورنر سندھ تعینات کئے جانے کا امکان ہے۔ جبکہ دوسری خبر کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق سربراہ 67 سالہ جنرل شجاع پاشا کو گورنر سندھ تعینات کیے جانے کا سوچا جا رہا ہے جبکہ تحریکِ انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹرعامر لیاقت حسین جنرل احمد شجاع پاشا کو چئیرمین نیب بنائے جانے کا امکان بھی ظاہر کرچکے ہیں۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں جب پوری دنیا کو کورونا کا سنگین بحران درپیش ہے، ایسے میں وفاقی حکومت سندھ میں گورنر کی تبدیلی کی ضرورت کیوں محسوس کر رہی ہے اور اگر گورنر کی تبدیلی ضروری ہے تو پھر اس کی اصل وجہ کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر وفاقی حکومت موجودہ گورنر سندھ عمران اسماعیل کو ہٹا کر کر جنرل پاشا یا ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو گورنر لگاتی ہے تو اس کا واضح مقصد یہ ہے کہ وفاق سندھ حکومت کو گرانا چاہتا ہے ۔تاہم کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد پیدا شدہ حالات میں ایسا ہونے کی کوئی عقلی دلیل نظر نہیں آتی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ممکن ہے کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل کی کارکردگی پر وفاق میں عدم اطمینان ہو، تاہم وہ اس وقت کرونا کی وجہ سے پس منطر میں چلے گئے ہیں اس لئے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے انہیں بدلا نہیں جا سکتا۔ ویسے بھی عمران اسماعیل وزیر اعظم عمران خان کے قریبی دوست ہیں اور وہ سندھ حکومت کو خاصا ٹف ٹائم بھی دے رہے ہیں ، ایسے میں ذوالفقار مرزا یا شجاع پاشا کو گورنر سندھ لگانے کی توجیہہ سمجھ نہیں آتی۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کے مطابق یہ خبر نہیں بلکہ محض افواہ ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ احمد شجاع پاشا یا ذوالفقار مرزا کو گورنر لگایا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں گورنر سندھ کیلئے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ احمد شجاع پاشا اور ذوالفقار مرزا دونوں ہی غیر موزوں ہیں۔ بالفرض اگر احمد شجاع پاشا کو گورنر لگایا گیا تو اس فیصلے کی سخت مخالفت ہوگی کیونکہ ان کا ماضی داغدار ہے اور سندھ سے انکا کوئی تعلق ہی نہیں۔ لیکن عام تاثر یہ ہے کہ پاشا دراصل عمران خان کے محسنوں میں سے ایک ہیں۔
تحریک انصاف میں الیکٹ ایبلز شامل کروانے، حکومت مخالف دھرنے کروانے اور عمران خان کو مقتدر حلقوں کے ذریعے آگے لانے میں بھی جنرل پاشا کا کلیدی کردار ہے۔ اس کے علاوہ جب مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو جنرل پاشا اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ مل کر میمو گیٹ سکینڈل میں پیپلزپارٹی کے حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشنر بنے تھے لہذا ان کی بطور گورنر سندھ تعیناتی بڑی سیاسی محاذ آرائی کا پیش خیمہ ہوگی۔
بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں چونکہ وزیراعظم عمران خان جنرل پاشا کے احسان مند ہیں اس لیے ہو سکتا ہے کہ ان احسانات کا قرض اتارنے کے لیے انہیں گورنرسندھ لگایا جائے۔ بعض حکومتی افراد کا خیال ہے کہ جنرل پاشا کو جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی جگہ چیئرمین نیب بھی لگایا جاسکتا ہے اس حوالے سے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین باقاعدہ ٹویٹ بھی کرچکے ہیں۔ دوسری جانب ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو اس بنیاد پرغیر موزوں شخصیت قرار دیا جارہا ہے کہ ان کی ذہنی حالت اور پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری سے دشمنی کوئی ڈھکی چپھی نہیں۔ خیال رہے کہ ذوالفقار مرزانے ایک مرتبہ علی الاعلان کہاتھا کہ انہوں نے بحیثیت صوبائی وزیر داخلہ کلاشنکوف کے 2 لاکھ اسلحہ لائسنس جاری کئے جوکسی شادی بیاہ پرہوائی فائرنگ کرنے کیلئے نہیں کئے تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو آدمی صرف اس لئے 2 لاکھ اسلحہ لائسنس جاری کرسکتا ہے تاکہ تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے، کیا وہ صوبے کا گورنر بننے کا اہل ہوسکتا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button