کیا 8 دسمبر کو اپوزیشن استعفوں کا اعلان کر دے گی؟

کیا پیپلز ڈیموکریٹک الائنس یعنی پی ڈی ایم کی قیادت آٹھ دسمبر کو اپنے اجلاس میں پارلیمینٹ سے استعفی دینے کا اعلان کر دے گی؟ یہ وہ سوال ہے جو مریم نواز شریف کے مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کے بعد کیا جا رہا ہے۔ مریم نواز نے لاہور میں ہونے والی کنونشن میں یہ اعلان کیا کہ آٹھ دسمبر کو پی ٹی ایم کی قیادت حکومت سے جان چھڑوانے کے لئے ایک بہت بڑے فیصلے کا اعلان کرنے جا رہی ہے۔ لہذا سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہی خیال ہے کہ یہ اعلان اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ سے استعفے دینے کے حوالے سے ہو گا۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان ایک حالیہ انٹرویو میں پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر اپوزیشن اسمبلی سے استعفے بھی دے دے تب بھی وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اپوزیشن کے ساتھ کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے کیونکہ ایسے مذاکرات کا واحد مقصد این آر او حاصل کرنا ہے۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا یہ موقف ہے کہ اگر پارلیمنٹ میں موجود تمام بڑی جماعتوں نے پارلیمنٹ سے استعفے دے دیے تو حکومت کا چلنا مشکل ہوجائے گا اور پھر بحران سے نکلنے کا واحد راستہ نئے الیکشن ہوں گے۔
مریم نواز شریف نے 6 دسمبر کو لاہور میں اپنی تقریر میں کہا کہ ایک صفحے پر ہونے کے باوجود حکومت کی کھٹارا بس کو روز دھکا لگانا پڑتا ہے لیکن یہ بس چل نہیں رہی ہے۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گیس آ نہیں رہی لیکن ہزاروں کا بل آرہا ہے، کون کہتا تھا کہ سبز پاسپورٹ کی عزت کرواؤں گا، آج مختلف ممالک میں پاکستان کی پروازوں پر پابندی عائد کردی ہے، سائیکل پر چلنے والا وزیراعظم کہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جعلی وزیراعظم کسی شہر میں آتا ہے تو عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ کر پورا شہر بند کردیا جاتا ہے، انہیں کش سے خطرہ ہے؟
مریم نواز نے حکومت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے باہر سے ایل این جی منگوانی تھی لیکن اس لیے دیر سے منگوائی کیونکہ ان کے وہ دوست جو ان کے کچن اور پارٹی کے خرچے چلاتے ہیں اور ان کے فرنس آئل کے پلانٹ ہیں اور اس سے عوام کا 122 ارب روپے کا نقصان ہوا اور یہ نقصان عوام کے خون پسینے کی کمائی پر دیے جانے والے ٹیکس میں کرپشن سے ہوتا ہے لیکن بندہ بہت ایمان دار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بجائے بجلی سستی ملتی ان کے کچن چلانے والے دوستوں کا فائدہ ہوا مگر بندہ ایمان دار ہے، سپریم کورٹ نے بلین ٹری کے بارے میں کہا کہ درخت کہاں ہیں ہمیں تو کہیں نظر نہیں آرہے ہیں لگتا ہے بنی گالا میں لگے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ یہ دعوے کرتا تھا کہ میں 90 دنوں میں کرپشن ختم کروں گا لیکن اب میں عاصم سلیم باجوہ کا نام لوں گی تو میڈیا اس کو میوٹ کردے گا، کل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی پٹیشن میں کہا کہ عاصم سلیم باجوہ کی اہلیہ کی 13 کمرشل اور 5 رہائشی جائیدادیں امریکا جیسے ملک میں ہیں جس کو ظاہر نہیں کیا گیا، کسی عدالت میں عاصم سلیم سے پوچھنے کی ہمت ہے کہ آپ کے پاس اتنی جائیدادیں کہاں سے آئیں۔ان کا کہنا تھا کہ نیب چیئرمین کہتا تھا کہ میں فیس نہیں کیس دیکھتا ہوں اب انہیں عاصم سلیم باجوہ کا فیس نظر نہیں آرہا۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ یہ حکومت بڑی چالاک ہے، جس نے ایک میڈیا ہاؤس کو دوسرے میڈیا ہاؤس اور اینکرز کو آپس میں لڑا دیا، آج میڈیا اتنا بھی آزاد نہیں ہے کہ ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کا نام ٹی وی پر چلا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو چینلز دباؤ کا سامنا کرنے سے انکار کرتے ہیں یا اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں ان کے سربراہان کو نیب کے سیل میں ڈالا جاتا ہے، جیو کے سربراہ کو بند کردیا گیا، آج کل جیو ہمارے بہت خلاف ہے لیکن مجھے پتا ہے کہ ان پر اوپر سے دباؤ ہے، سب چینلز کو آج جو سبق پڑھایا جاتا ہے، یا لکھا ہوا آتا ہے اور چھوٹے سے افسر کا فون آجاتا ہے تو اس کو ماننا پڑتا ہے اور مجھے پتا، وہ مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا سدا اسی طرح مجبوری میں بیٹھے رہو گے، پاکستان میں سچ اور حق بولنے کی طاقت رکھتے تھے ان کو نوکریوں سے فارغ کردیا گیا اور چینلز کو کہا گیا کہ فلاں فلاں اینکر کو نکال دو ورنہ چینل کو بند کردیں گے اور چینل بند کردیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح مطیع اللہ جان اور علی عمران کو دن دہاڑے غائب کردیا جاتا ہے اور جعلی وزیراعظم ٹی وی پر آکر کہتا ہے کہ مجھے تو معلوم نہیں تھا، اگر تمہیں یہ نہیں معلوم کہ کراچی میں مریم نواز کے کمرے پر حملہ کیا، کیپٹن (ر) صفدر اور آئی جی کو کس نے اغوا کیا تو عوام آپ کا نام خوامخواہ کیوں نہ رکھیں۔
میڈیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا سے بھی درخواست کرتے ہیں کب تک ہاتھ جوڑ کر مار کھاتے رہوگے، کب تک یہ ذکت برداشت کروگے کہ حق سچ بات کہنے پر وہ لوگ تمھارے گھروں سے دن دہاڑے تمہیں گھسیٹ کر لے جائیں اور بعد میں آپ کو کہنا پڑے کہ میں شمالی علاقے کی سیر کے لیے گیا تھا۔ مریم نواز نے کہا کہ میڈیا بھی کسی کا آلہ کار بنے سے انکار کردے تو میں دیکھتی ہوں کہ چینل اکٹھے ہوجائیں تو کون ان میں دراڑ ڈال سکتا ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں اپنی معزز عدلیہ کو بھی یہ کہنا چاہتی ہوں کہ آپ اس طرح کے احکامات مانتے ہیں تو پچھلے دو چیف جسٹسز کا حال ہوا ہے، جب وہ کرسی میں ہوتے ہیں تو سب احتراماً یا ان کے خوف کے مارے سلام کرتے لیکن جب کرسی چھوڑ کر جاتے ہیں تو ان سے ہاتھ ملانے کا بھی روادار نہیں ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کامیاب انسان وہ ہے کہ جس کو جانے کے بعد لوگ یاد کریں کہ وہ بہادر تھا، جیسے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ نے مشرف کی پھانسی کی سزا دی تھی، آج وہ اس دنیا میں موجود نہیں ہے لیکن ان کا نام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا اور یہ بھی سوچوں کہ دو سابق چیف جسٹسز کو کیسے یاد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس وقار سیٹھ کی بہادری کو سلام پیش کیا جاتا ہے جبکہ سابق دو چیف جسٹس کو کس طرح یاد کیا جا رہا ہے؟ کوشش ہے کہ پاکستان میں انصاف کا بول بالا ہو اور کوئی فیصلہ انتقام کی بنیاد پر نہ ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام یہ جنگ جیت چکے ہیں اور 13 دسمبر کو اعلان ہونا باقی ہے، پی ڈی ایم 8 دسمبر کو بڑے فیصلے کرنے جا رہی ہے اور اگر اسمبلی سے استعفوں کا فیصلہ ہوا تو تمام منتخب اراکین اس پر عمل کریں اگر کوئی رکن دباؤ میں آیا تو عوام اس کا گھیراؤ کریں گے۔
