کیفے کنولی کی انگلش اسپیکنگ خواتین مالکان نے معافی مانگ لی

اب اسے مارکیٹنگ کا حربہ قرار دیں یا کچھ اور، کیفے کنولی کی خواتین مالکان اور ان کے منظر کے مابین انگریزی زبان کے حوالے سے وائرل ویڈیو نے ریسٹورانٹ کو اتنی شہرت دے دی ہے کہ فیس بک پر کیفے کنولی کے فالوررز چوبیس گھنٹوں میں تیرہ ہزار سے چوالیس ہزار تک پہنچ گے۔ حتیٰ کہ جس مینیجر کا مذاق اڑایا گیا اسے مختلف افراد کی جانب سے نوکری کی آفرز بھی آنے لگیں ہیں۔
دودری طرف سوشل میڈیا پر کیفے کی مالکان پر شدید تنقید اور بائیکاٹ کنولی کا ٹرینڈ چلنے کے بعد شام تک کیفے ریستوران مالکان کی جانب سے انگریزی ہی میں ایک وضاحت جاری کردی گئی جس میں خواتین مالکان نے ویڈیو کے وائرل ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے اسٹاف کے ساتھ اس طرح کے مزاح پر انہیں ’کسی کے سامنے اپنے آپ کو اسٹاف کے ساتھ رحم دل ہونے کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ویڈیو ہمارے درمیان معمول کی گپ شپ پر مبنی تھی اور اس سے کسی کی دل آزاری کرنا مقصد نہیں تھا۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو اس سے دکھ ہوا ہے یا دل آزاری ہوئی ہے تو ان سے وہ معافی مانگتی ہیں۔ اب معلوم نہیں کہ سوشل میڈیا پر لوگ اس بیان سے مطمئن ہوں گے یا اس پر ایک نئی بحث چل نکلے گی۔
یاد رہے کہ وائرل ہونے والی ویڈیو میں دو خواتین جو خود کو عظمیٰ اور دیا کے نام سے متعارف کرواتی ہیں کہتی ہیں کہ وہ ریستوران کی مالکان ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ وہ بور ہو رہی تھیں اس لیے انہوں نے سوچا کہ ان کے فالوورز کا ان کے ریستوران کے عملے سے تعارف کروایا جائے۔ وائرل ویڈیو میں دونوں خواتین اپنے مینیجر اویس سے، جو ان کے ساتھ نو سال سے کام کر رہے ہیں، کہتی ہیں کہ وہ اپنا تعارف انگریزی زبان میں کروائیں۔ جب اویس انگریزی میں بولنے کی کوشش کرتے ہیں تو خواتین ان پر ہنستی ہیں۔ اس کے بعد عظمیٰ نامی خاتون ہنستے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ ان کے مینیجر ہیں جنہیں ’اچھی تنخواہ‘ ملتی یے۔ پھر وہ اپنے مینیجر کو انگلش میں کچھ بولنے کو کہتی ہیں اور جو ابن دابوٹا ٹوٹی پھوٹی انگلش میں ایک فقرہ بولتا ہے تو دونوں خواتین ہنسنا شروع کر دیتی ہیں۔ یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ان دونوں خواتین پر اس حوالے سے تنقید کی گئی کی انہوں نے ایک غریب می یجر پر اپنی انگریزی زبان کی برتری ثابت کرنے کی کوشش کی۔
یاد رہے کہ کنولی کیفے سول نامی یہ ریستوران اسلام آباد کے مہنگے ترین ایف سیون مرکز میں واقع ہے جہاں ارد گرد اشرافیہ رہائش پذیر ہے۔ کیفے ایف سیون کی ایک گول مارکیٹ میں ہے جہاں اس کے علاوہ بھی چار پانچ دیگر کیفے موجود ہیں۔ جب اس حوالے سے مختلف میڈیا نمائندگان کی مینیجر اویس سے بات ہوئی تو انہوں نے بھی ویڈیو کے وائرل ہونے اور اس پہ منفی ردعمل آنے پر حیرانی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً دس سال سے یہاں کام کر رہے ہیں۔ ’خوش ہی تو ہوں ورنہ اگر کوئی مسئلہ ہوتا تو کہیں اور نوکری کر رہا ہوتا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ویڈیو ایک معمول کی گپ شپ کے دوران بنائی گئی جس کا مقصد ان کی دل آزاری کرنا نہیں بلکہ صرف ایک مذاق تھا جیسے فیملی میں آپس میں بیٹھ کر ہنسی مذاق کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں کیفے کنولی کی برانچ چار سال قبل 2016 میں کھولی گئی تھی جو عظمی چوہدری اور دِیا کی مشترکہ سرمایہ کاری ہے۔ دوسری طرف لاہور میں واقع کنولی کیفے کی فرنچائز کی جانب سے ایک بیان میں اس واقعے کی مذمت کی گئی ہے۔ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اردو اور انگریزی زبان میں جاری پوسٹ میں کہا گیا کہ کینولی لاہور، کینولی اسلام آباد کی جانب سے ریکارڈ کی گئی اس ویڈیو کی مذمت کرتا ہے۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ آپ کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ وائرل ویڈیو کینولی اسلام آباد کی مالکان کی جانب سے ریکارڈ کی گئی ہے جن کا کینولی لاہور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ کینولی لاہور علیحدہ فرنچائز اور کاروباری ادارہ ہے جس کی اپنی انتظامیہ ہے۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ کنولی لاہور اس قسم کے سلوک کی مذمت کرتا ہے اور یہ مانتا ہے کہ کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو خصوصاً اپنے ملازمین کی تضحیک کرے۔
اس تمام تر واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عظمیٰ، دیا اور ان کے ریستوران کے خلاف ٹرینڈ ٹاپ پر رہا اس واقعے پر ررد عمل دیتے ہوئے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے نجی ہوٹل کے مینجر کی انگریزی کا مذاق اڑانے والی خواتین کو انگریزی کا چیلنج دے دیا ہے۔ شنیرا اکرم نے بھی ٹوئٹر پر ریستوران کی مالکن خواتین کی اس حرکت کی شدید مذمت کی اور ملازم کا دفاع کرتے ہوئے اسے ’ہیرو‘ قرار دیا۔ اس کے علاوہ شنیرا اکرم نے انسٹاگرام اسٹوری پر وائرل ہونے والی ویڈیو شیئر کی اور دونوں خواتین پر طنز کرتے ہوئے کہا ’میں بھی بور ہورہی ہوں لہٰذا میں تم دونوں خواتین کو انگریزی کے مقابلے کا چیلنج دیتی ہوں‘۔
اس ویڈیو پر کسی سوشل میڈیا صارف نے خواتین مالکان کے رویے کو تکبر قرار دیا ہے تو کسی نے پاکستانی اشرافیہ کی امارت پرستی، حاکمانہ سوچ اور بری تربیت کی عکاسی قرار دیا ہے۔ ایک صارف نے تو خواتین مالکان کو ‘سستے انگریز’ کا لقب بھی دے دیا اور منیجر کو ہیرو قرار دے دیا۔
سوشل میڈیا پر تبصرے کیے جارہے ہیں کہ جب انگریزی ہماری مادری زبان نہیں ہے تو اسے روانی سے نہ بولنے میں شرمندگی کیوں ہو؟ شہریوں نے مالکان سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے ویڈیو پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا ’چونکہ ہم مالک ہیں اور ہم بور ہورہے تھے اس لیے چلو ہم ایک بہترین ملازم کا مذاق اڑاتے ہیں جو ہمارے ساتھ 9 سال سے کام کررہا ہے۔‘
صارفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہونے اور صوبائی اور علاقائی زبانوں سمیت 70 سے زائد زبانیں رائج ہونے کے باوجود انگلش ایک ایسی زبان ہے جس میں تعلیم حاصل کرنے اور گفتگو کرنے کو کئی لوگ نہ باعثِ فخر سمجھتے ہیں بلکہ جو انگریزی نہیں بول پاتا اس کا مذاق اڑانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کے عوام ہی اپنی قومی زبان کو زندہ رکھتے ہیں اور اس کی ثقافتی شناخت میں تسلسل پیدا کرکے اسے طاقت دیتے ہیں۔ اسی طرح دوسری طرف خواص یعنی اہل علم و فن کا طبقہ اسے ’اندر‘ سے طاقت ور بناتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں زبان کے ذریعے شناخت پر جس قدر اصرار ہے، اس قدر زبان کو عملی وعلمی و تخلیقی سطحوں پر طاقت سے ہمکنار کرنے پر نہیں ہے۔