کینسر زدہ عرفان کے لیے والدہ کا صدمہ جان لیوا ثابت ہوا

بولی وڈ کے بعد ہولی وڈ میں بھی اپنی شاندار اداکاری کا سکہ جمانے والے سیلف میڈ بھارتی مسلمان اداکار عرفان خان نے زندگی میں یوں تو کئی مشکلات جھیلیں، کینسر جیسے موذی مرض کا بھی کئی برس تک جم کر مقابلہ کیا۔ تاہم چند روز قبل ہندوستان بھر میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے دوسرے شہر میں اپنی والدہ کے جنازے میں شرکت نہ کرنے کا دکھ ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوا۔
خیال رہے کہ عرفان خان کو مارچ 2018 میں نیورو اینڈوکرائن کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد وہ کینسر کے علاج کیلئے لندن منتقل ہوگئے تھے۔ کچھ عرصہ قبل ان کی صحت بہتر ہوئی تو یہ دوبارہ سے فلمی دنیا کا حصہ بن گئے اور اپنی ہٹ فلم ہندی میڈیم کے سیکول انگریزی میڈیم میں کام کیا، رواں برس ریلیز ہونے والی انگریزی میڈیم عرفان خان کے کیریئر کی آخری فلم ثابت ہوئی۔ عرفان خان بری آنت کے انفیکشن کی وجہ سے چند روز پہلے ممبئی کے اسپتال میں داخل ہوئے تھے۔ اسی دوران جے پور میں مقیم ان کی والدہ قضائے الہی سے انتقال کر گئیں۔ عرفان خان اپنی خرابی صحت اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے والدہ کے جنازے میں ویڈیو لنک کے ذریعے ہی شریک ہوسکے تاہم اپنے ہاتھوں سے والدہ کا چہرہ تھامنے اور ان کا دیدار کرنے کی خواہش پوری نہ ہونے کا غم عرفان کے دل میں گھر کر گیا اور محض چار روز بعد عرفان خان بھی ہمیشہ کے لیے دنیا چھوڑ کر اپنی والدہ کے پاس پہنچ گئے۔
53 برس کی عمر میں کینسر کے باعث جان کی بازی ہارنے والے ورسٹائل ایکٹر صاحبزادہ عرفان علی خان نواب ہونے کے باوجود بہت کم نوابی لباس پہنے ہوئے نظر آتے۔ حتیٰ کہ ان کے اندر نوابوں والا غرور بھی نہیں تھا۔ البتہ ان کی شخصیت میں ایک تمکنت اور وقار تھا جو سامنے والے کو ان کے اسپیشل ہونے کا احساس ضرور دلاتا تھا۔ عرفان نہیں چاہتے کہ لوگ انہیں ان کے پس منظر کی وجہ سے پہچانیں، اسی لیے انہوں نے اپنے نام کے ساتھ صاحبزادہ کا خاندانی لقب ہٹا دیا تھا البتہ نام کے انگریزی سپیلنگز کو منفرد بنانے کے لیے عرفان اپنے نام کے پہلے انگریزی حرف تہجی آئی کے بعد سنگل آر کی بجائے ڈبل آر لکھتے تھے۔
عرفان خان، جے پور کی مسلم نواب خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ سعیدہ بیگم کا تعلق بھی ایک جاگیردار خاندن سے تھا۔ عرفان خان نے ایک ہندو لڑکی لیکھک ستاپا سکدر سے شادی کی تھی، جو عرفان کی کلاس فیلو تھیں۔ سکدر سے عرفان کے دو بیٹے بابل اور آیاس ہیں۔ عرفان خان کے دو بھائی عمران خان اور سلمان خان اور بہن رخسانہ بیگم جے پور میں ہی مقیم ہیں۔
نوابی ٹھاٹھ باٹھ چھوڑ کر جب 1987ء میں عرفان ممبئی آئے تو انہوں نے یہاں پر لاتعداد ٹی وی سیریلز میں کام کیا۔ چانکیا، سارا جہاں ہمارا، بنے گی اپنی بات، چندر کانتا اوراسپرش جیسی ہٹ ڈرامہ سیریلز نے عرفان خان کو نام بنانے میں مدد دی۔ کیریئر کے ابتدائی زمانے میں سٹار پلس کی ایک ڈراما سیریز’’ ڈر‘‘ میں عرفان خان نے ایک نفسیاتی سیریل کلر کا رول ادا کیا تھا جس نے بعد میں انہیں فلمی دنیا میں مضبوط ولن کے رولز دلوانے میں اہم کردار ادا کیا، اس کے علاوہ ٹی وی پر دوسرا مشہور رول ڈراما سیریل’’ کہکشاں‘‘ میں انقلابی اردو شاعر اور مارکشسٹ سیاسی راهنما مخدوم محی الدین کا کردار بھی عرفان خان نے بہ خوبی نبھایا اور اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔
تھیٹر اور ٹی وی پر عرفان خان کی جدوجہد جاری تھی کہ اسی دوران میرا نائر نے عرفان کو اپنی فلم’’ سلام بومبے‘‘ میں ایک چھوٹا سا کردار دیا۔ عرفان نے کیرئیر کے ابتدا ء میں’’ ایک ڈاکٹر کی موت ‘‘اور’’ سچ اے لانگ جرنی ‘‘ جیسی فلموں کے علاوہ اور بھی کئی فلموں میں کام کیا لیکن وہ کسی بڑے فلمی هدايت كار کی نظر میں نہیں آئے۔ متعدد ناکام اور ناقابل توجہ فلموں کے بعد بالآخر قسمت عرفان کے حق میں ہوئی اور انہیں لندن پلٹ ڈائریکٹر آصف کپاڈیا نے فلم ’’دا واریئر‘‘ میں کام دے دیا۔ یہ ایک تاریخی موضوع پر بننے والی فلم تھی جو صرف گیارہ ہفتوں میں مکمل ہوئی۔ ہماچل پردیش اور راجستھان کی خوب صورت لوکیشنز پر اس کی فلم بندی کی گئی تھی۔ 2001ء میں جب یہ فلم انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تو عرفان خان کو سب جاننے لگے۔ 2003ء میں عرفان نے رائٹر و ڈائریکٹر اسون کمار کی شارٹ فلم روڈ ٹو لداخ میں کام کیا اس فلم کو بھی انٹرنیشنل فیسٹیول میں پیش کیا گیا۔ بعد میں اس شارٹ فلم کو فل لینتھ فلم کی صورت میں بنایا گیا تو اس مرتبہ عرفان کا رول پہلے سے زیادہ مضبوط تھا۔ اسی سال عرفان نے ایک کامیاب فلم ’’مقبول‘‘ میں بھی کام کیا۔ اس فلم میں عرفان کا کردار مرکزی تھا اور یہ کردار شیکسپیئر کے ڈرامے میکبتھ کے مركزى کردار سے ماخوذ تھا۔ 2005ء میں فلم’’ روگ‘‘ ایسی فلم تھی جس نے بالی ووڈ میں عرفان کو ایک بار پھر نا قدین اور ناظرین کے سامنے امتحان کے لیے پیش کیا۔ اگرچہ عرفان کو اپنے کیرئیر میں لیڈنگ رولز کم ملے ہیں۔ زیادہ تر ولن اور سپورٹنگ رولز ہی کرتے رہے ہیں لیکن انہوں نے مختصر ترین کرداروں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں اور اپنے آپ کو منوایا، یہی عرفان کی انفرادیت تھی۔ اپنی ایک اور یادگار فلم پان سنگھ میں عرفان خان نے بھارت کے ایک مشہور ڈاکو کا کردار ادا کیا جو جو امیروں سے مال لوٹ کر غریبوں میں بانٹ دیتا تھا۔
2004ء میں عرفان کو فلم’’حاصل ‘‘کے لیے فلم فیئر بیسٹ ولن ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔ 2007ء میں عرفان نے ایک ہٹ فلم ’’میٹرو‘‘ کے لیے فلم فیئر بیسٹ سپورٹنگ ایکٹر کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ اس کے علاوہ اسی دوران میں فلم’’ دا نیم سیک ‘‘ بھی عرفان کی وجہ شہرت بنی۔ ان فلموں کے ذریعے انٹرنیشنل فلموں کے لیے عرفان خان کا راستہ ہموار ہوا اور انہیں ہالی ووڈ کی فلم اے مائٹی ہارٹ اور ایک امریکی کامیڈی ڈرامے ڈارجیلنگ لمیٹڈ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ بالی ووڈ میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کے باوجود عرفان خان نے ٹی وی سے ناتا نہیں توڑا۔ اپنی فلمی مصروفیات کے باوجود کئی پروگراموں میں بطور اینکر پرسن کام کیا۔
2008ء میں آسکر ایوارڈ جیتنے والی شہرہ آفاق بولی وڈ فلم "سلم ڈاگ ملین ایئر‘‘ میں عرفان کا رول ایک پولیس انسپکٹر کا تھا‘ اس فلم کے لیے انہوں نے اور فلم کی پوری کاسٹ نے آؤٹ اسٹینڈنگ پرفارمنس کا اسکرین گلڈا ایوارڈ جیتا۔ عرفان خان نے اپنے فلمی کریئر میں بالی وڈ کی سو سے زائد فلموں میں کام کیا جن میں پیکو اور مقبول جیسی کامیاب فلمیں شامل ہیں۔ ان کی ہالی وڈ فلموں میں لائف آف پائی، جوراسک ورلڈ، سلم ڈاگ ملینیئر اور دی امیزنگ اسپائیڈر مین شامل ہیں۔ ایک دور میں عرفان خان کو ایکشن فلموں میں کام کرنے کا شوق پیدا ہوا۔
فلم’’ نیویارک‘‘ میں انہوں نے ایک ایف بی آئی ایجنٹ کا کردار نبھا کر یہ شوق بھی پورا کر لیا تھا۔ عرفان خان برج جدی کے زیراثر 7 جنوری 1967 کو پیدا ہوئے۔ اس برج سے تعلق رکھنے والے اکثر افراد ہمیشہ اپنے دل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے اندر چھپے ہوئے ٹیلنٹ کو بروئے کار لاکر بڑا نام کماتے ہیں۔ جس طرح برج جدی سے تعلق رکھنے والے ایلوس پریسلے نے موسیقی کی دنیا میں نام بنایا۔ جس طرح طبیعات کے ماہر پروفیسر سٹیفن ہاکنگز نے کائنات کے پوشیدہ اسرار کا کھوج لگایا،
اسی طرح عرفان خان نے فنِ اداکاری میں وہ نئی روایات متعارف کروائیں جو اس شعبے میں نئے آنے والوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button