کیا PCB ایک جواری کوبورڈ میں عہدہ دے گا؟

تین عشرے قبل میچ فکسنگ سکینڈل میں سزا یافتہ سابق ٹیسٹ کرکٹر سلیم ملک کی جانب سے میچ فکسر کھلاڑیوں کی کرکٹ میں واپسی کو جواز بناتے ہوئے خود بھی کوچنگ کی خواہش کے اظہار کے بعد یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ آیا جوا زدہ سلیم ملک کو کوچنگ کی اجازت ملنی چاہیے۔ دوسری طرف کھیلوں سے متعلقہ حلقے کہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلیم ملک کو بورڈ میں ایک اہم عہدہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس حوالے سے عوامی ٹمپریچر لینے کے لیے سلیم ملک کے ذریعے اس ایشو کو اچھالا جا رہا ہے۔
دنیائے کرکٹ میں میچ فکسنگ کے الزامات کے تحت سزا پانے والے پاکستان کے اولین کھلاڑی سلیم ملک نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ جس طرح محمد عامر، سلمان بٹ اور شرجیل خان کو سزا پوری ہونے پر کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی گئی اسی طرح انہیں بھی کلین چٹ ملنے کے بعد قومی ٹیم کی کوچنگ کا حق ملنا چاہیے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ سابق کپتان اور چیف سلیکٹر انضمام الحق اور ثقلین مشتاق بھی سلیم ملک کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ موضوع زیر بحث ہے کہ سلیم ملک کو کوچنگ کی اجازت ملنی چاہیے یا نہیں۔ تاہم کرکٹ ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ شاید کرکٹ بورڈ سلیم ملک کو اہم ذمہ داری دینے کا فیصلہ کرچکا ہے اس لئے حفظ ماتقدم کے طور پر عوامی نبض چیک کی جارہی ہے کہ اس فیصلے پر کتنا ردعمل آ سکتا ہے۔
سلیم ملک کے کرکٹ کیریئر پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر پاکستان کرکٹ میں کپتان کے بلند ترین عہدے تک پہنچے لیکن اس کے بعد انہوں نے مادی لالچ کی وجہ سے زوال کی گہرائیاں بھی دیکھیں۔ سلیم ملک میچ فکسنگ کی وجہ سے پابندی کا نشانہ بننے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بنے۔ 2000ء میں جسٹس ملک محمد قیوم نے میچ فکسنگ کی تحقیقات کے بعد سلیم ملک کو سزا سنائی تھی کہ وہ پوری زندگی میں کسی بھی سطح پر کرکٹ کی کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے۔
سلیم ملک پر 4 مختلف غیر ملکی دوروں میں میچ فکس کرنے کے الزامات تھے۔ یہی نہیں بلکہ آسٹریلیا کے شین وارن اور مارک وا نے بھی ان کے خلاف گواہی دی تھی کہ 1994ء کے دورۂ پاکستان میں سلیم ملک نے انہیں رشوت دینے کی کوشش کی تھی تا کہ وہ خراب کارکردگی پیش کرکے کراچی ٹیسٹ ہار جائیں۔ گوکہ
ان تحقیقات میں سلیم ملک کے علاوہ بھی بڑے بڑے نام تھے لیکن پابندی صرف سلیم ملک اور فاسٹ باؤلر عطاء الرحمٰن پر لگی۔ سلیم ملک تو کسی بھی سطح پر کرکٹ نہیں کھیل سکتے تھے لیکن عطاء الرحمن کے محض بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے پر پابندی تھی۔ وسیم اکرم، وقار یونس، انضمام الحق اور مشتاق احمد پر محض جرمانے لگائے گئے۔
یاد رہے کہ سلیم ملک نے جسٹس قیوم عدالتی کمیشن کے روبرو بھی ان الزامات کو مسترد کیا اور بعد میں اسکے فیصلے کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کیا لیکن ان کی درخواست رد کردی گئی، اس کے بعد وہ گمنامی میں چلے گئے۔ یہاں تک کہ لمبے عرصے کے بعد ایک عدالت نے ان پر عائد پابندی کا خاتمہ کردیا۔ آج اس بات کو بھی 12 سال گزر چکے ہیں لیکن سلیم ملک پر کرکٹ کے دروازے اب بھی بند ہیں۔
ان دنوں سوشل میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ جب 90ء کی دہائی کے سارے مشتبہ کھلاڑی کسی نہ کسی سطح پر کرکٹ میں واپس قبول کرلیے گئے اور مشکوک ماضی ہونے کے باوجود انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، تو تنہا سلیم ملک کا کیا قصور؟ انہیں بھی معافی دی جائے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ ابھی کل کی ہی بات لگتی ہے کہ 2010ء میں لارڈز کے میدان پر اسپاٹ فکسنگ کے ذریعے پاکستان کا نام ڈبویا گیا۔ اس گھناؤنی حرکت کے مرتکب کھلاڑی آج کہاں ہیں؟ محمد عامر کم عمر تھے اور شبہ تھا کہ انہوں نے فکسنگ کی حرکت کپتان کے دباؤ کی وجہ سے کی ہوگی، اس لیے انہیں سزا بھگتنے کے فوراً بعد قومی کرکٹ ٹیم میں شامل کرلیا گیا اور وہ آج بھی ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔
محمد آصف نے بحالی کا چانس ہونے کے باوجود تنہائی اور خاموشی کا راستہ چن لیا اور کرکٹ کے میدان کا دوبارہ رخ ہی نہیں کیا، ورنہ شاید انہیں بھی واپسی کا موقع مل جاتا۔ لیکن افسوس کی بات کہ کرکٹ جوے کے سب سے بڑے کردار سلمان بٹ ڈومیسٹک کرکٹ سے لے کر پاکستان سپر لیگ تک ہر جگہ ایکشن میں نظر آرہے ہیں اور میدان سے باہر بھی تجزیہ کار کی حیثیت سے ٹیلی وژن چینلوں پر موجود رہتے ہیں۔ تازہ مثال شرجیل خان کی لے لیں کہ جن پر 2017ء میں فکسنگ اسکینڈل کے بعد 5 سال کی پابندی لگائی گئی تھی لیکن انکی سزا ڈھائی سال بعد معطل کردی گئی اور اب وہ ایک مرتبہ پھر کھیل کے میدانوں میں موجود ہیں۔
کرکٹ ایکسپرٹس کے خیال میں اب اتنے برسوں کے بعد اچانک سلیم ملک کا منظرِ عام پر آنا اور کرکٹ سرگرمیاں شروع کرنے کی سرِعام اجازت طلب کرنا ظاہر کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی کھچڑی ضرور پک رہی ہے۔ سلیم ملک کہہ رہے ہیں کہ میں کسی بھی سطح پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے کوچنگ کی خدمات انجام دے سکتا ہوں۔ مجھے 2008ء میں عدالت نے کلین چٹ دے دی تھی اور قانوناً مجھ پر کوئی پابندی نہیں۔ جب محمد عامر، سلمان بٹ اور شرجیل خان کو موقع مل سکتا ہے تو میرے تجربے کا بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ پھر پاکستان کے سابق کپتان اور چیف سلیکٹر انضمام الحق کا بھی یہی سمجھنا ہے کہ سلیم ملک کو دوسرا موقع ملنا چاہیے۔بدقسمتی سے سلیم ملک کا کیریئر اس انداز میں ختم ہوا۔ لیکن انہیں ملک کے لیے دوسری اننگز کا موقع ملنا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے بھارت میں سابق کپتان اظہر الدین پر پابندی لگائی گئی لیکن آج کل وہ حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button