کیا PPP پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ ہتھیانے والی ہے؟

قومی اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چئیرمین شپ کی صورتحال ایک بار پھر تنازعات کا شکار ہو گئی ہے. قومی اسمبلی کی وسیع اختیاراتی کمیٹی کی سربراہی کے لئے عمرانڈوز کے باہمی دست وگریبان ہونے اور حکومت و اپوزیشن میں اس حوالے سے اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد اب شہباز حکومت نے پی اے سی کی سربراہی بارے تحریک انصاف کو لال جھنڈی دکھا دی ہے جبکہ دوسری جانب نون لیگ نے پیپلز پارٹی کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی دینے کیلئے گرین سگنل دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کے حوالے سے سنی اتحاد کونسل اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تاحال اتفاق رائے نہیں ہوسکا، اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا یے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ نئی صورتحال میں قومی اسمبلی کی اس اہم قائمہ کمیٹی کی چیئرمین شپ پیپلز پارٹی کے حصے میں آ سکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف سے اس حوالے سے عدم اتفاق کے باعث حکومت نے پی اے سی کی چئیرمین شپ پیپلز پارٹی کو دینے پر غور شروع کردیا ، پی اے سی کا چئیرمین پہلی مرتبہ باقاعدہ ووٹنگ سے بنائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے حالانکہ ماضی میں کبھی چیئرمین پی اے سی کےعہدے کےلیے ووٹنگ نہیں ہوئی۔
واضح رہے کہ 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد 29 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں نو منتخب ارکان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا، جس کے بعد اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی، وزیراعظم، قائد حزب اختلاف سمیت دیگر اہم عہدوں کا انتخاب ہوگیا تاہم باہمی اختلافات کی وجہ سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کا فیصلہ نہ ہوسکا۔عموماً اپوزیشن کی جانب سے کسی بھی ایک رکن کو چیئرمین پی اے سی نامزد کیا جاتا ہے جس پر اسپیکر اس رکن کو چیئرمین مقرر کر دیتے ہیں۔ تاہم یہ قانون نہیں ہے، یہ ایک روایت ہے جس کا آغاز 11 مئی 2006 کو پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان ہونے والے میثاق جمہوریت کے بعد ہوا تھا۔
خیال رہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پارلیمنٹ کی سب سے اہم اور طاقتور پارلیمانی کمیٹی ہوتی ہے، اس کمیٹی کو وزیراعظم آفس، ایوان صدر، اعلیٰ عسکری و سول اداروں سمیت تمام سرکاری اداروں کے آڈٹ، اس آڈٹ رپورٹ پر اداروں سے جواب طلب کرنے اور تحقیقات کے لیے نیب یا ایف آئی اے کو حکم دینے کا بھی اختیار ہوتا ہے، کمیٹی کے ارکان سینیٹر اور ارکان اسمبلی دونوں ہوتے ہیں۔
قومی اسمبلی کی تشکیل کے بعد سے ہی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی تنازعات اور اختلافات کا شکار ہے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان نے پہلے شیر افضل مروت کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نامزد کیا، جس پر حکومت نے کوئی اور سنجیدہ نام طلب کرلیا، بعد ازاں پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے شیخ وقاص اکرم کا نام پیش کیا تاہم اس پر بھی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔اسی ڈیڈ لاک کے باعث ہی اب کہا جا رہا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی اب پیپلز پارٹی کو ملنے کا امکان ہے، ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے سینیٹر نثار کھوڑو کو چیئرمین پی اے سی نامزد بھی کر دیا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا انتخاب ووٹنگ کے ذریعے ہوگا، حکمران اتحاد کے امیدوار سینیٹر نثار کھوڑو جبکہ پی ٹی آئی امیدوار سنی اتحاد کونسل کے رکن شیخ وقاص اکرم ہوں گے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے 16 ممبرز کا تعلق حکمران اتحاد سے ہوگا جبکہ 8 کا تعلق اپوزیشن سے ہوگا۔’ووٹنگ کی صورت میں حکمران اتحاد کے امیدوار کو باآسانی پی اے سی کی سربراہی مل جائے گی‘۔
