کیا PMLN نظریاتی اور PPP مفاہمتی جماعت بن چکی؟

قید سے نکل کر علاج کی خاطر لندن پہنچ جانے والے نواز شریف نے جب سے فوج مخالف مزاحمتی بیانیہ اپنایا ہے، مریم نواز مسلسل یہ دعوی کرتی نظر آتی ہیں کہ اب نواز لیگ پہلے جیسی جماعت نہیں رہی اور نظریاتی ہو گئی ہے۔ اسکے ساتھ مریم نواز ماضی میں ایک اینٹی اسٹیبلشمینٹ جماعت کے طور پر جانی جانے والی اور عوامی سیاست کرنے والی پیپلزپارٹی پر اسٹیبلشمنٹ نواز ہونے کا الزام بھی عائد کر رہی ہیں۔ لہذا سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا واقعی عوامی اور مزاحمتی سیاست کرنے والی پیپلز پارٹی اب مفاہمتی ہو گئی ہے اور غیر نظریاتی پاور پالیٹیکس کرنے والی نواز لیگ اب نظریاتی اور مزاحمتی ہوگئی ہے۔
نون لیگ سے قربت رکھنے والے حلقوں کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف اب واقعی نظریاتی ہو گئے ہیں اور مزاحمتی سیاست کے امین بن چکے ہیں جسکا مشن ان کی صاحبزادی مریم نواز لے کر آگے بڑھ رہی ہیں۔ دوسری جانب آصف زرداری کے قریبی حلقے اس تائثر سے اتفاق نہیں کرتے کہ پیپلزپارٹی بدلتے حالات میں اپنی نظریاتی اور عوامی سیاست چھوڑ کر اسٹیبلشمنٹ نواز پاور پالیٹیکس کر رہی ہے اور اس نے مفاہمتی بیانیہ اپنا لیا یے۔ پیپلزپارٹی والے اس تائثر سے بھی اتفاق نہیں کرتے کہ اب ن لیگ عوامی، نظریاتی اور مزاحمتی سیاست کی اصل امین یے۔ زرداری کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاست شطرنج کی بساط جیسی ہے جس میں مخالف کی چالوں کو کاونٹر کرنے کے لیے بہت سوچ سمجھ کر اور دیکھ بھال کر جوابی چالیں چلنا پڑتی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ سیاست ہوش سے کی جاتی ہے، جوش سے نہیں اور اس میں فیصلے دماغ سے ہوتے ہیں، دل سے نہیں۔ لہٰذا اگر پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ اس وقت مزاحمتی کی بجائے مفاہمتی بیانیہ لیکر چلنا وقت کی ضرورت ہے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن جب مزاحمتی سیاست کرنے کا وقت آئے گا تو دنیا دیکھے گی کہ سب سے آگے پیپلز پارٹی ہوگی، جیسا کہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔
تاہم نواز شریف کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی جو بھی کہے، سچ تو یہ ہے کہ اسکی قیادت عوامی سیاست چھوڑ کر پاور پالیٹیکس کر رہی ہے جس کا بنیادی مقصد چور دروازے سے اقتدار میں آنا ہے اور اسی لیے وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر چل رہی ہے۔ تاہم آصف زرداری کے قریبی ذرائع اس تاثر کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصل میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر نواز لیگ چل رہی ہے ورنہ نواز شریف سزا یافتہ ہونے کے باوجود جیل سے نکل کر اچانک لندن کیسے جا پہنچتے۔ انکا کہنا ہے کہ نواز شریف کا فوج مخالف بیانیہ کسی مزاحمتی سوچ کا امین نہیں ہے بلکہ اپنی ذات کی خاطر ہے کیونکہ وہ فوجی قیادت کو دباو میں لا کر اس کے ساتھ اقتدار کی ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم حقیقت جو بھی ہو، عمومی تاثر یہی ہے کہ پی ڈی ایم کی دونوں بڑی اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ میں اختلافات کی بنیادی وجہ مزاحمتی اور مفاہمتی بیانیے کا اختلاف ہے۔ لیکن کون سا فریق کب تک نظریاتی اور مزاحمتی سیاست لیکر چلتا یے، اور کونسا فریق کب تک مفاہمتی رہتا یے، اسکا حتمی فیصلہ آئندہ الیکشن سے قبل ہو جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ نواز شریف جب سے نظریاتی ہوئے ہیں اور ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لے کر آئے ہیں، کم از کم پنجاب میں انکی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، لیکن میاں صاحب کے فوج مخالف بیانیے کی وجہ سے انکی مقبولیت ان حلقوں میں گری یے جو ماضخ میں میاں صاحب کو اقتدار کی سیڑھی پر چڑھاتے اور اتارتے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی والے گلہ کرتے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف پیپلز پارٹی کی گزشتہ وفاقی حکومت کے خلاف اور خصوصی طور پر سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف جس طرح اور جن طاقتوں کے اشاروں پر سرگرم عمل رہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ پیپلز پارٹی کو یہ گلہ ہے کہ محترمہ شہید کے ساتھ 2006 میں میثاق جمہوریت کرنے کے باوجود نواز شریف نے زرداری حکومت کی پیٹھ میں چھرا گھونپا اور فوج کے ساتھ ملکر میمو گیٹ سکینڈل لے کر سپریم کورٹ چلے گئے۔
بعد ازاں 2013 میں جب نواز شریف وزیراعظم بنے، تو حسب سابق و معمول دھاندلی کا شور سنائی دیا۔ اس شور میں سب سے نمایاں آواز عمران خان کی تھی جنہیں تب کے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام کی آشیرباد حاصل تھی۔ الیکشن دھاندلی کے خلاف احتجاج اور دھرنے کے لیے اندرون و بیرون ملک تانے بانے بنے گئے اور علامہ طاہر القادری انقلاب کے لیے گھن گرج اور طمطراق کے ساتھ پاکستان وارد ہوگے۔
علامہ صاحب کی آمد کے بعد عمران خان کی ہمراہی میں اسلام آباد کے ڈی چوک میں جو کچھ ہوا، وہ تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ لیکن 2014 کے دھرنے میں قریباً ساری جماعتیں، سوائے متحدہ اور ق لیگ، نواز شریف کی پشت پر نظر آئیں اور کپتان اور علامہ کے خلاف میاں صاحب کو جمہوری و سیاسی حمایت کا یقین دلاتی رہیں۔
2014 کے اسلام آباد دھرنے کے اختتام پر میاں صاحب کے اعتماد میں اس قدر اضافہ ہوا کہ انہوں نے ان قوتوں سے ٹکر لینے کی ٹھان لی، جنہوں نے ستر سالوں سے ملک کا بیڑا، اسکا بیڑہ غرق کرنے کے لیے اٹھایا ہوا ہے۔ نتیجتاً، جہاں میاں صاحب کو ڈان لیکن سکینڈل کے نتیجے میں پرویز رشید اور مشاہد اللہ جیسے وزراء کی قربانی دینی پڑی، وہیں انکو آصف زرداری سے طے شدہ ملاقات سے بھی انکار کرنا پڑا، کیونکہ وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا بیان دے چکے تھے۔ تب میاں صاحب نظریاتی اور مزاحمتی ہونا جھیل نہیں سکتے تھے اس لیے مفاہمت کا کمبل اوڑھ لیا۔ لیکن ہونی ہو کر رہی اور انہیں پانامہ سکینڈل میں اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا۔
سیاسی تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ تیسری دفعہ اقتدار سے ہاتھ دھونے کے بعد میاں صاحب نے فرمایا تھا کہ اب وہ نظریاتی ہو گئے ہیں اور ڈٹ کر مشرف کا مقابلہ کریں گے۔ لیکن ان کے نظریاتی ہونے کے دعوی تب ہوا ہو گیا جب ایک رات اچانک مشرف کے ساتھ ڈیل کر کے وہ جلا وطن ہو گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پانامہ کیس میں اقتدار سے بے دخلی کے بعد بھی میاں صاحب نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کیا اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا۔ لیکن پھر ایک روز وہ سزا یافتہ ہونے کے باوجود قید سے نکال کر علاج کی خاطر لندن روانہ کر دیے گئے۔ لندن پہنچ کر نواز شریف نے کچھ عرصہ خاموشی اختیار کی اور اسی دوران جنرل باجوہ کے عہدے میں توسیع کی حمایت بھی کردی۔ لیکن جب کپتان حکومت نے انہیں اشتہاری قرار دلوا کر ان کی گرفتاری کی کوشش شروع کی تو نوازشریف نے بھی اپنی خاموشی توڑ دی اور کھل کر فوجی قیادت کے خلاف میدان میں آگئے۔
لیکن پھر پی ڈی ایم میں اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے معاملے پر اختلاف کھل کر سامنے آ گیا اور دوبارہ سے نظریاتی اور غیر نظریاتی اور مزاحمتی اور مفاہمتی بیانیے کی بحث شروع ہوگئی۔ اب ایک طرف نظریاتی مسلم لیگ نون ہے، تو دوسری طرف مفاہمتی پیپلز پارٹی۔
بیانیے کی اس جنگ میں سے این پی پی ڈی ایم چھوڑنے گئی یے اور اب اپوزیشن اتحاد تباہی کے دہانے پر کھڑا یے۔ مقابلہ نظریاتی اور مفاہمتی سیاست میں ہے۔ کون سا فریق کب نظریاتی سے مفاہمتی ہو جاتا ہے اور کون سا مفاہمتی سے نظریاتی، یہ ابھی دیکھنا یے۔
